خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (1)

خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (1)
 خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (1)

  

نظم مملکت میں اگرچہ تاجروں، صنعتکاروں، کاشتکاروں اور دستکاروں پر ٹیکس کا نظام از بس ضروری سمجھا جاتا ہے ، اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کا یہ پہلو بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کہ ٹیکسوں سے عوام الناس کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور جس مقصد کی خاطر حکمران اپنی رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس عائد کرکے ان کی زندگی اجیرن بنارہے ہیں، اس سے پبلک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ حکمران عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ مختلف قسم کے ٹیکسوں سے حکمراں طبقہ اسمبلیوں کے ممبران اور انتظامیہ کے افسران کی بھاری تنخواہوں ، حکمرانوں کے بیرونی ممالک کے دوروں اور اسمبلی کے ممبروں کے مشاہرات کے علاوہ اسمبلیوں میں ان کی حاضری پر جس قدر بے دریغ سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے اور انہیں اپنا مطیع وحامی رکھنے کے سلسلے میں ان کی خوشنودی پر جس طرح قومی خزانہ لٹایا جاتا ہے۔ اس پر تاجروں اور مختلف طبقوں کے غریب عوام کا احتجاج اور ہڑتالیں ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کا مصداق ہیں۔ حکمرانوں نے کبھی یہ خوشخبری نہیں سنائی کہ ہم نے اپنی تنخواہیں کم کردی ہیں، بیرونی ممالک میں دوروں کے دوران مہنگے ہوٹلوں کے بجائے سفارت خانوں کی بلڈنگوں میں چند روزہ قیام کا فیصلہ کرلیا ہے اور بڑے بڑے سرمایہ دار اراکین اسمبلی قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے اور عوام پر بلاوجہ جبراً ٹیکس عائد کرکے اپنے عشرت کدے آباد کرنے کے بجائے قومی سرمایہ غریب افراد کی صحت ، ان کی تعلیم اور ضروریاتِ زندگی سستی اور ملاوٹ کے بغیرفراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام کا اگر دنیا کے دوسرے ممالک کے نظام حکومت اور ان کے نظام ٹیکس سے موازنہ کیا جائے تو اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہاں پر بادشاہی نظام رائج ہے اور عوام الناس قدیم دور کے غلاموں سے بدتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،پاکستان کو ایک اسلامی اور رفاہی مملکت قرار دینے کا خوب پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ،مگر عملاً ہمارا نظام برطانیہ کے غیر اسلامی نظام سے بھی مطابقت نہیں رکھتا ۔وہاں پر ہر پیدا ہونے والے بچے کے لئے ’’عمرؓ لاء‘‘ رائج ہے کہ مستحقین کو دودھ وخوراک وغیرہ فراہم کرنے کے علاوہ ضرورت مندوں کو قومی خزانے سے وظائف دئیے جاتے ہیں، وہاں پر نہ لوڈ شیڈنگ ہے، نہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لوگ پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، اس کے علاوہ بجلی نہ ہونے کے باعث دم گھٹ کر لقمۂ اجل بنتے ہیں ،نہ وہاں کی گلیاں،محلے صاف وشفاف سڑکیں نہ ہونے کے سبب کھنڈرات بنے ہوئے ہیں، نہ لوگ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ریل گاڑیوں اور بسوں کی چھتوں پر خطرناک حالت میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، وہاں کا میڈیا صرف سرمایہ داروں کا ترجمان نہیں، غرضیکہ وہاں پر اگر ٹیکس کا نظام رائج ہے تو انہیں زندگی کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔ غیر مسلم حکمرانوں کی بابت اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ ’’خَسِرَ الْآخِرَۃ‘‘ ہیں، لیکن ہمارا حال تو ’’خَسِرَالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ‘‘ ہے ۔۔۔’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘۔

بعض سیاست دان اپنی تقریروں میں عہد رسالتﷺ اور عہد خلافت راشدہؓ کا حوالہ بھی دیتے رہتے ہیں، ان کا نظام حکومت کیسا تھا اور نظام خلافت راشدہ کے خدوخال کیا تھے؟ ان کا نظام ٹیکس کیا تھا؟ اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے سلسلے میں انہوں نے کیا زرّیں کارنامے انجام دئیے تھے۔۔۔خلافت راشدہ کے نظام ٹیکس پر یہ مضمون میں نے 1990ء میں آل پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس منعقدہ ہاشمی لاء چیمبر فیصل آباد میں پاکستان کے ممتاز ماہرین وکلاء کے روبرو پڑھا تھا، جسے زیردست پذیرائی ملی اور انہوں نے اسے اپنی ضخیم کتاب میں شائع بھی کیا تھا ، آج جبکہ پاکستانی تاجروں میں وِد ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کے خلاف زبردست بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، ایسے ناگفتنی حالات میں عہدخلافت راشدہؓ اور اسلامی حکومت کے رائج کردہ ٹیکسوں کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ،اسے خصوصی توجہ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے:

خالقِ کائنات نے تمام انسانوں کی معیشت اور ان کے اقتصادی مسائل کاحل قرآنِ حکیم میں بنیادی اصول اور ضابطے کی صورت میں پیش فرمادیا ہے ۔اس پورے نظام اور مکمل ضابطۂ حیات کا عملی نمونہ اور پیکرِ جمیل حضور محسن انسانیت حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو تمام انسانوں کے لئے خورشیدِ جہاں تاب سے بھی زیادہ روشن اور تابناک ہے، عبادات واخلاقیات ، معاملات ومعاشرت اور اقتصاد ومعیشت غرضیکہ آپ کا اسوۂ حسنہ ہمہ جہت مینارۂ نور ہے۔۔۔ چونکہ میرا موضوع سخن خلفاء راشدینؓ کا نظامِ ٹیکس ہے اس لئے اوّلاً اس ذاتِ اقدس اور ہادئ کامل واکمل ﷺ کے نظامِ حیات کا حوالہ دینا ضروری بلکہ جزو ایمان سمجھتا ہوں، جس سے حضرات خلفائے راشدینؓ اکتسابِ فیض کرتے رہے، اور تمام دنیائے انسانیت تا قیامت جس مینارۂ نور سے اپنا ظلمت کدۂ فکر ونظر تابندہ وروشن کرتی رہے گی:

منارِ رشد وہدایت، سحاب رحمت وجود

مرے رسول ؐ کا اسوہ مرے نبی ؐکا وجود

اس رسولِ آخرالزماں خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنے معاشی امور کی بابت ارشاد فرمایا ہے:’’ نحن معاشر الانبیاء لا نرث ولا نورث وما ترکنا فھو صدقۃ۔‘‘( اوکما قال علیہ السلام)۔۔۔’’ ہم انبیاء کا گروہ ایسا ہے جو نہ تو مادّی ورثے کا مالک بنتا ہے اور نہ ہی کسی کو وارث بناتے ہیں ، ہم جو کچھ بھی ورثہ چھوڑیں ،وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘ پھر اسی کی تائید میں بخاری شریف میں حضر ت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ماشبع اٰل محمد منذ قدم المدینۃ من طعام بُرٍّ ثلاث لیال تباعاً حتٰی قبض‘‘۔۔۔’’ حضور سرور عالم ﷺ جب سے مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں، آپﷺ کے اہل وعیال نے کبھی بھی پیٹ بھر کر گندم کا کھانا تک نہیں کھایا؛ یہاں تک کہ آپﷺ دنیا سے تشریف لے گئے‘‘۔۔۔چنانچہ حضور اکرمﷺ کے اس مثالی استغناء کے عالم میں نہ تو ذاتی مال واسباب اکٹھا ہوا اور نہ ہی اجتماعی صورت میں دولت وسرمایہ جمع ہونے کی نوبت آئی بلکہ کھجور کے چند دانوں سے لے کر چاندی کی معمولی ڈلیہ تک جو کچھ بھی آتا حضوراکرم ﷺ فوراً مستحقین میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے۔

حضور محسنِ انسانیت ﷺ کے زمانۂ مبارک میں نظامِ اقتصاد ومعیشت احکامِ قرآنی (قُلِ الْعَفْوُ )اور (کَےْ لاَ یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ) کی اساس پر استوار تھا کہ ہر شخص اپنی ضروریات سے زائد اپنے دوسرے ضرورت مند بھائی کو دیدیں تاکہ دولت وسرمایہ صرف چند افراد میں ہی مرکوز ہو کر نہ رہ جائے۔۔۔پھر8ہجری میں جب مکہ فتح ہوگیا اور پورے علاقے میں باقاعدہ اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آگیا تو اس کے نظام مالیات میں بھی وسعت اور اجتماعیت آگئی؛ چنانچہ زکوٰۃو عشر، مالِ غنیمت میں خمس، مال فے اور جزیے کی صورت میں نظامِ محاصل کی بنیاد پڑی، تاآنکہ حضور سید المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا دَور آیا اور امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ اسلامی سربراہ کی حیثیت سے آپؐ کے جانشین مقرر ہوئے ۔(جاری ہے )

پہلے خلیفہ راشد امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں فتوحات کے ذریعے اگرچہ وسیع رقبہ اسلامی مملکت میں شامل ہوگیا تھا، اس نسبت سے حکومت کی آمدنی اور ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوچکا تھا، اس لئے اسے منظم کرنے کی ضرورت نہایت شدّت کے ساتھ محسوس کی گئی تھی، اس کے باوجود حضرت صدیق اکبرؓ کا نظام بعینہ اورہُو بہُو وہی رہا جو حضور سرور کونین ﷺ کے زمانۂ مبارک میں موجود تھا کہ مرکز کو خِراج وغیرہ کی مدّات میں جو رقم بھی ارسال کی جاتی ،وہ تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم ہوجاتی تھی، پھر جب خلافتِ صدیق اکبرؓ کے بعد حضرت عمر فاروقؓ نے خلافتِ راشدہ کا نظام سنبھالا تو فتوحات کی تکمیل کے بعد ایران، عراق، شام اور مصر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگئے، آپ ہی کے عہد میں مسلمانوں کے بڑے بڑے شہر کوفہ، بصرہ اور فسطاط آباد ہوئے اور بہت سی اقوام حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں تو ان دنوں بیت المال کے قیام کی اشد ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ بحرین سے پورے سال کا خراج اکٹھا آگیا تھا؛ چنانچہ ولید بن ہشامؓ کی تجویز کے مطابق کہ میں نے سلاطین شام کے ہاں خزانے اور دفترکا جدا جدا نظام دیکھا ہے، حضرت فاروق اعظمؓ نے اسے مستحسن قرار دیتے ہوئے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے بیت المال قائم کرنے کا اعلان کیا اور ایک معزّز وماہر صحابی حضرت عبداللہ بن ارقمؓ کو اس کا نگران مقرر فرمایا تھا، علاوہ از یں دوسرے صدر مقامات پر بھی بیت المال قائم کئے اور ان کے الگ نگران مقر کئے گئے تھے۔

ملکیتِ زمین کا مسئلہ:دوسرے خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں جب عراق اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا تو آپ سے اس کی زمین مجاہدین میں تقسیم کی بابت مطالبہ ہوا؛ لیکن سورۃ الحشر میں نازل شدہ احکام قرآنی کے مطابق چونکہ تمام ذرائع پیداوار اللہ خالق ومالک کی ملک اور رسول خدا ﷺ کے بحیثیت متولی تقرر اور آپ ﷺ کے بعد آپ کے تابعدار اور اطاعت شعار فرزندانِ اسلام کی تولیت میں آچکے تھے؛ اس لئے حضرت فاروق اعظمؓ نے جو فیصلہ کیا وہ قاضی ابویوسفؒ کی کتاب الخراج میں اس طرح درج ہے ۔۔۔آپ نے فرمایا: ’’ میں چاہتا ہوں کہ یہ زمین مع کاشتکار حکومت کی ملک قرار دوں، اس کے کاشتکاروں پر خراج عائد کروں اور فی کس جزیہ مقرر کروں جسے وہ ادا کرتے رہیں، اس طرح جزیہ اور خراج مسلمانوں کے لئے ایک مستقل فَے یعنی آمدنی کا کام دے گا جس میں مجاہدینِ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کی آئندہ نسلیں سب حصہ دار ہوں گی‘‘۔

حضرات صحابۂ کرام نے حضرت فاروق اعظمؓ کے اس اعلان کی بیک زبان تائید کی؛ چنانچہ اس فیصلے پر اجماع امت ہوگیا اور حضرت عثمان بن حنیفؓ کو ان زمینوں کے بندوبست کے لئے مامور کیا گیا تھا۔

ملکیتِ زمین کے سلسلے میں حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد خصوصی طور سے قابل توجہ ہے جس میں فرمایا گیا ہے:’’ عادی الارض للّٰہ ولرسولہ ثم لکم من بعد فمن احیا ارضاً میتۃً فھی لہ ولیس لمحتجرٍ حقٌ بعد ثلاث سنین(کتاب الخراج قاضی ابویوسف)۔۔۔ ’’افتادہ زمین اللہ اور اس کے رسولؐ کی ملک ہے بعد ازاں تمہاری ہے؛ چنانچہ جو بھی مردہ اور بنجر زمین زندہ کرکے قابل کاشت بنالے ،وہ اس کی ہوگئی اور جو زمین میں کاشت چھوڑ دے تو تین سال تک بیکار رکھنے کی وجہ سے اس کا حق ملکیت ساقط ہوجائے گا‘‘۔۔۔ بہر نوع امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظمؓ کے زمانے میں عراق میں متعین حاکم حضرت عثمان بن حنیفؓ نے زمین کی پیمائش کرنے کے بعد مختلف شرحوں سے خراج یعنی محصول عائد کیا، جس کی تفاصیل قاضی امام ابویوسف نے کتاب الاموال صفحہ 25 میں اس طرح درج کی ہے: ’’گیہوں کے کھیت پر چار درہم، گنے کی کاشت پر چھ درہم، کھجور پرآٹھ درہم، جَو کے کھیت پر دو درہم اور انگوروں کے باغات پر دس درہم فی جریب۔

اس مد میں مختلف افراد پر بارہ سے اڑتالیس درہم کے حساب سے جزیہ عائد تھا، عورتیں اور بچے جزیہ ادا کرنے سے مستثنٰی تھے،جہاں تک زمین کی دیگر پیداوار کے محاصل کا تعلق ہے کہ زکوٰۃ، عشر، مال غنیمت کے خمس، مال فَے اور صدقات وغیرہ کی تقسیم کس طریقے کے ساتھ ہو، ان کی تفاصیل کتب میں موجود ہیں، یہاں چونکہ خلفائے راشدینؓ کے نظامِ محاصل وٹیکس کا اجمالی تذکرہ اور بعض انقلابی اقدامات کی نشاندہی مقصود ہے، اس لئے دورِ خلافت راشدہ کے ایک ایسے ہی اقدام کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ حضور سید الکونینﷺ کے زمانۂ مبارک میں چونکہ جہاد میں کام آنے کے باعث گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں لی جاتی تھی؛ لیکن جب حضرت فاروق اعظمؓ کے دور میں گھوڑوں کی تجارت شروع ہوگئی تو آپ نے ان پر زکوٰۃ عائد کردی اور صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے بھی اس سے اظہار اختلاف نہیں کیا تھا؛ اس طرح زکوٰۃ کی مد میں نئی آمدنی کا اضافہ ہوگیا تھا۔

بعدازاں جب خلافتِ فاروق اعظمؓ کے دور میں ہی مسلمانوں کے تعلقات غیر ممالک سے بڑھے اور وہاں کے باشندے تجارت کی غرض سے قریب وبعد ممالک میںآنے جانے لگے اور ان ملکوں کے دستور کے مطابق مسلمان تاجروں سے دس فی صد کے حساب سے عشور محصول در آمد یعنی کسٹم ڈیوٹی لی جاتی تھی تو علامہ ابن خلدون کی تاریخ جلد ۱ صفحہ 395 میں لکھا ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے یہ معلومات حاصل کرکے حکم دیاکہ غیر ممالک کے تاجر اسلامی علاقے میں تجارت کی غرض سے جو مال لائیں ان سے بھی اسی شرح سے محصول لیا جائے۔ کچھ عرصے کے بعد جب آمدنی کی اس مد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا نظر آیا تو آپ نے تمام اسلامی علاقوں میں یہ حکم جاری کردیا کہ دس فی صد محصول دار الحرب کے باشندوں سے، پا نچ فی صد ذمیوں سے اور ڈھائی فی صد مسلمانوں سے لیا جائے ۔مال کی قیمت اگر دوسو درہم سے کم ہوتی تھی تو اس کا محصول معاف تھا، محصول صرف تجارتی سامان اور ان چیزوں پر لیا جاتا تھا جو ظاہر کی جائیں، کسی کے سامان کی تلاشی کی اجازت نہیں تھی۔

منقولہ وغیر منقولہ جائیدادیں:خلفائے راشدینؓ نے منقولہ اموال میں حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ہی عمل کیا کہ سب سے پہلے اسلامی حکومت کا حق خُمس نکلوانے کے بعد بقیہ حسبِ ضرورت مجاہدین ،یعنی فوجیوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے ،یہ طرز عمل ان منقولہ اموال میں ہوتا تھا جو جنگ کے ذریعے حاصل ہوتے تھے؛ لیکن جو غیر منقولہ اموال صلح ومعاہدہ یا بطور ٹیکس آپ کے پاس آتے تھے ،ان میں خُمس نہیں نکالا جاتا تھا، بلکہ قرآنی احکام کے مطابق عام مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ جہاں تک غیر منقولہ جائیداد کا تعلق ہے، اس کی بابت چونکہ قرآن کریم کے دئیے ہوئے اختیارات کے مطابق حالات ومصالح کو ملحوظ رکھا جاتا تھا، کبھی کسی جائیداد کو مستحقین میں تقسیم کردیا اور کبھی مفادِ عامہ کی خاطر حکومت کی ملک قرار دیدیا، کبھی کسی جائیداد کے بعض حصوں کو تقسیم کردیا اور بعض کو مہمانوں ، مسافروں اور بیرونی ممالک کے وفود کے اخراجات کیلئے مخصوص کردیا جاتا تھا۔

محصولات کی وصولی میں عدم تشدد:جہاں تک نظام محاصل (ٹیکس)میں حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی کے طریقِ کار کا تعلق ہے اس میں سختی اور جبر وتشدّد کے بجائے حسنِ سلوک اورنرمی کا برتاؤ کیا جاتا تھا جیسا کہ قاضی ابویوسفؒ نے کتاب الخراج کے باب الجزیہ میں حضرت عمرفاروقؓ کے دَور کاایک واقعہ لکھا ہے کہ:’’ ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظمؓ شام سے واپس آرہے تھے تو راستے میں چند آدمیوں کا مجمع دیکھا جن کے سروں پر تیل ڈالا جارہا تھا لوگوں سے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے؟تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے جزیہ ادا نہیں کیا ہے؛ اس لئے انہیں سزا دی جارہی ہے، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے پوچھا، آخر انہوں نے جزیہ کس وجہ سے ادا نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ ’’ناداری اور مفلسی ‘‘ کی وجہ سے ادائیگی نہ ہوسکی۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو، میں نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ:۔۔۔’’لاتعذب الناس فان الذین یعذبون الناس فی الدنیا یعذبھم اللّٰہ یوم القیامۃ۔‘‘۔۔۔ لوگوں کو عذاب وسزا نہ دو! کیونکہ جو لوگ دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

معذروں کیلئے وظائف:حضرات خلفائے راشدینؓ کے دَور میں معذروں، محتاجوں، بچوں اور بوڑھوں کے لئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے تھے، اور اس قسم کی رعایت ذِمّیوں کے ساتھ بھی رکھی جاتی تھی، اس نظام کی ابتداء امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دَورِ خلافت میں ہوئی تھی؛ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے جب حیرہ فتح کیا تو معاہدے کے یہ شرائط لکھی گئی تھیں:’’اگر کوئی شخص کام کرنے سے معذور ہوجائے، وہ ضعیف العمر ہو اور کام کی اہلیت نہ رہے، یا کسی مصیبت اور ناگہانی تکلیف میں مبتلا ہوجائے، یا وہ دولتمند تھا کہ غریب ومحتاج ہوگیا، اور اس کے ہم مذہب اسے خیرات دینے لگیں تو اس کا جزیہ موقوف کردیا جائے گا، اور اس کی وہ اولاد جو مسلمانوں کی مملکت میں رہائش پذیر ہو ،وہ بھی اس رعایت کی مستحق ہوگی، لیکن اگر کوئی غیر ملک میں چلا جائے تو مسلمانوں کے ذِمے ان کے اخراجات اور نفقہ وغیرہ نہیں ہوگا‘‘۔

یہ قاعدہ حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظمؓ کے زمانے میں بھی رائج رہا؛ چنانچہ ان کے دَور میں ایک مرتبہ کسی ضعیف العمر (عیسائی یا یہودی) کو بھیک مانگتے دیکھا تو دریافت کیا کہ بھیک کیوں مانگتا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے اور مجھ میں ادا کرنے کی سَکت نہیں، حضرت عمر فاروق اعظمؓ اسے اپنے ساتھ گھر لائے اور کچھ نقد دے کر بیت المال کے داروغہ سے کہلا بھیجا کہ اس قسم کے معذوروں کیلئے بیت المال سے وظیفہ مقرر کردیا جائے، اور فرمایا: واللہ! یہ انصاف کی بات نہیں کہ ان لوگوں کی جوانی سے توہم نفع اٹھائیں اور بڑھاپے میں ان کو نکال باہر کریں کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائیں۔۔۔ذِمیوں کی عزت وآبرو کو اسی طرح تحفّظ حاصل ہے ،جس طرح مسلمانوں کی عزّت وناموس کا، اور ان لوگوں کی بابت کسی قسم کے تحقیر کے الفاظ استعمال کرنے ممنوع تھے۔

اسلام کا فلاحی نظام:خلفائے راشدین کے نظامِ ٹیکس اور نظامِ مالیات کی چند نمایاں اور انقلابی اقدامات کا تذکرہ نہایت اختصار اور اشارے کی صورت میں کیاگیا ہے ، اس دَور کے تمام محاصل اور ٹیکسوں کا مقصود ایک فلاحی ریاست کا قیام تھا، جس میں ہر فرد کو اس کی ضرورت کے مطابق مادّی وسائل فراہم کئے جاتے تھے، صرف ایک اہم واقعہ کا تذکرہ کرکے معروضات ختم کئے دیتا ہوں۔۔۔ کتاب اعلام الموقعین جلد 2 صفحہ 33 کے حوالے سے چراغِ راہ کے اسلامی قانون نمبر24میں لکھاہے کہ :’’ قبیلہ مزنیہ کے ایک شخص کی اونٹنی چوری ہوگئی جو حاطب بن ابی بلتعہؓ کے غلاموں نے چوری کی تھی وہ پکڑے گئے، اونٹنی کا مالک حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں فریادی ہوا، غلاموں نے حضرت عمرؓ کے سامنے چوری کا اقرار کرلیا، انہوں نے کثیربن ابی صلتؓ کو بلا کر ان چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا کہ اس دوران حضرت فاروق اعظمؓ کو علم ہوگیا کہ غلاموں نے فقروفاقہ سے مجبور ہوکر اونٹنی چرائی تھی۔ حضرت عمرؓنے اونٹنی کے مالک کو بلایا اور ان سب کے سامنے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر مجھے اس کا علم نہ ہوتا کہ تم جن لوگوں سے کام لیتے ہو اور انہیں اس قدر فاقہ مست ومحتاج رکھتے ہو کہ ان میں سے کوئی حرام کھالے تو ان کے لئے حلال ہوجائے تو میں ان کے ہاتھ ضرور کٹوادیتا مگر اب ان کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے تمہیں سزا دوں گا،چنانچہ مالک سے اونٹنی کی قیمت پوچھ کر ان غلاموں کو دلوادی گئی تھی۔‘‘۔۔۔(اس سلسلے میں قرآنِ حکیم کی وہ آیت بھی پیش نظر رکھنی چاہیئے جس میں مردار ، خنزیر اور خون وغیرہ کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے:۔۔۔(فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلاَ اِثْمَ عَلَیْہِ(البقرۃ))۔۔۔یعنی جو شخص حرام کھانے پر مجبور ہو اور وہ اپنی ضرورت سے زائد نہ کھائے تو اضطراری حالت میں جائز ہے)

یہ تاریخی واقعہ دَور حاضر کی معاشی ناہمواری اور ایک طبقے میں دولت وسرمایہ مرکوز ہونے یعنی امیروں کے امیر تر اورغریبوں کے غریب تر ہونے کے ماحول میں اہلِ بصیرت کے آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔بہر نوع ان معروضات کا مقصد یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا نظام ٹیکس محض بھاری ٹیکس عائد کرکے خزانہ بھرنے کیلئے نہیں تھا، بلکہ اس دَور میں شرفِ انسانیت ملحوظ رکھا جاتا اور مخلوقِ خدا کی خدمت وفلاح وبہبود کو فوقیت دی جاتی تھی وہ نظام اس کرّہ ارض پراسلام کے نظامِ عدل ومساوات کے قیام کے لئے تھا۔ عصرِ حاضر کے تمام مسلم ممالک کے اربابِ اقتدار جب تک اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں قائم نظامِ خلافت راشدہ کا نفاذ نہیں ہوتا تو اس ناگفتنی صورت کی دلدل سے کبھی نہیں نکل سکتے، وہی پاکیزہ نظام ہی ہمارے مسائل اور ہماری پریشانیوں کا حل ہے :

وہی چراغ جلاؤگے تو روشنی ہوگی

مزید :

کالم -