خودداری بڑی دولت ہے

خودداری بڑی دولت ہے

  



آمنہ ایک معزز فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے خاندان میں تمام رشتے دار، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھیاں اچھے خاصے مالدار تھے۔ کچھ بڑی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور کچھ کے اپنے بہت بڑے بڑے کاروباری ادارے تھے۔ اس کے تمام کزن، بھائی اور بہنیں بہت مہنگے اور مشہور سکولوں کالجوں میں پڑھتے تھے۔ آمنہ اور اس کے دونوں بھائی سعد اور خزیمہ ایک چھوٹے سے پرائیویٹ سکول میں زیر تعلیم تھے جس کے طلبہ و طالبات کے الگ الگ کیمپس تھے۔ فیس بھی اس کے کزنز کے سکولوں سے بہت کم تھی اور عمارت بھی سادہ سی تھی مگر خوشی کی بات یہ تھی کہ اس سکول میں تمام ضروری سہولیات حاصل تھیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو لوڈشیڈنگ تھا۔ اس سکول کی انتظامیہ نے اس کا بہترین حل نکال رکھا تھا۔ انھوں نے ایک جنریٹر بھی رکھا ہوا تھا اور شمسی توانائی (سولر انرجی) سے بھی کچھ کمروں میں روشنی اور پنکھے چلانے کا اہتمام تھا۔ شدید گرمی میں کبھی سٹاف اور طلبہ و طالبات کو کوئی مشکل پیش نہ آتی تھی۔ پاکستان میں یہ بہت بڑی نعمت تھی۔

آمنہ کے والد عبداللہ صاحب ایک بنک میں ملازم تھے جہاں سے ان کو اچھی خاصی تنخواہ ملتی تھی مگر جب اللہ نے ان کو بچے عطا فرمائے تو وہ فکر مند ہوگئے کہ سودی بنک کی ملازمت چھوڑ کر کوئی دوسری ملازمت تلاش کریں۔ یہ خاصا مشکل کام تھا کیوں کہ پاکستان میں بیروزگاری بھی مہنگائی و بدامنی کی طرح آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ ہر روز اپنی بیوی سے کہتے: ’’خدا کی بندی! دعا کرو کہ ہم ان پھول جیسے معصوم بچوں کو رزقِ حلال کھلانے کے قابل ہوجائیں۔‘‘ بے چاری زبیدہ دعائیں کرتی کرتی تھک گئی مگر قبولیت کی گھڑی شاید ابھی نہ آئی تھی۔

ایک روز عبداللہ نے اپنی بیوی سے کہا: ’’میں اس ماہ کے آخر پر بنک ملازمت چھوڑ رہا ہوں۔‘‘ بیوی نے پوچھا ’’کیا کوئی متبادل ملازمت مل گئی ہے؟‘‘ عبداللہ نے کہا ’’نہیں، تلاش ہی کرنا پڑے گی۔‘‘ یہ سن کر بیوی نے زور زور سے بولنا شروع کر دیا کہ گھر کا خرچ کیسے چلائیں گے اور بچوں کی تعلیم کا کیا بنے گا۔۔۔؟ عبداللہ نے کہا: ’’اللہ مالک ہے، وہ رزق دے گا۔ میں نے دو ماہ کے اخراجات کے لئے انتظام کر رکھا ہے۔‘‘ میاں بیوی میں تکرار شروع ہوگئی۔ ننھی آمنہ بھی سارے معاملے کو سمجھ گئی۔ اس نے باپ کی تائید کرتے ہوئے کہا: ’’امی، ابو جی ٹھیک سوچ رہے ہیں۔ ہمیں رزق حلال کی تلاش کرنی چاہیے۔ ہم مسلمان ہیں۔ اللہ پر ایمان اور بھروسہ بھی ہونا چاہیے اور اس کے احکام کی تعمیل بھی ہونی چاہیے۔‘‘

آمنہ کی ماں نے بیٹی کی بات سن کر اس پر خوب غصہ نکالا مگر آمنہ اور اس کے والد صبر کے ساتھ جلی کٹی سنتے رہے۔ عبدا للہ نے اپنے ارادے کے مطابق بنک سے استعفا دے دیا، مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دو ماہ بیت جانے پر بھی کوئی متبادل ذریعۂ معاش نہ مل سکا۔ اب آمنہ کی ماں کا غصہ اور بڑھ گیا اور اس نے تمام رشتے داروں کو بھی اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔

آخر ایک روز عبداللہ صاحب کے ایک پرانے دوست اور ہم جماعت نذیر حسین کا بیرونِ ملک سے فون آیا۔ انھوں نے کہا: ’’عبداللہ بھائی مجھے حسین بھائی سے معلوم ہوا تھا کہ آپ آج کل فارغ ہیں۔ میری درخواست ہے کہ میری گارمنٹ فیکٹری کی ذمہ داری تم سنبھال لو۔ چاہو تو باہمی مشورے سے تمھارا معاوضہ طے کرلیں گے اور چاہو تو آمدنی کا نصف تم لے لیا کرنا، نصف مجھے دے دینا۔۔۔‘‘

اس فون کی خبر پا کر آمنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا: ’’ابو جی! آپ نے بھی بہت دعائیں کیں مگر میں نے تو ہر نماز کے بعد اللہ سے رو رو کر دعا کی کہ ’’اے رازقِ حقیقی! میرے ابو رزق حلال کی تلاش میں ہیں، تو ان کو کامیابی عطا فرما کہ وہ ہمیں حلال کی روٹی کھلا سکیں،‘‘ سو اللہ ضرور ہمارے لئے اس پیش کش کو رزقِ حلال کا ذریعہ بنا دے گا۔‘‘ عبداللہ نے محبت سے اپنی پیاری بیٹی کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔

گارمنٹ فیکٹری بہت نفع بخش کاروبار کرسکتی تھی مگر بد نظمی کی وجہ سے اس کی حالت پتلی تھی۔ عبداللہ نے چارج سنبھالا تو سب کارندوں کو اعتماد میں لیا اور کہا: ’’پیارے بھائیو! میں تمھارا افسر نہیں ہوں، ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، بس ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ ہم سب ایمانداری اور فرض شناسی سے کام کریں گے تو ہر ایک کو نفع ہوگا۔ ‘‘پھر اس نے کام کی نوعیت اور مختلف کارندوں کے فرائض کے بارے میں مکمل معلومات لیں۔ ایک منظم سسٹم کے تحت کام شروع ہوا تو حالات بہتر ہونے لگے۔ چار مہینے میں وہ فیکٹری جو ملازمین کی تنخواہیں بھی مشکل سے فراہم کر رہی تھی، نفع کمانے لگی۔

عبداللہ نے یہ چار ماہ بڑی آزمایش میں گزارے۔ اس نے اپنے دوست سے قرض لے کر گزارا کیا۔ اس کی بیوی اسے طعنے دیتی رہتی، اس کے بھائی بہن اس کو کوستے کہ اچھا خاصا کام چھوڑ کر کس مصیبت میں پھنس گئے ہو، مگر وہ صبر و ہمت سے کام کرتا رہا۔ چوتھے مہینے اس نے اپنے دوست کو رپورٹ دی کہ اس ماہ فیکٹری نے ایک لاکھ روپے کی بچت دی ہے۔ اس کے بعد اللہ کے فضل سے ہر مہینے منافع بڑھنے لگا۔ ملازمین کو بھی نذیر صاحب کے مشورے سے عبداللہ نے کچھ انعام اور بونس دینا شروع کیا۔ بس اب کیا تھا، اللہ نے اتنی برکت دی کہ عبداللہ کو آدھا منافع جو ہر ماہ ملتا تھا، وہ بنک کی آخری تنخواہ سے چار پانچ گنا زیادہ ہوتا تھا۔

اب عبداللہ کی اہلیہ اور اس کی فیملی کے تمام ارکان اس کی بے پناہ عزت کرنے لگے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے بھائی بہنوں کے بچے جو اعلیٰ اور مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے تھے، ان کے مقابلے میں عبداللہ کے بچے عام سکولوں میں زیر تعلیم ہونے کے باوجود بہتر نتائج دکھا رہے تھے۔ آمنہ نے میٹرک کے امتحان میں بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ عبداللہ نے بھی اس ساری تعلیمی و معاشی کامیابی کو اپنایا اپنے بچوں کا کارنامہ قرار نہ دیا۔ وہ انکسار کے ساتھ یہی کہتا کہ یہ سب میرے اللہ کی عطا اور رزقِ حلال کی برکت ہے۔

عبداللہ کے دوستوں کا ایک اچھا خاصا حلقہ تھا۔ وہ مختلف پیشوں سے منسلک تھے۔ بعض کا کاروبار اور ملازمتیں ٹھیک ٹھاک تھیں جبکہ بعض مشکلات کا شکار تھے۔ وہ سب عبداللہ سے مشورہ مانگتے رہتے تھے۔ وہ ہر ایک کو انتہائی اخلاص اور ہمدردی سے ایسا مشورہ دیتا جس میں کاروباری اور پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے مفید معلومات و تجاویز بھی ہوتیں اور اس کے ساتھ رزقِ حلال کی تلقین بھی۔ یوں اللہ نے اسے نہ صرف عزت و تکریم عطا فرمائی بلکہ نیکی پھیلانے کا ذریعہ بھی بنا دیا۔

ایک دن آمنہ اپنے تعلیمی ادارے سے چھٹی کے بعد گھر آئی تو اپنے والد سے کہنے لگی: ’’ابو جی! آپ کو آج مبارک باد دینی ہے۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’بیٹی! کس بات کی مبارک باد؟‘‘ آمنہ نے کہا: ’’آج ہمیں ہماری پرنسپل صاحبہ نے جو درس حدیث دیا اور پھر ہم سب کو وہ حدیث یاد بھی کرائی، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص کسی کو خیر اور بھلائی کا راستہ دکھائے، اسے اس عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے، تو ابوجی! آپ نے بھی اپنے کئی دوستوں کو رزقِ حلال کمانے کا راستہ دکھایا ہے، لہٰذا آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔‘‘ عبداللہ نے اپنی ہونہار بیٹی کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے۔

مزید : کالم


loading...