گول میزکانفرنس کیوں؟

گول میزکانفرنس کیوں؟
گول میزکانفرنس کیوں؟

  

 چند دن قبل صدر مملکت آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی طرف سے اچانک ایک بیان آیا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں اور ملکی سلامتی کسی بڑے خطرے میں ہے۔اس لئے فوری طور پر ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک میزپر بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔اس بیان کے فوراً بعد ایم کیو ایم کا وفد ملک کے مایہ ناز سیاستدانوں سے ملاقات کے لئے چل دیا۔ایم کیو ایم والوں نے اس سلسلے میں جماعت اسلامی،مسلم لیگ(ق)، اے این پی اور عوامی مسلم لیگ کی قیادت سے ملاقاتیں کیں ان ملاقاتوں میں ایم کیو ایم کے وفد نے زور دیا کہ چونکہ ملکی صورت حال خاصی نازک اور گھمبیر ہے۔ساری سیاسی جماعتوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اس مشکل گھڑی سے نکلنے کی کوئی تدبیر سوچنی چاہیے۔اس سے پہلے کہ عوام کا اعتماد کہیں جمہوریت ہی سے نہ اٹھ جائے، کیونکہ آج کوئی بھی اکیلی جماعت ملک کو موجودہ مسائل سے نکالنے کی پوزیشن میں نہیں۔

ان مسائل میں بلوچستان کا مسئلہ ہے۔کراچی میں قتل و غارت اور بھتہ مافیا کا مسئلہ ہے۔بجلی ،گیس کے مسائل ہیں، فرقہ واریت اور دہشت گردی،لاقانونیت اور انتہا پسندی کی وجہ سے ہمارا ملک اقوام عالم میں تنہا ہورہا ہے اور حکومتی عمل داری تقریبا ختم ہوکر رہ گئی ہے۔جہاں تک ایم کیوایم والوں نے مسائل کا ذکر کیا ہے، وہ تو درست نشاندہی ہے، لیکن کیا ان مسائل کو پیدا کرنے والے کہیں باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں یایہ موجودہ اتحادی حکومت ہی کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔پاکستان کے عوام نے 2008ءکے الیکشن میں جن سیاسی پارٹیوں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے مینڈیٹ دیا تھا، اس مینڈیٹ کا موجودہ اتحادی حکومت نے کیا حشر کیا۔موجودہ اسمبلیوں میں اور حکومتی اتحادی میں ماسوائے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے تقریباً تمام سیاسی جماعتیں حصہ بقدر جثہ برابر کی شریک ہیں۔ان ساڑھے چارسالوں کی حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔اب جب ان اتحادیوں کا ٹائم ختم ہورہاہے اور نئے الیکشن کا وقت قریب آن پہنچا ہے تو انہیں اچانک یاد آیا کہ عوام ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور آﺅ سب مل کر اس عوام کو کوئی نئی گولی دینے کی سوچیں کہ اگلے آنے والے سالوں میں اس نہتی عوام کی کھال کیسے اتارنی ہے۔

موجودہ اتحادی حکومت نے کیا سابقہ ساڑھے چارسال میں کبھی کراچی کے امن پرسنجیدہ کوشش کی یا صرف لڑائی جھگڑے میں مال ہی بنایا اور اب پرانا مال گول کرنے کے لئے گول میز کانفرنس کا شوشہ۔کیا بلوچستان کے مسئلہ پر کبھی کوئی کوشش ہوئی، بالکل بھی نہیں! اب تو چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کہہ دیا ہے کہ بلوچستان میں آئینی بریک ڈاﺅن ہوچکاہے۔جہاں تک داخلی اور خارجی پالیسی کا تعلق ہے، اس کے لئے بھی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی،جس ملک کو یہی پتہ نہ ہو کہ اس کا وزیرخزانہ اور وزیرداخلہ کس ملک کا شہری ہے، اس ملک کی داخلہ پالیسی اور معیشت کبھی بھی بہترنہیں ہوسکتی،جہاں تک کرپشن ا ور خراب طرز حکمرانی کا تعلق ہے ، اس کا اندازہ لگانے کے لئے چیئرمین نیب جو کہ حکومت ہی کا آدمی ہے، وہ فرماتا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 6سے 8ارب روپیہ کی کرپشن ہورہی ہے۔یہ کرپشن کون کررہا ہے، اگر حکومت کے اتحادی اس کرپشن میں ملوث نہیں تو کرپٹ لوگوں کو پکڑا کیوں نہیں جاتا اور اگر خود ہی بھتہ لینے والوں اور کرپشن میں شامل ہیں تو پھر گول میز کانفرنس کرنے کی بجائے اپنا طرز حکمرانی ٹھیک کریں۔

کیا موجودہ اتحادی حکومت والے اپنے صدر کے سوئس اکاﺅنٹ میں جمع شدہ پاکستانی پیسہ جو کہ 60کروڑ امریکی ڈالر بتایا جاتا ہے،بچانے کے لئے سپریم کورٹ سے محاز آرائی نہیں کررہی۔کیا اسی 60کروڑ ڈالر اور توہین عدالت میں ایک وزیراعظم فارغ نہیں ہوا اور دوسرا وزیراعظم اپنے اقتدار کے بقیہ دن نہیں گن رہا۔کیا موجودہ اتحادی حکومت نے توہین عدالت بل سپریم کورٹ کو نیچا دکھانے کے لئے صرف 8منٹ میں اسمبلی سے منظور نہیں کروایا۔کیا حکمرانوں کے اپنے بیٹے ہی این آئی سی ایل، حج سکینڈل، ایفی ڈرین طرح کے کیسوں میں ملوث نہیں۔بجلی کی لوڈشیڈنگ جو کہ جان بوجھ کر پیدا کی گئی۔عوام اپنے نمائندے اس لئے منتخب نہیں کرتی کہ وہ سارے کے سارے خاندان ہی اسمبلیوں اور حکومت میں چلے جائیں اور سارا خاندان ہی کرپشن میں مبتلا ہو جائے، بلکہ عوام ان کو ووٹ اس لئے دیتے ہیں کہ وہ منتخب ہو کر ان کے لئے اچھی پالیسیاں بنائیں۔

عوام کے جان و مال کی حفاظت کریں۔ملک کو اندرونی بیرونی خطرات سے بچائیں۔ اقوام عالم میں ترقی، خوشحالی اور باعزت زندگی گزارنے کے راستے نکالیں، لیکن موجودہ حکمران تو صرف مال بنانے کے چکر میں دن رات مصروف رہے ہیں۔اس حکومت کے ساڑھے چار سالوں میں جتنی کرپشن ہوئی ہے، شائد سابقہ 64سالوں میں اتنی نہ ہوئی ہو، انہی ساڑھے چارسالوں میں ملک کا قرضہ 6700ارب روپیہ سے بڑھ کر 12000ارب روپے ہوگیا ۔کیا موجودہ قومی اسمبلی نے اپنے اجلاسوں میں جو بھی قراردادپاس کی، وہ چاہے بجلی، مہنگائی ،لاقانونیت بارے ہو یا سلالہ چیک پوسٹ بارے ہو یا ڈرون حملوں بارے ہو کیا کسی ایک قرارداد پر یہ حکومت عمل کروا سکی۔اب چونکہ حکومت کے جانے کا وقت قریب آن پہنچا ہے، اس لئے گول میز کانفرنس کا شوشہ صرف اور صرف مسائل سے توجہ ہٹانے کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ایم کیو ایم اور موجودہ اتحادی ٹولہ صاف صاف اپنی ناکامی کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ ہم بُری طرح فیل ہوگئے ہیں، اس لئے نئے الیکشن کی طرف بڑھا جائے اور عوام سے رائے لی جائے۔

مزید :

کالم -