رینجرز اختیارات ، بڑا تنازعہ

رینجرز اختیارات ، بڑا تنازعہ
 رینجرز اختیارات ، بڑا تنازعہ

  



کہاوت مشہور ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا نقصان ہوتا ہے۔ رینجرز کو پورے سندھ میں اختیارات دینے کا معاملہ ایسا ہی بنایا جا رہا ہے۔ رینجرز اور وفاق ایک طرف، حکومت سندھ دوسری طرف۔ رینجرز کے اختیارات کے معاملے میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نامعلوم کیوں رینجرز کے وکیل بن کر میدان میں آگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ صوبائی حکومت کی مشکلات کو سمجھتے ، اس کی مدد کرتے ، پولیس کو منظم کرنے میں صوبائی حکومت کی اخلاقی مدد کرتے۔ اس کے بجائے کچھ اس طرح ہو رہا ہے کہ جیسے یہ مخالف قوتیں ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانا چاہتی ہیں۔ رینجرز کو اختیارات کراچی کی حد تک دئے گئے تھے تاکہ وہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، دہشتگردی جیسے جرائم سے نمٹ سکیں۔ ان اختیارات سے لیس ہوکر ستمبر 2013سے رینجرز کراچی میں سرگرم ہے۔ اپیکس کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ہنوز موجود ہے۔ اس وقت کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کو آپریشن کا کپتان قرار دیا گیا تھا۔ وہ ایسے کپتان تھے جسے صرف پویلین میں ہی تماش بینی کے لئے بیٹھا رہنا تھا۔ شائد کپتانی کے ان ہی مضمرات کے پیش نظر موجودہ وزیر اعلی مراد علی شاہ نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کپتان نہیں ہیں بلکہ صوبے کے منتظم اعلی (چیف ایگزیکٹیو ) ہیں۔ انہوں نے بہتر ہی کیا کہ وضاحت کر دی۔ اپنی حیثیت کو منوانے اور جتانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ عہدیدار اپنے عہدے کے حوالے سے پہچانا جائے۔ کراچی آپریشن کے نتیجے میں جرائم اور جرائم پیشہ اور دہشت گرد افراد کی سرگرمیوں پر قابو بھی پایا گیا ہے ۔ حال ہی میں ر ینجرز نے کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ان ہی اختیارات کے حصول کا مطالبہ کیا۔ سندھ کے تمام شہروں میں رینجرز موجود ہے۔ سول انتظامیہ اسے مدد کے لئے طلب کر سکتی ہے ۔ لیکن اب رینجرز خصوصی اختیارات کی طالب ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ دہشت گرد ، جرائم پیشہ افراد اور بدعنوان عناصر جرائم کا ارتکاب کر کے اندرون سندھ کے شہروں میں پناہ لے لیتے ہیں جس کے لئے رینجرز کو کارروائی کرنے کے لئے قانونی اختیارات چاہئیں۔ حکومت سندھ کا خدشہ ہے کہ وفاق رینجرز کو خاص مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے جس کا بظاہر خمیازہ پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت کو ہی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ سندھ میں بھی تو درجنوں مشتاق رئیسانی موجود ہیں۔ مشتاق رئیسانی بلوچستان کے زیر حراست سابق سیکریٹری خزانہ تھے جن کے گھر پر 6 مئی 2016 کو ایک چھاپے میں قومی احتساب بیورو نے کڑوڑوں روپے کی خطیر نقد رقم، جواہرات، اور دیگر قیمتی اشیاء بر آمد کی تھیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ انہوں نے اپنے کارندوں کے ذریعہ دبئی بھی بھاری رقومات ہنڈی کی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے مشتاق رئیسانی اگر ملک سے فرار ہو گئے ہیں تو کیا ہوا، ان کی رہائش گاہیں تو موجود ہیں۔ پیسہ جمع کرنے کی بیماری کے تذکرے بھی تو عام ہیں۔ پیپلز پارٹی کو خوف ہے کہ خصوصی اختیارات حاصل کرنے کے بعد رینجرز نے اگر مشتاق رئیسانیوں کو تلاش کر لیا اور دھر لیا تو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

سیاسی رموز سے واقفیت رکھنے والوں کا قیاس ہے کہ وزیر اعلی کی تبدیلی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ نیا وزیر اعلی ہوگا تو اپنا وقت لے سکے گا اور صوبے میں امن و امان بہتر کرنے کے لئے اقدامات کر سکے گا۔ سندھ کے شہروں میں ، کراچی کے علاوہ جہاں رینجرز کو اختیارات حاصل ہیں، مجموعی طور پر امن و آمان بہتر ہے۔ اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، دہشتگردی جیسے جرائم کا ارتکاب نہیں ہے۔ اس میں پولس، رینجرز کا کمال نہیں ہے بلکہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد سے سب نے ہی ہوش سنبھالا ہے اور چھوٹو گینگ کے خلاف فوج کی کارروائی کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو تو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اکا دکا واقعات نہ رکتے ہیں اور نہ روکے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو کیوں نہیں مناسب وقت دیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنی کارکردگی دکھا سکیں۔ ان کی نامزدگی کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی سے مخاصمت رکھنے والے عناصر نے اپنی توپوں کا رخ وزیر اعلی کی طرف کر دیا ہے۔ ہر طرف سے ایک ہی رٹ لگی ہوئی ہے کہ رینجرز کو اختیارات دے دئے جائیں۔ سیاسی عناصر کی اپنی سیاسی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ انہیں اتنا وقت دینا چاہئے تاکہ وہ اپنے معالات کو بہتر کر سکیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں وزیر اعلی مراد علی شاہ کی حکومت کو نقصان پہنچ جائے ۔ 1954 میں اس وقت کے وزیر اعلی محمد ا یوب کھوڑو نے آ ہنی ہاتھوں سے ون یونٹ کے قیام کا قانون منظور کرایا اور اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا تھا اور بالآخر ان کی سیاسی موت ہو گئی تھی۔ کھوڑو تین بار وزیر اعلی اور ایک بار وزیر دفاع کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے لئے اختیارات دینے کا مسلہ کم و پیش ون یونٹ جیسا مسلہ ہی بن گیا ہے۔ اگر اختیارات دیتے ہیں تو خطرہ ہے کہ سیاسی عناصر ان کے خلاف ہوجا ئیں گے ۔ اگر نہیں دیتے ہیں تو وفاق اور رینجرز محاذ آرائی پر گامزن رہیں گے۔ مراد علی شاہ اپنی سیاسی موت کیوں کر چاہیں گے اور پیپلز پارٹی بھی ایسا نہیں کرے گی۔

ویسے بھی وفاق پاکستان میں وفاقی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھ کر سیاست کرنا انتہائی مشکل مشق ہے۔ ماضی میں جو سیاسی جماعتیں کل پاکستان کی بنیاد پر سیاست کیا کرتی تھیں وہ کس بری طرح سکڑ گئی ہیں۔ وفاقی حکومت کرنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز گروپ پنجاب تک محدود ہو گئی ہے ۔ پیپلز پارٹی کوشش کے باوجود پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی جب نیشنل عوامی پارٹی تھی تو ملک بھر میں سیاست کیا کرتی تھی۔ کراچی سے اردو بو لنے والے محمود الحق عثمانی نیپ کے جنرل سیکریٹری ہوا کرتے تھے۔ چاروں صوبوں میں اس کی پہچان تھی۔ نیپ جب سے اے این پی بنی ہے ، وہ خیبر پختونخوا تک محدود ہو گئی ہے۔ سندھ میں بھی اسے پشتو بولنے والوں کے علاوہ کارکن اور رہنماء میسر نہیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ بھی سر توڑ کوشش کے باوجود سندھ کے بڑے شہروں سے آگے نہیں نکل سکی۔ جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، اس کے کارکن تو موجود ہیں لیکن محدود اور مختصر ہیں۔ جمعیت علماء پاکستان صرف شہری علاقوں میں بھی کراچی اور حیدرآباد کے محلوں تک محدود ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں دم خم نظر آتا تھا لیکن عمران خان نے اپنی توانائی پنجاب میں ہی صرف کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملیوں پر غور کرنا چاہئے تاکہ وفاق پاکستان لسانی یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ اسی صورت حال کے پیش نظر سیاسی عناصر کا ایک گروہ سمجھتا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کو وقت دیا جانا چاہئے اور اختیارات کے حصول کے لئے ان پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے۔ اپیکس کمیٹی میں ان سے ان کی مجبوریوں، کوتاہیوں پر گفتگو تو سکتی ہے، اختیارات کے معاملات کو ذرائع ابلاغ میں تشہیر کر کے اسے تنازعہ بنانے اور اس سے کھیلنے کے نتائج بہتر نہیں نکلیں گے۔

مزید : کالم