رب العالمین کا حق؟

رب العالمین کا حق؟

  



حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جب رسول اللہ ؐ فوت ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہوگئے۔ (اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کردیا اور حضرت ابوبکرؓ نے ان سے لڑنا چاہا) تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ ؐ کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کرسکتے ہیں کہ ’’مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہ دے دیں۔ اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال وجان محفوظ ہو جائے گا۔ سوائے اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا‘‘ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰۃ اور نماز میں تفریق کرے گا۔ (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰۃ کے لئے انکار کردے) کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے زکوٰۃ میں چار مہینے کے بچے کے دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ ؐ کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ بخدا یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکرؓ ہی حق پر تھے۔

حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس کا اقرار کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس جس نے اقرار کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہے سوائے اس حق کے جس کی بناء پر قانوناً اس کی جان ومال زد میں آئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں۔ جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان ومال کو محفوظ کرلیں گے سوائے اسلام کے حق کے، (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

حضرت مسیب بن حزن کی کنیت ابوسعید تھی۔ آپ نے اپنے والد حزن کے ہمراہ ہجرت کی۔ مسیب بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ صحیحین میں ان کی ایک حدیث ہے جو طارق بن عبدالرحمن کے واسطے سے بیان ہوئی ہے۔ شام کی فتوحات میں شریک رہے۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ کی کنیت ابوالولید تھی۔ لیلتہ العقبہ میں نقیب مقرر ہوئے تھے۔ بدری صحابی ہیں۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں شام میں قاضی اور معلم کے فرائض انجام دےئے۔ بعد میں بیت المقدس میں مقیم رہے۔ آپ کی روایات 181 ہیں جن میں سے چھ متفق علیہ ہیں۔ آپ نے72 سال کی عمر میں 34ھ کو رملہ کے مقام پر وفات پائی۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’جس نے گواہی دی کہ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد ؐ اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک، اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے‘‘ تو اس نے جو بھی عمل کیا ہوگا (آخر) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ سند کے ایک راوی نے مزید یہ لفظ بیان کئے ہیں کہ وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل کیا جائے گا۔‘‘

حضرت معاذ بن جبلؓ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ؐ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور آنحضرت ؐ کے درمیان کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ اسی حالت میں آنحضرت ؐ نے فرمایا: ’’اے معاذ! (میں بولا) یا رسول اللہ ؐ میں حاضر ہوں۔ آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا اے معاذ! میں بولا یار سول اللہ! حاضر ہوں، آپ کی اطاعت کے لئے تیار ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اس کے بعد فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، یارسول اللہؐ آپ کی اطاعت کے لئے تیار ہوں۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق یہ ہے کہ بندے خاص اس کی ہی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ کی اطاعت کے لئے حاضر ہوں۔ آنحضرت ؐ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب کہ وہ یہ کام کرلیں؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ پھر بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔

حضرت معاذ بن جبلؓ کی کنیت ابو عبدالرحمن انصاری تھی۔ حلال اور حرام کے بارے میں مقدم اور امام تھے۔ خوبصورت انسان تھے۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہوئے۔ نبی اکرم ؐ نے انہیں یمن کا گورنر اور حاکم مقرر کیا تھا۔ پھر حمص میں رہے اور شام میں طاعون کی بیماری میں 38 سال کی عمر میں 18ھ کو وفات پائی۔ حضرت معاذؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ؐ جس گدھے پر سوار تھے میں اس پر آپ ؐ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یارسول اللہ ؐ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت دے دوں؟ آنحضرت ؐ نے فرمایا لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے (اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے)۔

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت معاذبن جبلؓ رسول اللہؐ کے پیچھے سواری پر تھے۔ آپ ؐ نے فرمایا: اے معاذ! انہوں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ ؐ نے (دوبارہ) فرمایا، اے معاذ! انہوں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ؐ نے (سہ بارہ) فرمایا، اے معاذ! انہوں نے عرض کیا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول۔ تین بار ایسا ہوا (اس کے بعد) آپ ؐ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدؐ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ کی) آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ (حضرت معاذ نے) کہا یارسول اللہ ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر کردوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔ آپ ؐ نے فرمایا (اگر تم یہ خبر سناؤ گے) تو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے) حضرت معاذؓ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ؐ ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ انصاری اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو؟ آپ نے اس (انصاری) سے فرمایا کہ ’’اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیات بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔‘‘ حیا اور شرم انسان کا ایک فطری نیک جذبہ ہے۔ جو اسے بے حیائی سے روک دیتا ہے اور اس کے طفیل وہ بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے بچ جاتا ہے۔ حیا سے مراد وہ بے جا شرم نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان کی جرات عمل ہی مفقود ہو جائے اور وہ اپنے ضروری فرائض کی ادائیگی میں بھی شرم وحیا کا بہانہ تلاش کرنے لگے۔(از’’اللؤ لووالمرجان)

(بخاری و مسلم کی چند متفقہ احادیث)

مزید : ایڈیشن 1


loading...