کشمیر پر سیاست نہیں

کشمیر پر سیاست نہیں
 کشمیر پر سیاست نہیں

  



کشمیر کی حسین وادی ،جس کو دُنیا پر جنت کہا جاتا ہے، آج خون میں نہا رہی ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کا یوں قتلِ عام کیا جا رہا ہے، جیسے ان کے خون اور جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہے۔جب مسلمانوں کے حقِ خوداردیت کی بات آتی ہے تو عالمی برادری کا ضمیر سو جاتا ہے اور کسی کو خیال نہیں آتا کہ دُنیا کے اس حصے میں عوامی رائے ریفرینڈم کے ذریعے حاصل کی جائے اور اس کے مطابق اس کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے۔ کشمیر میں روازنہ لاشیں گرتی ہیں، عورتیں اور بچے بھی مارے جاتے ہیں، لیکن کسی عالمی طاقت کو شرمندگی محسوس نہیں ہوتی، کیا صرف اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی وادی ہے اور غیر مسلم ریاست کے قبضے میں ہے ؟ اس کے برعکس گزستہ چند برسوں میں جب کبھی کسی غیر مسلم آبادی نے اپنی علیحدگی ، خود مختاری یا آزادی کے لئے آواز اُٹھائی، عالمی ضمیر فوراً جاگ اُٹھا، فوجیں اُتاری گئیں یا عالمی دباؤ سے مجبور کیا گیا۔ تو پھر کشمیریوں پرمظالم کے خلاف عالمی برادری کا ضمیر کیوں نہیں جاگ اُٹھتا؟ شاید عالمی ضمیر اور عالمی اخلاقیات کے دائرے میں نہ کشمیر آتا ہے اور نہ ہی اس کے مظلوم مسلمان۔

پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی آزادی کی حمایت کی ہے اور ہم اپنے کشمیری بھائیوں پر مظالم کے خلاف بہت بار آواز بلند کر چکے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف نے اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی سیشن میں بھی کشمیریوں کی حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی طر ف دلوائی ہے۔ 20جولائی کو یومِ سیاہ کا اعلان کرکے حکومت نے یہ ظاہر کر دیا کہ ہم ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ہر بات میں سیاست چمکاتے ہیں۔ کچھ سیاسی مخالفین حکومت کے کشمیر تنازعے پر نقطۂ نظر کے اوپر بھی غلط بیانات دے رہے ہیں، جس سے حکومت کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا،بلکہ ان کی اپنی حقیقت سامنے آگئی ہے کہ وہ بے گناہ کشمیریوں کے قتل پر بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آتے ۔

ہمارے سیاسی حلقوں میں یہ تفریق کب تک چلے گی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے پر تو ہمیں ایک آواز بن کر دُنیا کو دکھانا چاہئے۔ حکومت کی پالیسی کشمیر کے حوالے سے توقعات کے بالکل عین مطابق ہے اور بہت سارے فورموں پر حکومت نے اس مسئلے کو اُٹھایا ہے۔ اب اس پر تنقید کرنا اور اس پر دھرنا سیاست کرنا بالکل جائز نہیں، بلکہ ہمیں مسئلہ کشمیر پرایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہونا چاہئے۔ 2013ء کے الیکشن میں جب عوام نے اپنا مینڈیٹ دکھا دیا تو اب سیاسی حریفوں کو اس کو قبول کر لینا چاہئے اور پاکستان کو درپیش مسائل کوحل کرنے میں حکومت کی مدد کرنی چاہئے۔

پاکستان کی معیشت کافی برسوں کے بعد تھوڑی مستحکم ہوئی ہے اور بہتری کی طرف جارہی ہے، جس کو عالمی ادارں اور ملکوں نے بھی سراہا ہے۔ مُلک ترقی کی راہ پر بڑی مشکلوں سے گامزن ہوا ہے ،اب اس کو اس راہ سے ہٹانا بالکل ٹھیک نہیں ہو گا ،جبکہ جمہوریت کے تسلسل میں ہی پاکستان کی بقا ہے ۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کو اتنا ترقی یافتہ اور خوشحال بنانا ہوگا کہ ہمارے کشمیری بھائی خود اپنی خوشی سے ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں، کیونکہ آزادی کے وقت بھی ان کی یہی خواہش تھی، کیونکہ وہ مسلمان اکثریت کا علاقہ ہے۔ احتجاجی اور دھرنا سیاست سے باہر نکل کر اب پاکستان کے مفاد میں اور کشمیری بھائیوں پربھارتی مظالم کے خلاف کام کرنا ہی ہم سب کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کشمیر کے حقِ خود ارادیت کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا۔ ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کا ضمیر جگائیں اور ہر فورم پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن اس پیغام کو پہنچانے اور اس کی افادیت کے لئے پہلے ہمیں اپنا اتحاد بنانا ہو گا اور مسئلہ کشمیر میں مفادات کی سیاست کو روکنا ہوگا۔

مزید : کالم


loading...