ترقیاتی کام اور ہمارے رویئے!

ترقیاتی کام اور ہمارے رویئے!
ترقیاتی کام اور ہمارے رویئے!

  



لاہور میں میٹرو اورنج ٹرین کا کام جاری ہے، بلکہ اب تو تکمیل کی طرف گامزن ہے، پلرز کھڑے ہو گئے، اب ان پر پُل اور پھر پٹڑی بچھانے کا کام ہونا ہے۔ اگرچہ بہت کام باقی ہے تاہم رفتار مناسب ہے۔ گزشتہ روز چوک لکشمی اور لاہور ہوٹل کے چوک تک جانے کا اتفاق ہوا تو محسوس ہوا جو کام پلرز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہونا تھے وہ اب کئے جا رہے ہیں، ٹھیکیدار کا عملہ پلرز کے اردگرد سے ملبہ اور مٹی اُٹھا کر سواری کے گزرنے کا راستہ صاف کر رہا تھا اور تکلیف سے سہی ٹریفک شروع ہو چکی تھی، ابتدا میں یہاں ملبے کے ڈھیر اور دلدل تھی، جس کی وجہ سے گزر گاہ تو بند تھی، دکاندار بھی ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھے تھے، داد دینی چاہئے ان تاجر حضرات کو کہ انہوں نے بھی متوالا ہونے کا ثبوت دیا اور کوئی پُرزور احتجاج نہیں کیا۔ کہا جا رہا تھا، آج کی تھوڑی دِقت مستقبل کی راحت ہے۔ بہرحال ذکر تھا، ملبہ اُٹھا کر راستہ بحال کرنے کا، سڑکیں تو جب بنیں گی سو بنیں گی۔ البتہ چھوٹے چھوٹے گڑھوں کے باوجود ٹریفک شروع ہو گئی تھی، ٹھیکیدار یہی مہربانی پہلے بھی کر سکتے تھے چلئے، اگر اب بھی ملبہ اُٹھایا اور پانی کا چھڑکاؤ کیا ہے تو سڑکوں کی سطح بھی ہموار کی جا سکتی ہے کہ سڑکوں کی تکمیل و تعمیر کا مرحلہ آنے تک شہری تھوڑی پریشانی اٹھائیں اور گزر سکیں کہ ابتدا میں تو کسی کی تکلیف یا دُکھ کا اندازہ ہی نہیں کیا گیا خادم اعلیٰ کی دلچسپی نے کام دکھایا، ٹھیکیدار نے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

قارئین! یہ عرض کرنے کا بھی ایک مقصد ہے وہ یہ کہ ہم آج لاہور سے باہر ہیں اور سفر بخیر کرتے ہوئے راولپنڈی میں ایک ریسٹ ہاؤس میں مہمان ہیں، جو یقیناًاچھا ہے اور میزبان بھی مہربان ہیں،یہاں آمد صاحبزادے عاصم چودھری کے اصرار پر ہوئی کہ کچھ تبدیلی آب و ہوا بھی ضروری ہے رمضان المبارک کے بعد طبیعت خراب ہو گئی تھی اور کافی مشکل پیش آئی اب الحمدللہ بہتر ہے تو صاحبزادے نے ہوا خوری کا پروگرام بنا لیا۔ یہ سطور ریسٹ ہاؤس کے کمرے سے صبح صبح لکھی ہیں کہ اگلی منزل کی طرف روانہ ہونا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان حضرات کو جنہوں نے کافی عرصہ سے جی ٹی روڈ کا سفر نہیں کیا، آگاہ کیا جا سکے کہ صرف لاہور ہی میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، دوسرے شہروں میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یوں جی ٹی روڈ تو مسلسل انہی مراحل میں نظر آتی ہے۔

ہم نے لاہور بائی پاس سے کالا شاہ کاکوکا راستہ لیا کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے بتی چوک سے شاہدرہ تک اور اس سے پہلے لوئر مال اور داتا دربار کے چوک میں ٹریفک کی جو پریشانی ہوتی ہے اس سے بچا جا سکے، لیکن پہلا واسطہ نواں کوٹ انٹر چینج پر پڑا کہ ملتان روڈ سے کسی طرح گزر کر سبزہ زار کی سڑک پر آ گئے اور یہاں گدھا گاڑیوں، چنگ چی رکشوں(چاند گاڑیوں) سے بچتے بچاتے اس انٹر چینج کے لئے سڑک تک پہنچے تھے۔ راستے میں سڑک کنارے، کنارے کیا، بلکہ آدھی سڑک پر فروٹ اور دوسرا سامان بیچنے والوں کے قبضے میں تھی، ان حضرات کو گاڑی والوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان کا کیا بگڑتا ہے۔ بہرحال موٹروے کے بابو صابو انٹر چینج تک پہنچنے کے لئے جو وقت لگا اُس نے ہمیں راوی پُل، بتی چوک اور شاہدرہ بھلا دیا کہ یہاں بے ہنگم ٹریفک تھی اور ٹریفک وارڈنز حضرات دکھائی نہیں دے رہے تھے، لوگ خود ہی اپنا راستہ بنا رہے تھے، مشکل سے گزرے تو کالا شاہ کاکو تک سہولت سے پہنچ گئے اور جی ٹی روڈ سے سفر شروع کیا۔

اس طرف سے راولپنڈی جانے کا یہ فائدہ ہوا کہ آپ چاہتے ہوئے بھی گاڑی کی رفتار تیز نہیں کر سکتے۔ ایک تو اس سڑک پر آبادی ہے اور پھر ٹریفک بھی زیادہ، کہ مسلسل آبادی ساتھ ساتھ موجود ہے، پھر ہر قسم کی سواری مل جاتی ہے۔ ویگن سے بس اور ٹرک، ٹریکٹر ٹرالی سے گدھا گاڑی اور چاند گاڑیاں بھی دوڑتی نظر آتی ہیں، ان چاند گاڑیوں، گدھا گاڑیوں اور ٹریکٹر ٹرالی والوں کو ٹریفک کے کسی کلیئے اور قاعدے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کو تو اپنا کام کرنا۔ تو جناب آپ مجبور ہیں کہ مناسب رفتار سے چلیں کہ ’’دیر سے پہنچنا، کبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے‘‘ کہ یہ قول موٹروے والوں کا ہے جسے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی والوں نے اپنا لیا ہے۔ سفر شرط ہے کے مطابق ہمارا سفر جاری رہا، راستے میں مختلف مقامات پر سڑکوں کی مرمت سے واسطہ پڑا، ان سے بھی گزر گئے، لیکن جب ہم گوجرانوالہ کا اوور ہیڈ پُل پار کر کے راہوالی کی طرف گامزن ہوئے تو تعمیراتی کام سے واسطہ پڑ گیا کہ ایک طرف سے سڑک کھود کر نئی تعمیر کی جا رہی تھی۔ مقصد یہ کہ سڑک کی چوڑائی بڑھائی جائے اور مرمت طلب سڑک کو پھر سے تعمیر کر دیا جائے، گرد و غبار اور موٹے موٹے پتھروں پر سے گاڑی کے ٹائروں کو نقصان پہنچاتے ہوئے مزید آگے بڑھے تو ٹریفک جام سے واسطہ پڑ گیا کہ وہاں گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، راولپنڈی انٹر چینج کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔

یہاں لاہور کی میٹرو اورنج لائن ٹرین یاد آ گئی کہ یہاں بھی ٹھیکیدار نے کام پر توجہ رکھی لوگوں کے گزرنے کے لئے راستے نہیں بنائے، چنانچہ اونچے نیچے گڑھوں سے گزرنے والی ٹریفک آمنے سامنے کھڑی ہو جاتی، یہاں پہلے آپ کی جگہ پہلے مَیں کا فارمولا چلتا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک رُکتی ہے کہ لوگ آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ نہ تو ٹریفک پولیس اور نہ ہی ٹھیکیدار نے خود ایسا انتظام کیا کہ گزرنے والوں کو سہولت ہو، بمشکل یہاں سے گزرے تو پھر سارے راستے میں مختلف مقامات پر سڑک کی تعمیر نو کا کام نظر آیا، ثابت ہوا کہ ترقی صرف لاہور میں نہیں ہو رہی، یہ الگ مسئلہ ہے کہ معینہ وقت سے کم از کم دو گھنٹے لیٹ راولپنڈی پہنچے۔

قارئین! ایک بات اور بتانا ضروری ہے کہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، راولپنڈی انٹر چینج زیر تعمیر ہے یہ ہماری ذاتی خواہش کے عین مطابق ہے، تعمیر مکمل ہو کر ٹریفک چلے گی تو دیکھئے گا کہ یہ پاکستان نہیں جاپان نظر آئے گا، ایک درخواست شہریوں سے ہے کہ ترقیاتی کام تو ہونا ہیں وہ خود بھی ذرا ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

مزید : کالم


loading...