بھتہ مافیا ....لمحہ ¿فکریہ!

بھتہ مافیا ....لمحہ ¿فکریہ!
بھتہ مافیا ....لمحہ ¿فکریہ!

  

بھتہ مافیا نے کراچی کے بعد پنجاب کی طرف رخ موڑ لیا ہے جس وجہ سے تاجروں میں خوف و ہراس پایا جاتاہے ۔ شالیمار اور مغل پورہ میں نا معلوم بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ درج کئے گئے ہیں ۔ بھتہ خوروں کا محترک ہونا پنجاب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔بھتہ خور ٹیلی فون پر تاجروں سے بھاری رقوم کا مطالبہ کرنے کے علاوہ انہیں حراساں بھی کر رہے ہیں ۔ یہ معاملہ غور طلب ہے کہ ایک ہی روز (مغل پورہ) سرکل میںبھتہ خوروں کے خلاف 3 مقدمات ، جیولر سیٹھ ارشد اور تاجر کامران کی مدعیت میں درج کئے گئے ہیں جن کو نا معلوم شخص نے فون پر بھاری رقم ماہانہ دینے کا مطالبہ کیا اور بھتہ نہ دینے پر خطرناک دھمکیاں دی گئیں۔ مغل پورہ تھانہ میں مقدمات کے علاوہ شمالی چھاﺅنی ۔ گلبرگ ۔ شادباغ اور گرین ٹاﺅن تھانوں میں مقدمات کے اندراج کی شنید ہے۔ تھانہ ساندہ کے علاقہ جوائے شاہ روڈ پر کچھ افراد پر بھتہ خوری کا الزام ہے ،جن کے متعلقہ کہا جاتا ہے کہ ایک پولیس کا اعلیٰ افسر ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

بھتہ خوری تیزی سے لاہور میںمتحرک ہو رہی ہے۔ تاجروں نے جرا¿ت کا مظاہر ہ کر کے مقدمات درج کروائے ہیں جو کہ پولیس کے لیے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے لہذا پولیس کو اپنے فرائض ذمہ داری سے سر انجام دینے ہونگے اور بھتہ خوری کے مرتکب افراد کا کھوج لگا کر انہیں کیفر کر دار تک پہنچانا ہوگا،تا کہ بھتہ خوری کی لعنت پر ابتداءہی میں قابو پایا جا سکے یہ امر توجہ طلب ہے کہ (ق) لیگ (پنجاب) کے اراکین صوبائی اسمبلی عامر سلطان چیمہ ، ڈاکٹر محمد افضل اور سردار آصف نکئی نے پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کروائی گئی ہے کہ پنجاب میں بھتہ مافیا اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ کراچی ۔ راولپنڈی ۔ اور فیصل آباد کے تاجروں کو دھمکی آمیز کالز اور پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں بھی بھتہ مافیا کر رہا ہے جس وجہ سے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے ،لہٰذا اس کی بیخ کنی وقت کا تقاضا ہے۔ فوری کارروائی نہ کی گئی تو حالات کراچی جیسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

 جرائم کا خاتمہ اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جو کہ ٹھیک طریقے سے پوری نہیں ہو رہی ۔ لاہور کےCCPOنے تاجروں سے ملاقات کے دوران یقین دلایا کہ تمام مقدمات نا معلوم افراد کے خلاف درج کئے گئے ہیں بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ یہ کام خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیا جاررہا ہے تا ہم CCPOاور DIGاپریشن اورDIGتحقیقات کی سربراہی میں دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور جو اصل حالات کا جائزہ لے کر سماج دشمن عناصر کی سر کوبی کریں گی۔ اس صورتحال سے دکھائی دیتا ہے کہ پولیس کے اعلی افسران بھتہ مافیا کی حرکات سے بخوبی آگاہ ہیں اور اگر شروع سے ہی بھتہ خوروں کی سرکوبی کی جاتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے، پولیس نے گزشتہ دنوں کچھ بھتہ خوروں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن مسئلہ بھتہ خوروں کی گرفتاری کا نہیں بلکہ ان کی بیخ کنی کا ہے۔بھتہ خوری کا رجحان پنجاب کے اضلاع میں پایا جانا لمحہ فکریہ ہے ؟وزیر اعلی (پنجاب) ، انسپکٹر جنرل پولیس (پنجاب) اور CCPO لاہور سے استدعا ہے کہ وہ بھتہ مافیا کے خاتمہ کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں تا کہ تاجر برادری میں پیدا شدہ خوف و ہراس کی فضا ختم ہو سکے ،اسی میں عوام کی بہتری اور بھلائی ہے اور یہ بات امن کے لیے بھی ضروری ہے لہذا محتاط ہو کر امن و عامہ کو بحال رکھنا ہوگا ۔      ٭

مکرمی! مَیں نہایت غریب ہوں، میرا کوئی روزگار نہیں، نہ اپنا مکان ہے، بوڑھا انسان ہوں، میرا کوئی سہارا وسیلہ نہیں، نہ کوئی میری مدد کرنے والا، محتاج لاچار ہو چکا ہوں، دُنیا کا کوئی رشتہ نہیں جو میری مدد کرے۔ ماہِ رمضان شریف میں خدا تعالیٰ اور نبی پاک کے نام پر اپیل ہے کہ غریب بندہ نے اپنی حافظہ قرآن پاک بیٹی کی شادی کی تاریخ مقرر کی ہے، جو عید کے بعد ہے۔ میرے پاس اپنی بیٹی کی شادی اور رخصتی کرنے کے لئے کوئی چیز یا رقم نہیں کہ مَیں اپنی بیٹی کا فرض ادا کر سکوں، غریب بے سہارا ہو چکا ہوں، بہت پریشان حال ہوں، میری اپیل منظور فرما کر میری مالی امداد فرمائی جائے کہ غریب بندہ عاجز اپنی بیٹی کا فرض باعزت طریقے سے ادا کر سکے۔ خادم اعلیٰ پنجاب میری مدد فرمائیں۔ مَیںآپ کی نظر کرم کا محتاج ہوں اور مستحق ہوں، دُعائیں دیتا رہوں گا۔ اللہ آپ کا بھلا فرمائے۔

( ظہور احمد ولد محمد امین

مزنگ چوک قرطبہ چوک، لاہور فون0322-6913670:)

مزید :

کالم -