لو میرج پر زندہ جلائی جانیوالی زینت کے قاتل ماں‘ بھائی نکلے

لو میرج پر زندہ جلائی جانیوالی زینت کے قاتل ماں‘ بھائی نکلے
لو میرج پر زندہ جلائی جانیوالی زینت کے قاتل ماں‘ بھائی نکلے

  



لاہور (ویب ڈیسک) لو میرج کی پاداش میں زندہ جلائی جانیوالی زینت قتل کیس کا چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پولیس نے زینت کے بہنوئی کو بے گناہ قرار دے دیا لڑکی کو اس کی ماں اور بھائی نے زندہ جلایا۔

روزنامہ نئی بت کے مطابق فیکٹری ایریا پولیس نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چالان جمع کرادیا، چالان کے مطابق زینت کو ماں پروین بی بی اور بھائی انیس نے زندہ جلایا، پولیس کی جانب سے 19 گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج چوہدری محمد الیاس نے کیس کی سماعت کی ، تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا، پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولہ زینت کو انتہائی تیز آتش گیر مادے سے جلایا گیا ، مقتولہ کے کپڑوں سے بھی انتہائی تیز آتش مواد ملا ہے، مقتولہ کی لاش سے اور جائے وقوعہ سے زیادہ جدوجہد کے آثار سامنے نہیں آئے ، مقتولہ کی لاش کا اوپر حصہ چھت پر جبکہ ٹانگیں سیڑھیوں میں تھیں ۔

مقتولہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ ملزمان، زینت کو ورغلا کر گھر لائے اور زندہ جلادیا، پسند کی شادی کرنے والی 17 سالہ زینت کی ہلاکت کا واقعہ چھ جون کو لاہور میں تھانہ فیکٹری ایریا کی حدود میں پیش آیا تھا، پولیس نے لڑکی کے شوہر حسن خان کی درخواست پر لڑکی کے قتل کا مقدمہ اس کی والدہ پر وین بی بی، بہنوئی ظفر اقبال اور بھائی انیس کے خلاف درج کیا تھا، پروین بی بی اور ظفر اقبال کو 9 جون جبکہ انیس کو 14 جون کو گرفتار کیا گیا تھا، آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے ملزمان کو دستاویزات کی نقول فراہم کی جائیں گی، کیس کی مزید سماعت 23 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔

مزید : لاہور


loading...