آپ کے موبائل فون کی بیٹری کے ذریعے آپ کی جاسوسی کس طرح کی جاسکتی ہے؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

آپ کے موبائل فون کی بیٹری کے ذریعے آپ کی جاسوسی کس طرح کی جاسکتی ہے؟ ایسی ...
آپ کے موبائل فون کی بیٹری کے ذریعے آپ کی جاسوسی کس طرح کی جاسکتی ہے؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)صارفین کے موبائل فون کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یوں تو کئی حربے استعمال کیے جاتے ہیں مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ فون کی بیٹری کے ذریعے بھی صارفین کی جاسوسی کی جا سکتی ہے اور یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے براﺅزر پر کون سی ویب سائٹس پر جاتے رہتے ہیں۔ موبائل فون میں ایک ایسا سافٹ وئیر موجود ہوتا ہے جو ویب سائٹس کو موبائل فون صارف کے بیٹری لیول کے متعلق آگاہی دیتا ہے۔ اس سافٹ ویئر کا نام ”بیٹری سٹیٹس اے پی آئی“ ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ اس مثبت سوچ کے تحت بنایا گیا ہے کہ ویب سائٹس صارف کا بیٹری لیول دیکھ کر اس کی مناسبت سے ویب سائٹ تک رسائی دیں۔ یعنی اگر صارف کی بیٹری ختم ہونے کے قریب ہے تو ویب سائٹ کا ”لو ورژن “(Low Version)لوڈ کیا جائے تاکہ اس کی بیٹری کم استعمال ہو۔ تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ سافٹ ویئر صارفین کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔برطانوی اخبار دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین سٹیون انگلیرٹ اور اروند نارائن نے اپنی ایک تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ ”اس سافٹ ویئر کے ذریعے صارف کی نگرانی کی جا سکتی ہے کہ وہ اور کون کون سی ویب سائٹس وزٹ کر رہا ہے۔“

’اگر آپ بھی اپنا موبائل فون ساری رات چارجنگ پر لگائے رکھتے ہیں تو ایسا کرنا فوری چھوڑ دیں کیونکہ۔۔۔‘ ماہرین نے سخت وارننگ جاری کردی

سٹیون انگلیرٹ اور اروند نارائن نے اس تحقیق کے لیے مختلف تجربات کیے اور موبائل فون کے بیٹری لیول، چارجنگ سٹیٹس اور آئی پی ایڈریس کے ذریعے وہ کئی ڈیوائسز کو فنگرپرنٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ماہرین نے بیٹری لیول اور آپ نگرانی کے باہم تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر آپ کسی ہوٹل کی ویب سائٹ براﺅز کرتے ہیں اور اس وقت آپ کے فون کی بیٹری کم ہوتی ہے تو ہوٹل کی ویب سائٹ فوری طور پر آپ کے بیٹری لیول تک رسائی حاصل کرلے گی اور آپ کی بیٹری بچانے کے لیے ویب سائٹ کا کم پیچیدہ ورژن ظاہر کرے گی۔ ساتھ ہی یہ آپ کے براﺅزر کی ہسٹری تک بھی رسائی حاصل کر لے گی اور یہ دیکھنے کے قابل ہو گی کہ آپ دیگر کون سی ویب سائٹس براﺅز کرتے ہیں۔اگر کوئی صارف خفیہ رکھنے والی ویب سائٹ کے لیے الگ براﺅزر استعمال کرتا ہے، وہ بھی پرائیویٹ موڈ میں اور وی پی این کے ذریعے، اس کے باوجود اگر اس ویب سائٹ پر موجود اشتہارات دوسرے براﺅزر پر کھولی گئی ہوٹل کی ویب سائٹ پر موجود اشتہارات سے مماثل ہوئے تب بھی وہ اس کا پتا چلا سکتی ہے۔ کم بیٹری ہوتے ہوئے، جتنی زیادہ دیر تک آپ اس ہوٹل کی ویب سائٹ پر موجود رہیں گی وہ اتنی ہی زیادہ دوسرے براﺅزر پر موجود ویب سائٹ سے منسلک ہوتی جائے گی۔ “واضح رہے کہ ویب سائٹس صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے ان کی پسند و ناپسند سے آگاہی حاصل کرتی ہیں اور پھر اسی مناسبت سے انہیں اشتہارات دکھاتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...