درس و تدریس ایک مقدس و محترم پیشہ

درس و تدریس ایک مقدس و محترم پیشہ

  



پروفیسر قاضی اکرام بشیر

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے ہاں پیشہ تدریس سمیت ہر شعبہ زندگی میں قحط الرجال رہا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح تدریسی پیشے سے وابستہ افراد میں محنت لگن، فرض شناسی اور دیانتداری کی بے پناہ کمی رہی ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اچھے اساتذہ خال خال ہی ملتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں سکول، کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔ کالج اساتذہ کی پروموشن کا فارمولا تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں کالج لیکچرار بطور اسسٹنٹ پروفیسر، سینکڑوں اسسٹنٹ پروفیسر ایسوسی ایٹ پروفیسر اگلے گریڈوں میں ترقی پا گئے یہاں تک کہ وہ اساتذہ جو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ اگلے گریڈوں میں ترقی حاصل کریں گے، پروموشن کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پروموشن کے بعد ان کی کارکردگی میں کوئی اضافہ ہوا۔۔۔؟ ہرگز نہیں۔ ان اساتذہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ یہ اپنے تدریسی فرائض سے جتنا زیادہ اغماض اور فرار حاصل کر سکتے ہیں، کر لیں یہ اساتذہ کرام کلاسوں میں جا کر بھی تدریسی فرائض سر انجام نہیں دیتے لیکن بھاری تنخواہوں، مراعات اور گریڈوں کے حصول کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ دوسری طرف جتنا زیادہ استحصال نجی شعبے میں سکول، کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کا ہو رہا ہے، سرکاری شعبے کے اساتذہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں اساتذہ کو صبح سے شام تک موجود رہنے کا پابند بنایا جاتا ہے اور ان سے تدریس کا بے پناہ کام لیا جاتا ہے جو سرکاری اساتذہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں انہیں سرکاری مراعات اور نجی اداروں کے استحصالی رویئے کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اساتذہ کرام کی وہ عزت و تکریم نہیں ہے جو برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ، ترکی، ایران اور دیگر ممالک میں ہے لیکن اساتذہ کرام بتائیں کہ انہوں نے اس عزت و تکریم کے حصول کے لئے کیا کوششیں کی ہیں؟ ۔

ہمارے ہاں دیہاتی سکولوں میں مویشی باندھے جاتے ہیں اور سکول اساتذہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ طلبا و طالبات ان کے خورو نوش کا بھی اہتمام کریں گے اگرچہ ہمارے دیہات میں جو سماجی مقام و مرتبہ ایک پولیس کانسٹیبل، پٹواری، دکاندار، زمیندار، فیکٹری مالک، بینک آفیسر کو حاصل ہے وہ سکول اساتذہ کو حاصل نہیں ہے لیکن وہ اساتذہ جو رول ماڈل ہیں، جو اپنے فرائض منصبی پوری لگن اور انہماک سے سر انجام دیتے ہیں، انہیں اب بھی انتہائی عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔

جہاں تک قصبوں اور شہروں کا تعلق ہے یہاں پرائیویٹ سکول، کالجز اور اکیڈمیاں سرکاری سکولوں اور کالجوں کے دم قدم سے آباد ہیں ایک کالج ٹیچر جو اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا ،وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی (1/3 یا 1/4) معاوضہ لے کر اپنے کالج سے زیادہ وقت اور توجہ اکیڈمی کو دیتا ہے۔ اگرچہ پرائیویٹ اکیڈمیوں میں سرکاری کالجوں کے جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں وہ انگلش، اردو، فزکس، کیمسٹری، ریاضی، زوالوجی، بیالوجی، اکنامکس، مطالعہ پاکستان، اسلامیات، شماریات، کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور اسی طرح کے اہم مضامین کے اساتذہ ہیں جنہیں پرائیویٹ اکیڈمیاں اپنے ہاں ملازمت مہیا کرتی ہیں جو کالجوں کے تدریسی اوقاتِ کار کے دوران بھی ہوتی ہے اور یہ اساتذہ اپنے صدورِ شعبہ سے درخواست کر کے اپنے پیریڈز ان اوقات میں رکھواتے ہیں جو اکیڈمی سے مختلف ہوں اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو کالجوں میں سیاست کا بازار گرم رکھتے ہیں۔

ہمارے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بے شمار اساتذہ ہمہ وقت اپنے اپنے گروپوں کو مضبوط بنانے اور مخالف گروپوں پر الزام تراشی غیبت اور ان کی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ راقم الحروف نے اپنے طویل تدریسی کیریئر میں مشاہدہ کیا کہ اساتذہ کرام اپنے مخالفین کو اتنا ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ جتنا سیاستدان اور دیگر طبقات بھی اپنے اپنے شعبوں میں نہیں کرتے۔

تدریسی شعبے میں جدید ریسرچ کی اہمیت و افادیت

گزشتہ 30 سالوں سے تدریسی شعبے میں ریسرچ کی اہمیت و افادیت بڑھ گئی ہے جو اساتذہ ایم فل اور ڈاکٹریٹ کرتے ہیں انہیں پبلک سروس کمیشن کی طرف سے اعلیٰ ترین گریڈوں سے نوازا جاتا ہے لیکن ہمارے اسی فیصد سے زائد اساتذہ نہ صرف خود ایم فل، پی ایچ ڈی کی طرف مائل نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے طلبا و طالبات کی بھی راہنمائی نہیں کرتے اور انہیں ریسرچ کے کام میں اپنے تجربات اور علم و فضل سے فیضیاب نہیں کرتے۔ اگر کچھ اساتذہ بذاتِ خود ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں تو وہ اپنی مکمل توجہ اپنی ریسرچ تک محدود کر دیتے ہیں اور ریسرچ کے کام میں یا تدریس میں اپنے طلبا و طالبات کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور صرف اپنے صدور شعبہ کی خوشنودی حاصل کر کے تمام فرائضِ منصبی سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔

رول ماڈل اساتذہ

قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے ܨعد بے شمار ایسے اساتذہ کرام اور پرنسپل صاحبان ہمارے تدریسی شعبے میں موجود رہے جن کی فرض شناسی، محنت، لگن اور دیانتداری کے باعث گزشتہ کئی نسلیں انکا نام انتہائی احترام سے لیتی ہیں ان اساتذہ میں جامعہ پنجاب، گورنمنٹ کالج لاہور جی سی فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، بہاولپور، اٹک، ڈیرہ غازی خاں لاہور، شیخوپورہ، قصور، چنیوٹ اور دیگر شہروں میں ان اساتذہ کی تدریسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور معاشرے میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان نامور اساتذہ کی فہرست بہت طویل ہے اور ان کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچتی ہے۔ پیشہ تدریس میں عدالت عالیہ عدالتِ عظمیٰ اور دیگر شعبوں کی بہت سی نامور شخصیات کا نام بھی آتا ہے۔ سرِ فہرست شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال، مولوی میر حسن، مولانا محمد حسین آزاد، فیض احمد فیض، پطرس بخاری، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، ڈاکٹر سید عبداللہ، پروفیسر سید وقار عظیم، عبادت بریلوی، ڈاکٹر سید نذیر احمد، پروفیسر خلیق الرحمن، ڈاکٹر حسن امیر شاہ جیسی شخصیات شامل ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ کو قدیم نابغہء روزگار اساتذہ کی علمی روایات کو آگے بڑھانا چاہئے تاکہ اس مقدس پیشے کی عزت و تکریم میں اضافہ ہو سکے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...