14اگست.... ڈی چوک کا منظر

14اگست.... ڈی چوک کا منظر
14اگست.... ڈی چوک کا منظر
کیپشن: pic

  

اس سال 14اگست کا موسم کیسا ہو گا؟موسمی ماہرین یقینا اس کے بارے میں پیشگوئی کر سکتے ہیں، لیکن آزادی کے اس دن سیاست میں کتنی تپش ہو گی اس حوالے سے سیاسی پنڈت تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف حکومت نے یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے اسلام آباد کے ڈی چوک میں قومی سطح پر ایک باوقار تقریب کے انعقاد کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف عمران خان بھی اسی دن 10 لاکھ کا مجمع جمع کر کے حکومت کی چھٹی کرانے کی تیاری میں مصروف ہیں۔اس حوالے سے میڈیا پر قلم کاریاں اور زبان درازیاں عروج پر ہیں۔ اہل دانش اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفاد کے مطابق راگ الاپ رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس تقریب میں شرکت کے لئے قومی سطح پر لیڈروں کو بھی دعوت دی جا رہی ہے۔ یہ دعوت کون کون سے سیاستدانوں کو دی جاتی ہے؟ اس کا اندازہ آئندہ ایک دو ہفتے میں ہو جائے گا۔ کون سی سیاسی پارٹیاں اس میں جانے کا فیصلہ کرتی ہیں اور کون سی اس میں شامل نہیں ہوں گی یہ باتیں بھی 14اگست سے پہلے طے ہو جائیں گی۔ دوسری طرف تحریک انصاف بھی اپنے سونامی میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کے لئے سیاسی رہنماﺅں سے رابطے میں ہیں۔ اس طرح اگلے دو ہفتوں میں اس سیاسی کشمکش میں دو واضح دھڑے سامنے آ جائیں گے۔

ڈی چوک میں معرکہ لگنے میں ابھی ڈیڑھ ہفتہ باقی ہے۔دونوں طرف سے اس میدان میں برتری ثابت کرنے کے لئے سیاسی اور نفسیاتی حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو میاں نواز شریف کی سیاسی اور اخلاقی پوزیشن مضبوط نظر آتی ہے کیونکہ وہ جمہوری اور آئینی طریقے سے اقتدار میں ہیں اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے بقول میاں صاحب کا وزیراعظم ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ قومی دن منانے کی روایت زندہ قوموں کی نشانی ہے ۔یہ دن اتحاد کی علامت ہے اور اس مقصد کی تجدید ہے، جس کے حصول کے لئے ہمارے آباﺅ اجداد نے بےشمار قربانیاں دیں ہیں۔ میاں صاحب کی طرف سے سیاسی جماعتوں کو اس قومی دن کے موقع پر اکٹھے ہونے کی دعوت دینا ان کی قومی سوچ کا عکاس ہے، جبکہ خان صاحب آئینی اور قانونی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر میچ اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی کھیل کو جیتنے کے لئے اصول و ضوابط کے مطابق گراﺅنڈ میں آنا پڑتا ہے اور کھیل کی شرائط کو فالو کرتے ہوئے گراﺅنڈ میں جیت کے لئے اپنی صلاحیتیں اور طاقت استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ خان صاحب آپ اپنی توانائیاں رولز سے ہٹ کر استعمال کریں گے، تو سیاسی میدان میں ہار کے ساتھ ساتھ باہر بھی ہو سکتے ہیں۔ وطن سے محبت کرنے والا ہر فرد تشویش میں مبتلا ہے کہ جس طرح کے حالات بن رہے ہیں14اگست کو اسلام آباد کے ڈی چوک کا منظر کتنا خوف ناک ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بچے قومی نغمے گائیں گے اور دوسری طرف نعرے لگاتا ہوا بے ہنگم ہجوم حکومت گرانے کے لئے ڈی چوک پہنچنے کی کوشش میں ہو گا۔ کون کس سے ٹکرائے گا امن و امان کے کیا مسائل پیدا ہوں گے؟ اس قومی دن کے موقع پر قوم کن مسائل سے دوچار ہو سکتی ہے یہ وہ لمحات ہیں، جن کے بارے میں آنکھیں چرانے کی ضرورت نہیں ۔ پرویز رشید نے صحیح کہا ہے کہ یوم آزادی کو یوم بربادی بنانے کی کوشش کسی بھی محب وطن پاکستانی کو قابل قبول نہیں۔ خان صاحب جمہوریت ریاست کی درو دیوار کے لئے نہیں ہوتی، بلکہ افراد ہی اس نظام کی پاسدار ی کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں جمہوری سسٹم کے استحکام کے لئے دونوں کی ذمہ داریاں یکساں ہوتی ہیں۔ 10 لاکھ افراد کو جمع کر کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش اگر غداری نہیں....تو محب الوطنی بھی نہیں۔

مزید :

کالم -