والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

  



ڈاکٹر سجاد الٰہی

ہر انسان اپنی زندگی میں اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ وہ ایسے اعمال کرے، جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جنت میں داخل ہو جائے۔ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری ان اعمال میں سے ایک عمل ہے جو اللہ کی توفیق سے جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ جب تک والدین زندہ ہوں، انسان کے لئے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھلا رہتا ہے، چاہے تو وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل ہو جائے اور چاہے تو اُن کی نافرمانی کر کے جنت میں داخل ہونے سے محروم رہ جائے۔ قرآن و سنت میں والدین کے مقام و مرتبہ اور قدر و منزلت کو بہت اجاگر کیا گیا ہے اور ان کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ ذیل میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس بات کو واضح کیا جا رہا ہے۔

*۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اور پھر اسے حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنم دیا‘‘۔

*۔۔۔والدین کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا‘‘۔

*۔۔۔والدین اتنی زیادہ قدر و منزلت کے حامل ہیں کہ ان سے نیکی کرنے والا جنت میں داخل ہو گا، جبکہ ان کی نافرمانی کرنے والا جہنم کی آگ کا ایندھن بنے گا۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ نے فرمایا: ’’اس شخص کی ناک گرد آلود ہو جائے۔‘‘ (تین بار فرمایا) عرض کیا گیا اے اللہ کے رسولؐ! کس شخص کے بارے میں آپ یہ بددعا کر رہے ہیں؟ رسول کریمؐ نے فرمایا: (میں اس شخص کے بارے میں یہ بددعا کر رہا ہوں) جس نے بڑھاپے کی حالت میں اپنے والدین کو پایا، یا ان میں سے ایک کو پایا، پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہو سکا۔

*۔۔۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ والدین کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کی ناراضگی سے ڈرا جائے، کیونکہ ان کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ امام منذریؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور والدین کو ناراض کرنے والا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے‘‘۔

*۔۔۔والدین کی نافرمانی کرنا اتنا سنگین جرم ہے کہ اسے کبیرہ گناہوں میں سے بھی بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے۔ حضرات ائمہ بخاری اور مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’کیا مَیں تمہیں بڑے گناہوں میں سے (بھی) بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہمیں ضرور ان گناہوں کی خبر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’(بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں) کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جائے اور والدین کی نافرمانی کی جائے۔

*۔۔۔ عام حالات میں والدین کی اطاعت اور خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ حضرات آئمہ بخاری اور مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی، آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اُس نے عرض کیا، جی ہاں (میرے ماں باپ زندہ ہیں) آپ ؐ نے فرمایا:’’پس تم ان کی خدمت کرو، یہی (تمہارا) جہاد ہے۔‘‘

*۔۔۔ اگر کوئی شخص جنت کا مکین بننا چاہتا ہے تو وہ یہ جان لے کہ جنت والدین کے قدموں تلے پنہاں ہے۔ امام طبرانی روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ کے پاس ایک شخص جہاد میں شرکت کی اجازت حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ آپؐ نے دریافت کیا کہ کیا تیرے والدین (زندہ) ہیں؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپؐ نے فرمایا: ’’ان کے ساتھ (ان کی خدمت میں) مگن ہو جاؤ، بے شک جنت ان کے قدموں تلے ہے‘‘۔

*۔۔۔اولاد اپنے والدین کے احسانات کا بوجھ ایک صورت کے علاوہ کبھی نہیں چکا سکتی اور وہ صورت یہ ہے کہ والد غلام ہو اور بیٹا اپنے باپ کو خرید کر آزاد کر دے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا:’’بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ ایک صورت کے سوا کبھی نہیں چکا سکتا اور وہ صورت یہ ہے کہ بیٹا اپنے غلام باپ کو خرید کر آزاد کر دے۔

*۔۔۔اولاد کا اپنے والدین کو دعاؤں میں یاد رکھنا یقیناًمستحسن عمل ہے جو دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اور تو ان کے لئے عاجزی کا پہلو جھکائے رکھ اور کہا کر اے میرے رب! تو ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے میری بچپن میں پرورش کی۔ ‘‘

رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جب آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے، نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے، مفید علم اور صدقہ جاریہ‘‘ ۔ (مسلم) ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے والدین کے فوت ہونے کے بعد ان کے لئے اولاد کی دُعا کو درجات کی بلندی کا سبب قرار دیا۔

نبی کریمؐ نے والدین کو سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار قرار دیا ہے۔ ایک سائل نے آپؐ سے پوچھا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے تو آپ نے فرمایا: ’’تیری ماں، اس نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ نے پھر فرمایا کہ ’’تیری ماں‘‘ اس نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون تو آپ نے فرمایا کہ ’’تیرا باپ‘‘ پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ رشتے دار تیرے اچھے سلوک کے حقدار ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے اور ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مزید : ایڈیشن 1