قومیتوںکی تشکیل میں موسیقی کا کردار

قومیتوںکی تشکیل میں موسیقی کا کردار
قومیتوںکی تشکیل میں موسیقی کا کردار

  

تیس سال سے آرزو مند رہنے کے بعد آخر کار مَیں نے اس موسم ِ گرما میں میڈی سن سکوائر گارڈن میں ہونے والے بروس سپرنگس ٹین کے کنسرٹ میں شرکت کی ہے۔ پاکستان میں آنکھ کھولنے والے ایک صحافی ، جو سپرنگس ٹین کے میوزک کو جنگی میدانوںسے لے کر شادی کی تقریبات میں ساتھ لے گیا ہو، کے لئے یہ ایک جانفزا تجربہ تھا۔ موسیقی، توانائی اور صوت و صدا جو سٹیج پر رقصاں تھی ، ای سٹریٹ بینڈ کی پرفارمنس ، جس کو ڈیوڈ ریمنک نے اپنی حالیہ پروفائل میں شامل کیا، ان تمام تمناﺅں کی تکمیل کر دی جو یورپ میں سفر کے تین عشروں سے میرے دل میں جاگزیںتھیں۔ بروس کو دیکھ کر مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اُس کی موسیقی عام مغربی موسیقی سے جو ڈانس ہالوں میں سنائی دیتی ہے، بہت مختلف ہے۔ ساڑھے تین گھنٹوںکے دوران ہر کوئی.... نوجوانوںسے لے کر معمر افراد.... کھڑے ہو کر اس کی چند ہفتے پہلے ریلیز ہونے والی البم ”ریکنگ بال“ کے گیت ساتھ ساتھ گارہاتھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ سب کو زبانی یاد ہیں۔

سپرنگس ٹین امریکی کلچر اور معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ میوزک اور جسمانی حرکات کے ذریعے بروس شائقین کو گٹار کے تاروں پر ایک ایک ضرب کے ساتھ وارفتگی کے عالم میں لے جاتا ہے۔ ایک مختصر عرصے کے لئے ہر شخص لاکھوں دیگر افراد کے ساتھ ایک والہانہ پن کی کیفیت میں شریک ہوجاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح جنرل ضیا الحق نے اپنے دور ِ آمریت میں 1977ء سے لے کر 1988ءتک عوامی اجتماعات پر پابندی لگا رکھی تھی اور ایک جگہ پانچ یا اس سے زیادہ افراد جمع نہیںہو سکتے تھے۔ اس عالم میں ثقافتی سرگرمیوں کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ شاید پاکستان ابھی بھی آمریت کی وراثت کے آسیب سے آزاد نہیں ہو سکا ۔ اگر چہ اب پاکستان میں فلمیں بھی بن رہی ہیں، ڈرامہ بھی ہے اور موسیقی بھی، مگر ایسے کوئی ہال نہیں ہیں، جہاں رقص و موسیقی کے پروگرام ہو سکیں یا ناظرین سٹیج پرفارمنس دیکھ سکیں۔ یہاں زیادہ تر ثقافتی سرگرمیاں یو ٹیوب پر دکھائی جاتی ہیں یا پھر نجی محفلوں میں ہوتی ہیں۔ سپرنگس ٹین کے مداحوں میں لاکھوں پاکستانی بھی شامل ہیں، تاہم پاکستان میں رہنے والے اسے صرف سوشل میڈیا پر ہی دیکھ سکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں 18 ملین لوگ آباد ہوں اور جس کے شہر دنیا کے بڑے شہروں میں شمار کئے جاتے ہوں ، ایک بھی ایسا ہال نہ ہو، جہاں سپرنگس ٹین جیسے فن کار اپنے فن کا مظاہر کر سکیں۔

یہ بات کرتے ہوئے مجھے شدید صدمہ بھی ہے، کیونکہ ثقافتی سرگرمیوںسے ہی وہ گروہ وجود میں آتا ہے جو آمریت ، دقیانوسی سوچ، دولت مند طبقے، جو جمہوریت اور شخصی آزادی کی مخالفت کرتے ہیں، کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ بہت سے مسلمان ممالک میں ثقافتی حد بندیاں کچھ اس انداز میں ڈھالی گئی ہیں کہ مرد وخواتین نہ ایک دوسرے کے ساتھ رقص کر سکتے ہیں اور نہ ہی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان نے ان خواتین کو بھی سزا دی، جنہوںنے صرف خاندان کی کسی شادی کی تقریب میں ڈانس کیا تھا۔ اس معاملے میں شاید اسلام کا اتنا عمل دخل نہ ہو.... (اگرچہ نام اسلام کا ہی استعمال کیا جاتا ہے).... جتنا اس سوچ کا ہے جو اجتماعیت اور ثقافتی سرگرمیوںکے ذریعے ہونے والے قوم سازی کے عمل کو روکنا چاہتی ہے۔ آج بھی پاکستان میں (اگرچہ جمہوریت ہے )انتہا پسند گروہ شاید بڑے شہروں میں موسیقی کے پروگراموںکی اجازت نہیںدیں گے۔ ان کی دھمکیوںکی وجہ سے لوگوںنے اجتماعیت کی حامل ثقافتی سرگرمیوںمیں حصہ لینا ہی چھوڑ دیا ہے۔

 ثقافت کا مقصد سول سوسائٹی کو تقویت دینا، عوام میں اجتماعیت کا احساس پیدا کرنا اور نسلی تفاوت (جنریشن گیپ) کو کم کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ ثقافت درست ہو یا غلط، اس میںکوئی شک نہیںہے کہ آج امریکہ دنیا کا ثقافتی علم بردار ہے اور اس کی ثقافت کا سب سے طاقت ور اظہار ”راک ڈانس “ ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہالی وڈ کی فلمیں اور مغربی ممالک میں بننے والے ٹی وی ڈرامے بھی عمدہ تفریح مہیاکرتے ہیں، مگر موسیقی کے پروگراموںکے ذریعے عوام کو ایک چھت تلے یا ایک میدان میں جمع کر نا اور ان کے دلوںکی دھڑکنوں کو ایک تال پر گرمانا ، خلوت گاہ میں بیٹھ کر فلم یا ڈرامہ دیکھنے سے بہت مختلف احساس ہے۔ جوش ِ جذبات میںلوگ ایک دوسرے کو گلے سے لگاتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں، مل کر گاتے ہیں اور جب وہ پروگرام کے بعد گھر جاتے ہیں تووہ ایک یگانگت کی لڑی میں موتیوں کی طرح پروئے جا چکے ہوتے ہیں۔ جب زندگی کے حقائق بہت تلخ ہوجاتے ہیں تو کیا ہمارے ہونٹ کچھ گنگنانا پسندنہیںکرتے، کیا ہم کسی سے بات چیت کر کے دل کا غبار کم کرنے کی کوشش نہیںکرتے ، کیا زندگی کی تیز دھوپ میں ہم کسی ”ون دے بوٹے “ .... شریف کنجاہی کی نظم.... کی تلاش میں نہیں رہتے ؟

اس ”نظریہ ءضرورت “ سے آپ کو احساس ہو گیا ہو گاکہ سپرنگس ٹین کی میرے لئے کیا اہمیت ہے ؟ باب ڈیلن کے بعد شاید کوئی بھی راک سٹار ایسا نہیںجو سپرنگس ٹین کی طرح موسیقی کی دھنوںسے دوستی، اجتماعیت اور جوش و جذبہ کی فضا قائم کر سکتا ہو۔ امریکی معاشرے میں جو یگانگت کا احسا س پایا جاتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ راک میوزک بھی ہے۔ اس سے نوجوانوں اور ان کے آباﺅ اجداد کے درمیان ذہنی فرق کی خلیج بھی قدرے کم ہو جاتی ہے۔ اس کی موسیقی لوگوںمیںایک دوسرے کے لئے قربت کا احساس پیدا کرتی ہے اور وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا آسانی سے تعین کر لیتے ہیں، تاہم پاکستان بالکل تہی داماں نہیںہے۔ آج نوجوانوںکے پسندیدہ بہت سے پاپ سٹار یہاںموجود ہیں، جیسا کہ علی ظفر یا عاطف اسلم ، جو ، اگر موقع(اور جگہ بھی) ملے ، قومیت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر تے ہوئے ریاست کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔

رمنک کا کہنا ہے کہ لبرل طبقہ موسیقی کو سیاست کے ساتھ مدغم کر تا رہا ہے۔ بوب ڈیلن پر تنقید کی گئی کہ اس نے روایتی گٹار کو چھوڑ کر الیکٹرک گٹار کیوں اپنایا اور پھر ویتنام جنگ کے مخالف نغمے اور لوک موسیقی چھوڑ کر راک موسیقی کی طرف کیوں راغب ہوا۔ ایک درمیانے محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والا سپرنگس ٹین، جو اب ارب پتی ہو چکا ہے، پر الزام ہے کہ وہ عوام کی فلاح کی بات دل کی گہرائیوںسے نہیں کرتا ، تاہم ان راک سٹارز کے حوالے سے ایک بات درست ہے کہ وہ موسیقی کی آڑ میں سیاست نہیںکرتے۔ میرا نہیںخیال کہ سپرنگس ٹین افغان جنگ کے حوالے سے کوئی گیت بنائے گا، مگر وہ امریکی عوام کے جذبوںکی صدا ضرور بن جاتا ہے۔ اس کے گیت سن کر لگتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہے اور اس کے پیش ِ نظر صرف انسانی قدریں اور محبت ہے۔

بطور ایک رپورٹر جس نے 32سال تک افغانستان اور وسطی ایشیا میںہونے والی خونی جنگوں اور پاکستان میںہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کی ہو، مَیں سپرنگس ٹین کو ہمیشہ اپنے ساتھ پاتاہوں.... چاہے کہ پرانے زمانے کی کیسٹ ٹیپ ہو یا آج کی سی ڈی یا میموری کارڈ۔ جب مَیں دن کو قتل وغارت دیکھتاہوں تو رات کواس کا گانا ضرور سنتا ہوں۔ اس کی دل کی دھڑکن تیز کردینے والی آواز ہمیشہ بہت سکون بخش ہو تی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ بلند آواز میں ان گانوں کو لے کر گلیو ں میں جاﺅں اور جنگجوﺅںسے کہوں کہ ذرا ہاتھ روک کر اس کی آواز سنیں۔

(مصنف، نامور پاکستانی کالم نگار اور افغان امور کے ماہر ہیں۔ جن کے کالم متعدد بین الاقوامی اخبارات اور بی بی سی آن لائن پر شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تحریر کردہ کتاب ”طالبان“ World Best Seller کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔)

مزید :

کالم -