چینی زبان سیکھنے سے چین کے ساتھ تجارتی و ثقافتی روابط مضبوط ہونگے

چینی زبان سیکھنے سے چین کے ساتھ تجارتی و ثقافتی روابط مضبوط ہونگے

  



لاہور(کامرس رپورٹر)چینی زبان سیکھنے والے پاکستانی نوجوان چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی ، تجارتی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کا سبب بنیں گے ۔ یہ بات پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے یہاں پاک چین چیمبر کے زیر اہتمام چینی زبان سیکھنے والے نوجوانوں سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ انہوں کہا کہ غیر ملکی زبان سیکھنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوتا ہے اور خاص طور پر چینی زبان سیکھنے والوں کو چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ تبادلہِ خیالات میں آسانی ہو گی جس سے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا بہاؤ تیز تر ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان زہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے دیگر کئی قوموں سے آگے ہیں ۔ جبکہ چینی سرمایہ کار اپنی جد ت پسندی کو دنیامیں منوا چکے ہیں۔ چینی زبان سیکھنے والے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں چینی تجربات کے ساتھ ملکر پاکستان میں ایک جدت پسند کاروبار ی کلچر کو تشکیل دے سکیں گی۔شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں بے روزگاری پر قابوپانے کیلئے سب سے زیادہ کار گر نسخہ یہی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان ، ملازمتوں کی بجائے کاروبار کی طرف آئیں تاکہ نوجوان طبقہ نوکریاں لینے کے بجائے نوکریاں پید ا کرنے کازریعہ بن سکے۔ انہوں نے بتا یا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں میں کاروباری رجحانات کو تقویت دینے کیلئے متعدد اہم اقدامات کر رہی ہے جس میں کاروباری تربیت کے علاوہ بنکوں سے قرضوں کا اجراء بھی شامل ہے ۔ جبکہ سمیڈا جیسے سرکاری ادارے مفت کاروباری مشاورت و معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون کی سہولت بھی حاصل ہے جبکہ کاروبار سے متعلق ۰۰۱ سے زائد پری فیزیبلٹی سٹڈیز اور بزنس پلان سمیڈا کی ویب سائٹ پر دستیا ب ہیں۔ لہٰذا انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ چینی ز بان سیکھ کر چین کا دورہ کریں اور وہاں کے کاروباری کلچر کا مطالعہ کریں۔

نیز وہاں کے نوجوان تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ تبادلہءِ خیالات کریں ۔ اس طرح انہیں دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشت کی کامیا بی کا راز سمجھ آجائے گا اور وہ اپنے ملک میں کاروبار ی کلچر کو فروغ دینے میں وہی راز لاگو کر سکیں گے۔شاہ فیصل آفریدی نے بتا یا کہ اس وقت پوری دنیا ایک کنزیومر سوسائٹی کی شکل اختیا ر کر چکی ہے۔جہاں جدت طرازی کے زریعے مختلف ملکوں کے صنعتکار اور تاجر اپنی جگہ بنا رہے ہیں جن میں چینی صنعتکار اور تاجر سب سے آگے ہیں۔ ہمارے چینی زبان سیکھنے والے نوجوان موثر ابلاغ کے زریعے چینی تاجروں کے ساتھ میل جول بڑھا سکتے ہیں اور یہ میل جول انہیں با آسانی عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کا زریعہ بھی بن جائے گا۔۔ انہوں نے امید کی کہ چینی زبان سیکھنے والے پاکستانی نوجوان چینی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک عمل کو فروغ دیتے ہوئے نئی کمپنیوں کی تشکیل کا سبب بنیں گے اور منفرد اور جدیدمصنوعات تیار کر کے وطن عزیز کیلئے عالمی منڈی سے زر مبادلہ کماسکیں گے۔

مزید : کامرس