میڈیا کی اہمیت اور احتساب

میڈیا کی اہمیت اور احتساب
میڈیا کی اہمیت اور احتساب

  



آئیے ایک بار پھر میلکولم ایکس کو یاد کرتے ہیں، جس نے کہا تھا:

Media is the most powerful entity on earth. They have the power to make innocent guilty and guilty innocent and thats power. Because they Control the minds of masses.

”میڈیا اس کرئہ ارض کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے اختیارات ہیں، جن کی بدولت یہ معصوم کو گنہگار اور گنہگار کو معصوم بنا سکتا ہے اور یہی اصل قوت ہے کیونکہ یہ عوام الناس کے اذہان پر دسترس رکھتا ہے۔ دور جدید میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون میڈیا ہے۔ جسے معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے تمام افعال (اچھے یا بُرے) کے بارے میں عامیوں تک اطلاعات کی رسائی کے علاوہ یہ افراد کی ذہن سازی کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے جدید معاشروں میں عوامی شعور کے بلند ترین سطح (باقی دنیا کے مقابلے میں) پر پہنچ جانے میں میڈیا نے ہی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ گلوبل ویلیج کے اس دور میں میڈیا کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں دو چند ہو چکی ہے۔ 24/7 جاری رہنے والی الیکٹرانک میڈیا کی نشریات نے عوام کی اکثریت کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز نے اپنی نشریات کا آغاز 2000ء کے اوائل میں کیا اور پانچ سال کے عرصے میں ان کی تعداد50 سے زائد ہوگئی اور آج2013ءمیں 150 سے زائد ٹیلیویژن چینلز (نجی شعبے میں) ملک میں اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے، جن میں سے 85 چینلز خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام پیش کرنے تک مخصوص ہیں۔ نومبر1964ءمیں اپنی نشریات کا آغاز کرنے والا پاکستانی ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) 90ءکی دہائی کے اواخر تک عوام الناس کے لئے خبروں کی رسائی کا واحد ذریعہ تھا (پرنٹ میڈیا کے علاوہ) لیکن نجی ٹیلی وژن چینلز کی آمد نے گویا پورا منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا۔ اب ناظرین کے لئے تفریحی اور حالات حاضرہ کے پروگراموں کے لئے وسیع چوائس موجود ہے۔ اس لئے الیکٹرانک میڈیا میں بھی مسابقت کی فضا ہے جو بہت سے مسائل کا سبب بھی بنی ہے۔

2000ءسے 2007ءکا درمیانی عرصہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی ارتقاءکا دور ہے۔ اس دوران اخباری صحافت سے وابستہ بہت سے نامور نام الیکٹرانک صحافت میں داخل ہوئے جو ظاہر ہے ان کے لئے نیا تجربہ تھا۔ ان میں سے بیشتر شہرت کے اس مقام سے ابھی کوسوں دور تھے، جو الیکٹرانک میڈیا میں آمد کی بدولت انہوں نے حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا چلا گیا اور آج الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز کی صورت میں معاشرے میں ایک نئی اشرافیہ جنم لے چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2007ءکے بعد صحافت کے شعبے میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کی اکثریت اس بات کی خواہش مند دکھائی دیتی ہے کہ وہ اینکر بننے میں کامیاب ہو جائیں۔

 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو طبقہ معاشرے میں اثر و رسوخ، دولت اور شہرت کے حصول میں آگے نکل جائے اس کے کردار کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی ہوتا ہے کہ اس کے احتساب کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت میڈیا (الیکٹرانک میڈیا) کے حوالے سے بھی درپیش ہے۔

سول اور فوجی بیورو کریسی کی اہمیت کسی بھی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں بھی مسلمہ ہے، بلکہ ہمارے ہاں تو بیوروکریسی کو ملک کا اصل حکمران گردانا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اشرافیہ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو جاگیر، سرمائے اور خاندانی اثر و رسوخ (ہمارے ہاں اس کی مثال خانقاہوں کے سجادہ نشین ہیں) کی بناءپر یہ اہمیت حاصل کرتی ہے۔ دوسری وہ ہے جو ذہانت اور قابلیت کے بل بوتے پر یہ مرتبہ حاصل کرتی ہے چونکہ پاکستان میں فوجی اور سول بیورو کریسی کو یہ زعم (جو کسی حد تک درست بھی ہے) رہا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کی بناءپر اشرافیہ کے اس طبقے میں شامل ہوئے ہیں۔ اس لئے اس طبقے کا خیال ہے کہ قومی مفاد کے اصول و ضوابط طے کرنے کا حق بھی انہی کو حاصل ہے اور ان کے نزدیک درست سمجھی جانے والی شے تمام طبقات کے لئے قابل قبول ہونی چاہئے۔ میڈیا کے مملکت کے چوتھے ستون بننے سے اس طبقے کے مفادات کو نسبتاً زک پہنچی اور عوام الناس کے اذہان میں یہ بات راسخ ہونے لگی کہ قابلیت اور ذہانت کی بنیاد پر اشرافیہ کے ایک اور طبقے نے جنم لیا ہے اور وہ میڈیا پرسنز ہیں۔

اگرچہ میڈیا کے کردار کے حوالے سے تمام طبقات میں ہی بحث کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس ملک کی عسکری اور سول بیورو کریسی کو میڈیا کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں، سو وہ اس کا بَرملا اظہار بھی کر رہی ہیں۔ بلاشبہ اس وقت میڈیا کے کردار پر سب سے زیادہ انگلیاں جس حلقے میں اٹھائی جا رہی ہیں، وہ یہی سول اور فوجی بیورو کریسی ہے۔ کوئی میڈیا پرسنز کو کسی نئی گریٹ گیم میں شامل ہو کر ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے تو کسی کا خیال ہے کہ کچھ مخصوص میڈیا ہاو¿سز غیر ملکی قوتوں کے لئے کام کرتے ہوئے ان کے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اگرچہ ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ادارے ان تمام میڈیا پرسنز کے حوالے سے کسی قسم کا ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہیں، جن پر یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار ہیں، لیکن اس کے باوجود میڈیا ہاو¿سز کو از خود ایسے میکانزم بنانا ہوگا، جس کے ذریعے میڈیا میں شامل کالی بھیڑوں کا پتہ لگا کر ان سے پیچھا چھڑوایا جا سکے۔ دوسری جانب میڈیا کے احتساب کا نعرہ مستانہ بلند کرنے والوں کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ریاست کا ڈھانچہ کمزور ہونے کے باعث یہاں کا احتساب کا نظام بھی نہایت شکستہ ہے۔ ماضی میں ملک کی دولت لُوٹنے والوں میں سیاست دان، بیوروکریٹس اور جرنیل سبھی شامل رہے ہیں۔ اگر انہیں احتساب کے شکنجے میں نہیں لایا جاسکا تو محض میڈیا کا احتساب کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ اس حقیقت سے کسی ذی شعور کو انکار نہیں ہو سکتا کہ گزشتہ عشرے کے دوران ملک میں سیاسی شعور کے بڑھنے اور عوام اپنے حقوق کا ادراک پیدا کرنے میں میڈیا نے ہی سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے میڈیا پر انتشار پھیلانے کا الزام عائد کرنے والوں کو حالات کا تمام پہلوو¿ں سے جائزہ لے کر احتساب کے کسی ایسے نظام کو وضع کرنے کا مطالبہ کرنا چاہتے، جس کے شکنجے سے میڈیا سمیت کسی بھی شعبے میں کوئی بدعنوان فرد نہ بچ جائے۔   ٭

مزید : کالم