کراچی میں رینجرز ضروری ہیں‘ ٹینک اور گنز دی جائیں: پرویز مشرف

کراچی میں رینجرز ضروری ہیں‘ ٹینک اور گنز دی جائیں: پرویز مشرف
کراچی میں رینجرز ضروری ہیں‘ ٹینک اور گنز دی جائیں: پرویز مشرف

  



دبئی (ویب ڈیسک) سابق صدر مشرف نے کہا ہے کہ کراچی میں 70 فیصد ہلاکتیں سیاسی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں پر چیک رکھیں تو 60 سے 70 فیصد ہلاکتیں کم ہوجائیں گی۔ پنجاب میں فرقہ وارانہ تنظیموں کیخلاف کارروائیاں ہوں گی تو کراچی میں فرقہ واریت کم ہو گی۔ پنجاب کراچی میں فرقہ واریت کا بیس ہے، وہاں دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہیں ہیں۔ کراچی میں رینجرز ضروری ہے پولیس کام نہیں کر سکتی۔ پہلی ڈیفنس لائن پولیس ہوتی ہے ، سیکنڈ ڈیفنس لائن رینجرز اور فرنٹیئر کور ہے۔ سیکنڈ ڈیفنس لائن کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ان کو ٹینک اور گنز دیں۔ دنیا میں تبدیلیاں آرہی ہیں اس لئے پاکستان میں تبدیلی ضروری ہے۔ دبئی میں کوئی سیاسی سرگرمیاں نہیں کیں، دوستوں سے ملاقاتیں کرتا ہوں۔ ہماری تنظیم ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔

میڈیا رپورٹس سے لگ رہا ہے کہ میری پراپرٹی لے لی گئی ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں عدل، انصاف کہاں ہے، مجھے ہی نہیں ملا تو عام آدمی کو کہاں ملے گا؟ مشرف نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے بھاگنے والے دہشت گردوں نے پنجاب میں مضبوط ٹھکانے بنا لیے ہیں جو ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں بہت سی خامیاں موجود ہیں اس میں تبدیلی آنی چاہیے ، میں صدارتی نظام کا حامی ہوں۔ عمران خان صرف اپنا نہ سوچیں بلکہ کسی قسم کے بھی اقدامات کرنے سے قبل پاکستان کے بارے میں ضرور سوچیں۔ملک میں مارشل لا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ اگر حکومت اپنا کام ٹھیک طریقے سے سرانجام دے تو آرمی کسی کام میں مداخلت نہیں کرے گی، حکومت صیح کام کرے تو یہ خوف خود بہ خود ختم ہوجائے گا۔

مصطفی کمال کی پارٹی اور سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ مہاجر قوم دونوں طرف تقسیم ہے، پاک سر زمین پارٹی کامیاب ہوگی یا نہیں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ کراچی میں پہلی لائن آف ڈیفنس میں پولیس، دوسری ایف سی اور تیسری فوج ہے، تیسری ڈیفنس لائن بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہے کوشش ہونی چاہیے کہ تھرڈ ڈیفنس لائن کو درمیان میں نہ لایا جائے۔

مزید : اسلام آباد