نجی یونیورسٹیاں کیوں ضروری ہیں؟

نجی یونیورسٹیاں کیوں ضروری ہیں؟

  



بدلتے معاشی نظریات کی وجہ سے اب سرمایہ کاری صرف صنعت، سٹاک ایکسچینج، زراعت، کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری اور میڈیا میں سرمایہ کاری کرنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ شعبہ تعلیم میں بھی سرمایہ کاری برق رفتاری سے ہورہی ہے۔تعلیم کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو اپاہج کرنے کا فن بھی سود مند کاروبار بن گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے بعض افراد نے چند سالوں میں اپنے تعلیمی منافع کی بنیاد پر دولت بھی اکٹھی کر لی ہے اور سماج کی نظروں میں مسیحا کا درجہ بھی حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ مسیحا ہیں جو سالانہ دو دو لاکھ روپے فیسیں وصول کر کے والدین کی جیبیں ہلکی کر رہے ہیں۔

پاکستان میں موجودہ تعلیمی صورتِ حال یہ ہے کہ شرحِ تعلیم کی درجہ بندی میں دْنیا کے تمام ملکوں میں سے اسلامی ملک پاکستان 113ویں نمبر پر ہے ۔ مگر ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کے نام کی کوئی ترجیح شامل نہیں۔ اس امر کا اندازہ تعلیمی بجٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کل بجٹ کا 2 فیصد بنتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل پچیس اے (25A)کے مطابق ہر شہری کو تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی حکومت نے اس آئینی ذمہ داری کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کیا۔

اعلیٰ تعلیم پر قومی آمدنی کا صرف 0.2فیصد صرف کرنا باعث تشویش ہے۔ کسی بھی مغربی یونیورسٹی کا تعلیمی بجٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) کے کْل بجٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

بلا شبہ کوئی بھی معاشرہ معیاری تعلیم وتحقیق کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ اسے ہماری بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی دورِ حکومت میں تعلیمی ترقی کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔

پاکستان نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت پورے ملک میں صرف ایک ہی یونیورسٹی تھی جسے ہم جامعہ پنجاب کے نام سے جانتے ہیں لیکن اب پاکستان میں 173 اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں، جن میں سے 72 نجی یونیورسٹیز ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد یونیورسٹیوں کی ایکریڈیٹیشن، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ذمے داری تھی۔ 2002 میں ایک آئینی ترمیم کے بعد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائرایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ نئی اور نظرثانی شدہ اصطلاحا ت کے بعد ہائر ایجو کیشن کمیشن کو اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل، بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیم، معتبر اکیڈمک ڈگریوں کی فراہمی، نئے اداروں کے قیام میں مدد اور پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کے معیار میں زیادہ سے زیادہ بہتری لانے کا ٹاسک دیا گیا۔

ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے بھی سہولیات فراہم کرتا ہے، جس کا اہم مقصد پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تحقیق اور تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانا ہے۔

اپنے قیام کے بعد سے ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان میں نالج بیسڈ اکانومی کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال اعلیٰ تعلیم اور ڈاکٹریٹ کے لیے سینکڑوں اسکالر شپ فراہم کر رہا ہے۔ہائرایجوکیشن کمیشن کے بنیادی پروگراموں اور پراجیکٹوں میں ڈگری کی تصدیق، فیکلٹی ڈیویلپمنٹ، نصاب پر نظرثانی، اعلیٰ تعلیم کے انفرا سٹرکچر میں بہتری، پاکستان اور پاکستان سے باہر وظائف کی فراہمی، پیٹنٹ فلنگ سپورٹ، کانفرنس ٹریول گرانٹس، صنعتوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر تحقیق میں اشتراک اور نئے ٹیکنالوجی پارکوں کی بہتری شامل ہے۔

ہائرایجوکیشن کمیشن نے نہ صرف پاکستان کے تعلیمی نظام پر بہت اچھے اثرات مرتب کئے بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹییوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔

2003ء کے بعد پہلی بار ملکی تاریخ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں انوسٹمنٹ ہوئی۔ یہ انویسٹمنٹ ریاست نے نہیں، بلکہ ملکی سرمایہ دار طبقے نے کی۔ ایک دہائی قبل تو اس سارے عمل کو بہت زیادہ پذیرائی ملی کہ ملک میں تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں ۔ مقبولیت کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں نشستیں کم ہونے کے باعث طلباء کے پاس یہی آپشن بچتا تھا کہ وہ کسی نجی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں ، اور دوسری وجہ نجی یونیورسٹیاں بہتر تعلیمی نتائج دینے لگیں چنانچہ لوگ گورنمنٹ کے اداروں کی نسبت نجی تعلیمی اداروں پر زیادہ بھروسہ کرنے لگے۔

بظاہر پاکستان میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹییوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں ترقی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا نجی یونیورسٹییوں میں تعلیمی معیار برقرار رکھا جاتا ہے یا یہ ادارے محض کاروباری بن کر رہ گئے ہیں؟اس بارے میں جاننے کیلئے ہمیں تعلیمی شعبے کے بارے میں زیادہ گہرائی سے جاننا ہوگا۔

بعض نجی یونیورسٹیوں میں داخلوں میں نہ تو کوئی میرٹ ہے، نہ ہی کوئی فارمولا، بس ڈگری خریدنے کے پیسے ہونے چاہیے۔ جہاں سرکاری تعلیمی اداروں میں اب بھی معیار باقی ہے، اور داخلے کی شرائط کڑی ہیں، تو وہیں ان نجی یونیورسٹیوں میں ہر اس شخص کو داخلہ دے دیا جاتا ہے جو فیس بھر سکتا ہو۔

نجی اداروں کی رجسٹریشن کا مسئلہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ان یونیورسٹیوں کے منتظمین نے رجسٹریشن کے لئے کوئی کام نہیں کیا اور صرف پیسے بٹورنے کے لئے بیٹھ گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیشتر نجی یونیورسٹیوں کے پاس این او سی نہیں ہے۔

ایک جانب اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب بے شمار یونیورسٹیوں نے این او سی کے بغیر سب کیمپس اور ڈگری پروگرام شروع کر رکھے ہیں جن سے ہزاروں طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہواہے۔

پاکستان میں غیر قانونی یونیورسٹیوں کا ایک جال پھیل رہا ہے، یہ ادارے پچھلے چند سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں طالب علموں میں بانٹ چکے ہے۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری اْس وقت لوگوں کی ضرورت بن گئی، جب سرکاری و نجی ملازمتوں اور پروموشنز کے لیے ان ڈگریوں کی شرط عائد کر دی گئی۔ اس ضرورت کا سب سے زیادہ فائدہ نجی یونیورسٹیز نے اْٹھایا اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پارٹ ٹائم پروگرام متعارف کروائے گئے۔ان یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جن میں طلباء کی تعداد ضوابط سے کئی گنا زیادہ اور مستقل فیکلٹی کا نہ ہونا سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی مضامین کے لیے ریسرچ لیبز کے بغیر ہی ڈگریاں کروائی جارہی ہیں ۔

جعلی اور غیر توثیق شدہ یونیورسٹیوں کی نشاندہی اور جوابدہی کا بھی کوئی نظام نہیں۔ یہ غیر توثیق شدہ ادارے اپنی تشہیری مہم ہر وہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ،جن کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں، ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات کے علاوہ سڑکوں کے کنارے بڑے بڑے تشہیری بورڈ بھی آپ نے دیکھے ہوں گے،لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ ان پر اعتراض نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی باز پرس ہوتی ہے!

ایف آئی اے سمیت کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ یا یوں کہہ لیں کہ سب آنکھیں اور کان بند کر لیتے ہیں۔ جب طلبہ داخلہ لے لیتے ہیں، فیسیں جمع کرا دیتے ہیں تو پھر اچانک ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خیال آتا ہے کہ وہ ان اداروں کی اسناد کی توثیق نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ادارے ایچ ای سی سے منظور شدہ نہیں۔ یعنی جب طلبہ اپنا وقت اور سرمایہ صرف کر چکے ہوتے ہوں تب ایسے مسائل اچانک سر اٹھانے لگتے ہیں۔

متعدد مقامات پر ایسے کیس سامنے آرہے ہیں کہ گورنمنٹ ملازمتوں میں ان یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ ان کی ڈگریاں رجسٹرڈ نہیں ہیں،ان یونیورسٹییوں نے طالب علموں سے لاکھوں روپے فیس وصول کی اور غیر توثیق شدہ ڈگری اس کے ہاتھ میں تھما دی۔یہ وہ طالب علم ہیں جن کو گورنمنٹ سکیٹرز میں کہیں بھی داخلے نہ ملے تو پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ میں ان کو سیلف فنانس کی بنا پر داخلے مل گئے۔ داخلے کے وقت طلبہ کو انتظامیہ، حکومت یا ایچ ای سی کی جانب سے قطعاً آگاہ نہیں کیاجاتا کہ یہ ادارہ غیر توثیق شدہ ہے۔حکومتی ادارے اس وقت کہاں سوئے ہوئے تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا؟ ذرا بھی خوفِ خدا نہیں کیا جاتا کہ ایسے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا کیا ہوگا؟

یہ بھی المیہ ہے کی نجی یونیورسٹیاں ہر طرح کی مراعات اور فنڈز کی فراہمی کے باوجود وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں جن کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔ علاوہ از یں کام اور معیار کے حوالے سے بھی بے شمار اعتراضات اور نقائص سامنے آتے رہتے ہیں۔ کئی شعبوں میں داخلوں کے میرٹ کی خلاف ورزی کرنے ، رزلٹ بدلنے ، جنسی طور پر ہراساں کرنے، فنڈز میں ہیرا پھیری کرنے ، اور رشوت لے کر داخلے کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں ۔

اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت نے بہت سی یونیورسٹیوں کو اپنے ذیلی کیمپس بنانے کی اجازت دی تھی تاکہ دوردراز علاقوں کے طالب علم بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری یونیورسٹیوں کے 17 کیمپس، پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت چل رہے ہیں۔

یہ کیمپس گذشتہ کئی سالوں سے مختلف پروگرامز میں ایم فل، ماسٹرز اور بی ایس آنرز کروا رہے ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور گجرات یونیورسٹی کے مختلف شہروں میں ذیلی کیمپس قائم ہیں جن میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن سے لاکھوں روپے فیس کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں۔

ان یونیورسٹیوں میں اتنی بھاری فیسیں کیوں وصول کی جاتی ہیں، یہ پوچھنے کا اختیار شائد کسی کے پاس نہیں ہے۔ صوبوں کے وزراء تعلیم بھی اس معاملے میں نہیں بولتے ۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو باقی سب اختیار حاصل ہوتے ہیں لیکن اگر اختیار نہیں تو ان نجی یونیورسٹیوں سے پوچھ گْچھ کا نہیں۔۔۔یہ یونیورسٹیاں خود مختار ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتی ہیں لہٰذا کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔تاہم نجی یونیورسٹیوں کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ ان کی فیسیں اور ان کی داخلہ پالیسی ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔ ان کو اپنا نیٹ ورک وسیع کرنے کا موقع کیوں ملا؟ یقیناقصوروار ہیں وہ چند سرمایہ دار جن میں ذاتی مفادات سے آگے کی سوچ ناپید ہے۔

لاہور جیسے شہر میں ساٹھ سالوں میں ایک بھی نئی یونیورسٹی نہیں بنائی گئی بلکہ تین کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر عوام کو خوش کرنے کا جھانسہ دیا گیا۔

یونیورسٹییوں کا بنیادی مقصد ہی رسرچ ورک کو آگے بڑھانا ہوتا ہے لیکنپاکستان میں اس کی معاشی، سماجی، اور سائنسی پالیسیاں بنانے میں مدد کے لیے بہت ہی کم کام کیا جارہا ہے۔

پا کستان میں سرکاری یونیورسٹیوں میں تحقیق کا معیار عالمی سطح کے تحقیقی کام کے معیار سے بہت پست ہے جس کی وجہ مناسب سہولیات کا فقدان ہے، جبکہ پرائیوٹ یونیورسٹیوں میں ریسرچ پر بھی برائے نام کام ہو رہا ہے۔اسی وجہ سے ہماری کوئی بھی یونیورسٹی، عالمی رینکینگ کی پہلی یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔

نجی یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ،اور نہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی پر وہ توجہ دی جاتی ہے جس کی فی زمانہ ضرورت ہے۔ طلبہ سے فیسیں پوری لینے کے باوجودتحقیق کیلئے فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے جس کے باعث تحقیقی کام بہت مشکل ہوگیا ہے۔نتیجتاً آج ہماری معیشت زراعت پر جامد ہے، اور سائنسدان، ماہرینِ معاشیات، اور ماہرینِ سماجیات کی بدترین کمی کا سامنا ہے۔

ان چند جعل ساز اداروں نے اُن محبِ وطن اداروں کو بھی بدنام کر دیا ہے جو صحیح معنوں میں تعلیم کی خدمت کرہے ہیں۔

ہم نجی یونیورسٹیوں کے خلاف نہیں ہیں بلاشبہ یہ ادارے تعلیمی میدان میں بہت مدد گار ثابت ہو رہے ہیں اگر یہ کہا جائے کی نجی یونیورسٹیاں تعلیمی ضرورت پوری کرنے کے لئے ضروری ہیں تو بے جا نا ہو گا، مگر وہ متعدد نجی یونیورسٹیاں جن میں صوبائی دارالحکومت کی بعض یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، جہاں ایچ ای سی کے مقررکردہ قواعدوضوابط کے برعکس کام جاری ہے ، ان پر فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ ایسی ناقص سہولیات رکھنے والی نجی یونیورسٹیوں کو مزید داخلوں سے روک دینا چاہیے اورحد سے گزر جانے والی نجی یونیورسٹیوں کے این او سی منسوخ کیے جائیں۔

ایچ ای سی جعلی اور غیر توثیق شدہ نجی یونیورسٹیوں کی ناقص کارکردگی کے خلاف اقدامات کرے۔ معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے

یونیورسٹیوں کے بہتر نظم و ضبط اور معیار کے چیلنجز بڑے مسائل ہیں ان سے فوری طور پر نپٹا جانا چاہئے۔

***

مزید : ایڈیشن 2