نائیجیریاٹوٹ رہاہے!

نائیجیریاٹوٹ رہاہے!
نائیجیریاٹوٹ رہاہے!
کیپشن: pic

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نائیجیریا36ریاستوں پرمشتمل ایک افریقی ملک ہے جسے20کروڑآبادی اور پھلتی پھولتی معیشت کی وجہ سے Giant of Africaبھی کہتے ہیں ،اس میں کل 500لسانی فرقے ہیں جن میں تین Hausa; Igbo and Yorubaبڑے لسانی گروہ ہیں۔ نائیجیریامیں دو بڑے مذاہب ہیں۔ اسلام اور عیسائیت۔ ملک کے جنوبی اور مرکزی 40فیصد علاقوں میں عیسائی آبادی جبکہ 60فیصد شمالی اور جنوب مغربی علاقوں پرمسلم آبادی رہتی ہے، تیل کی بڑھتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے بہت جلد یہ ملک ©"Next Eleven"ممالک میں شامل ہوجائے گا۔اگرچہ نائیجیریاکے تانے بانے قدیم قدآورریاستوں سے جاملتے ہیں لیکن انیسویں صدی میں برطانوی سامراج نے دیگرممالک کے ساتھ ساتھ اس ملک میں بھی اپنے پنجے گاڑے ، برصغیرمیں ”تقسیم کرواور حکومت کرو“ جیسے منافقانہ اصولوں، چاپلوسی، خوشامد، کینہ پروری ، فرقہ پرستی ، لسانیت اور غداری جیسی برائیوں کے سبب قریباََ سوسال تک حکومت کرنے کے بعد مجبوراََ اُسے 1947ءکورُسواہوکرنکلناپڑا،مگربرطانیہ نے نائیجیریاپر اپناغیر اخلاقی ، غیرقانونی اور جابرانہ تسلط 1960ئتک برقراررکھا۔ یکم اکتوبر1960ءیہ ملک برطانوی کالونیل ازم کے سامراجی شکنجے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن لولی ، لنگڑی جمہوریتوں ، ورلڈ پاورزکی آشیرآباد سے جمہوری نظام پرشب خون مارنے والے جرنیلو ں نے نائیجیریاکی رگوں کو چوسا، ایک وقت آیاکہ نائیجریامیں اندرونی خلفشار، خانہ جنگی نے تیس لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیاگیا۔

نائیجیریا1966ئسے لے کر1999ئتک کسی نہ کسی صورت میں ملٹری کنٹرول میں رہا،اورآزادی کے 33سال بعد بالآخریہ ملک بھی حقیقی جمہوریت کی ثمرآوری سے لطف اندوز ہونے میں کامیاب ہوگیا، جب سابق آرمی چیف اولوسیگن اُوباسنجو کو صدرمنتخب کیاگیاجو 2003ءمیں مزید چارسال کے لئے صدرمنتخب ہوئے اور 2007ئمیں People's Democratic Partyکے سربراہ عمریارادواکو صدرمنتخب کیاگیا،لیکن 2010ءمیں اُن کی اچانک موت کے بعد گُڈ لک جوناتھن کو صدربنایاگیا، جبکہ قانون کے مطابق جس طرح اوباسنجوکو دو ٹرموں کے لئے صدرمنتخب کیاگیاتھا، اسی طرح عمرکی وفات کے بعد ایک مسلمان کو دوسری ٹرم دی جاتی ، اس عمل نے نائیجیریامیں عملی طورپرلسانی اور مذہبی بنیادوں پرفرق واضح کردیا، کیونکہ عیسائی صدورنے اپنے ادوارمیں بیوروکریسی اور اہم سیٹوں پرعیسائیوں کو تعینات کیا، جس کے سبب اب جنوبی نائیجیریاجو عیسائی آبادی پرمشتمل ہے وہ خوشحال اور ہرطرح کی سہولتوں سے آراستہ ہے جبکہ شمالی نائیجیریاجہاں مسلمان آباد ہیں وہاں پربنیادی انسانی حقوق کی پامالی، وسائل اورسہولتوں کی کمی ، تعلیمی اور سماجی طورپرخطے کو پسماندہ رکھاگیاہے۔
اسی مایوسی ، غربت ، ناانصافی اور تعلیمی پسماندگی نے شمالی علاقوں میں ”بوکوحرام “ نام کی تنظیم کو جنم دیاہے جو پڑھے لکھے نوجوان مسلمانوں پرمشتمل ہے، جس کالغوی مطلب ”برائی کے خلاف جنگ“ کے ہیں ، دوسرے لفظوں میں Hausaسُنی قبیلے کے مطابق اس کامطلب "People committed to the propagation of the Prophet's Teachings and Jihad"کے ہیں، جبکہ چالاک اور کینہ پرورعیسائی بنیاد پرستوں نے مغرب میں اس کامطلب ”مغربی تعلیم ایک گناہ ہے “ کے نام سے مشہورکیاہے، حالانکہ اس کے بانی محمد یوسف نے خود مغربی تعلیم حاصل کی ۔ تنظیم کاواحد مقصد ملک میں شریعت کے عین مطابق اسلامی نظام کانفاذ ہے ، لیکن 2009ئمیں گڈ لک جوناتھن کے ایماپربوکوحرام کے دو ہزارکارکنوں بشمول اس کے سربراہ محمد یوسف کو موت کے گھاٹ اُتاردیاگیا ، اور مغربی عیسائی اور یہودی میڈیانے اس تنظیم پربھی ”دہشت گردی “کالیبل چسپاں کردیاہے۔

 نائیجیرین لوگوں کاخیال ہے کہ امریکہ سوڈان اورانڈونیشیا میں ایسٹ تیمورکی طرز پرجنوبی نائیجیریامیں عیسائی آبادی پرمشتمل علاقوں میںایک الگ ملک قائم کرنے کے درپے ہے ۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ خود ساختہ خادمین، مسلم دنیاکے چیمپئن کہلوانے والے مسلم حکمرانوں کو Organization of Islamic Countriesکے ذریعے اس قدرتوفیق نہیں ہورہی کہ نائیجیریامیں مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خون اور عزتوں کومحفوظ کرنے کے لئے اپناکرداراداکریں ۔ مغربی ٹکڑوں پرپلنے والے عیسائی اور یہودی میڈیانے ہمیشہ ”مسلم دہشت گرد“ کی اصطلا ح ہی استعمال کی ہے ، کشمیرمیں ظلم و جبر کابازارگرنے والے ہندوں کے لئے ”ہندودہشت گرد“، نائیجیریامیں مسلمانوں پرظلم ڈھانے والے عیسائیوں کے لئے ”عیسائی دہشت گرد“ جیسی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ کبھی نیوریارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ ، بی بی سی لندن اور دیگرنشریاتی اداروں نے یہ اصطلاح استعمال نہیں کی ، ایساکیوں؟ وہ اس لئے کہ مسلمانوں کااپناکوئی میڈیاہی نہیں ،اوراگرکہیں ہے تو اُس پردہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کاالزام لگایا جاتاہے یاپھرسرے سے خریدلیاجاتاہے۔
 آج نائیجیریابھی پاکستان کی 1971ءجیسی صورتِ حال سے گزررہاہے اور جمہوریت ، امن ، انصاف کے خود ساختہ ”جلاد “ اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالک بھیڑیے نائیجیریامیں اسلحہ کی فروخت جیسے گھناﺅنے کاروبارمیں ملوث ہیں۔ نائیجیریادولخت ہونے کے قریب ہے اور اگرکوئی امن و آشتی کے لئے سراُٹھاتاہے ، اُس پر دہشت گرد کالیبل لگادیاجاتاہے، کہاں ہیں انسانی حقوق کی علمبردارتنظیمیں ، کہاں ہیں انصاف کے پیمبر، کہاں ہیں غیرت مند مسلمان حکمران؟ مصرمیں اخوان المسلمین کے ذریعے محمد مُرسی کو صد ربنایاگیاتو مصرکے بازاروں میں ہیلری کلنٹن کی آمد پرپوسٹرآویزاں ہوئے کہ ”مصرپاکستان نہیں “۔ جہاں یہ فقرہ پاکستانی سورماﺅں کے منہ پرطمانچہ تھا،وہیں مصرکے غیرت مند مسلمانوں نے مغرب کو واضح پیغام دیااور مغرب تب تک سکون میں نہیں آیاجب تک تخت پراپنی پسند کاکٹھ پُتلی حکمران نہیں بٹھادیا۔ لالچ ، مفاد پرستی اور کینہ پروری کایہی کھیل لیبیا،تیونس، عراق اور افغانستان میں دہرایاگیاجبکہ شام میں مغرب کی چنگیزی جمہوریت کادیو اپنے پنجے گاڑنے میں لگاہواہے۔ صد افسوس کہ امریکی ہرکارے سرعام کہتے پھرتے ہیں کہ مسلمان دولت کے لئے سب کچھ کرگزرنے کوتیاررہتاہے، شاید اُنہوں نے بھی اس شعرکوپڑھ لیاہوگا:
دیارِ مصرمیں دیکھاہے ہم نے دولت کو
ستم ظریف پیغبر خرید لیتی ہے
مگرمسلم ممالک بشمول پاکستان میں ایساکوئی رہنمانظرنہیں آرہاجو آگے بڑھ کرظالم کاہاتھ روک سکے۔ یقیناََ مسلمان ماﺅں نے عمر جرار، حیدرِ کرار، خالد بن ولید، عمادالدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی،طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، ٹیپوسلطان اور کئی ناموربہادرجرنیلوں کو پیداکیاہے، اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے بھی کوئی ایساہی بہادرضرورپیداہواہوگا، جو ظالم کانہ صرف ظلم روکے گا،بلکہ بہ وقتِ ضرورت ظلم کاپنجہ بھی کاٹ دے گا۔

مزید :

کالم -