مستقبل کے کتب خانے

مستقبل کے کتب خانے

  



 کتاب سے انسان کی دوستی ہمیشہ بے مثال رہی ہے۔ دوستی کے اس سفر میں کتاب نہ صرف انسانی علم کو محفوظ بنا کر ہمارے لئے لاتعداد آسانیاں پیدا کرتی رہی بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی کھولتی رہی ہے۔ یہ دین، تاریخ، سیاست، سماج اور ادب کے رنگارنگ پھولوں سے انسانی شعور کا آنگن بھی مہکاتی رہی۔ اس نے ان گنت ذہنوں کی سوچ کو وسعت دی اور بے شمار دلوں کو اطمینان کی دولت سے بھی مالا مال کیا۔ یہ کتاب ہی تھی جس نے آنے والی نسلوں تک علم کی منتقلی کو یقینی بنایا۔ کتاب کا کاغذ کی شکل میں آنے کا سفر بھی بہت دلچسپ رہا۔ پرانی تہذیبوں میں جب لکھنے کا طریقہ ایجاد ہوا تو پتھر، دھات کی تختیوں سمیت ہر اس چیز کو استعمال کیا گیا جس پہ لکھا جا سکتا تھا۔ قدیم مصر میں، دریائے نیل کے کنارے اُگنے والے آبی پودے کے ڈنٹھل سے بنائے پاپیرس کو استعمال کیا گیا۔ کاغذ کا آغاز2 سو قبل مسیح میں چین سے ہوا اور 31ویں صدی میں یہ اسلامی دنیا کے ذریعے یورپ پہنچا۔کتاب ایک طویل مدت سے کاغذ اور اس پہ پھیلے ہوئے لفظوں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے یہ بات طے کر دی کہ کتاب نئی شکلیں بھی اختیار کرے گی۔ یہ کاغذ سے ڈیجیٹل شکل میں بھی منتقل ہو رہی ہے جسے کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین پہ پڑھا جا رہا ہے۔کاغذ کی کتاب سے انسان کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ شائد وہ کاغذ کے لمس، اس کی خوشبو اور اس کی صفحہ پلٹنے کی آواز کو کبھی بھلا نہ پائے، لیکن امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کتاب کی نئی شکلوں سے بھی مانوس ہوتا جائے گا۔ کتاب اپنی ہر شکل میں ہماری بہترین رفیق رہے گی اور ہمیں تاریخ کا یہ سبق بھی یاد دلاتی رہے گی کہ وہی افراد اور قومیں کامیاب اور سرفراز ٹھہرتی ہیں جو کتاب اور علم سے اپنی نسبت قائم رکھتی ہیں۔

مستقبل کی کتاب الیکٹرانک کتاب ہوگی۔ الیکٹرانک کتاب یا ای کتاب سے مراد ایسی کتاب ہے جو کاغذ کے بجائے ڈیجیٹل شکل میں موجود ہو یعنی اسے موبائل، کمپیوٹر یا کسی دوسرے الیکٹرانک آلے کی سکرین پہ پڑھا جائے۔ اسی طرح الیکٹرانک ریڈر یا ای ریڈر موبائل جیسا آلہ ہے، جس کی سکرین کو الیکٹرانک کتاب پڑھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا میں پہلی الیکٹرانک کتاب (ای کتاب) 1971ء میں سامنے آئی جب مائیکل ایس۔ ہارٹ نے امریکی آزادی کا اعلامیہ کمپیوٹر میں ٹائپ کیا۔ اسی نے گٹن برگ منصوبہ بھی شروع کیا جس کا مقصد دوسری کتابوں کی الیکٹرانک نقول تیار کرنا تھا۔ 93۔1992ء میں پہلا الیکٹرانک ریڈر انسپیکٹ (Reader Inspect) کے نام سے سامنے آیا۔ابتدا میں الیکٹرانک کتابیں تکنیکی معلومات سے تعلق رکھنے والے موضوعات پہ تیار کی جاتی تھیں۔ 1990ء کے عشرے میں انٹرنیٹ کو مقبولیت حاصل ہوئی تو کاغذی کتابوں کے ساتھ ساتھ ان کی الیکٹرانک نقول بھی سامنے آنے لگیں، پھر ایسی الیکٹرانک کتابیں بھی مقبول ہونے لگیں جو صرف ڈیجیٹل وجود رکھتی تھیں۔ آج دنیا میں سیاست، نفسیات، صحت، کھیل، ادب اور سائنس کے میدان سے تعلق رکھنے والی بے شمار کتابیں کاغذ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل شکل میں موجود ہیں۔روایتی کتاب کا تصور بدل رہا ہے تو ساتھ ہی کتب خانوں کا تصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک مکمل ڈیجیٹل لائبریری میں آپ کو کاغذ کی بنی کوئی کتاب نظر نہیں آئے گی۔ آپ دور بیٹھے اس کتب خانے کی کسی بھی کتاب کو اپنے کمپیوٹر پہ پڑھ سکتے ہیں۔ روایتی کتب خانے بھی اپنے پڑھنے والوں کو الیکٹرانک کتابوں تک رسائی دے رہے ہیں۔ امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں 27فیصد لائبریریاں الیکٹرانک کتابیں فراہم کر رہی ہیں۔ دُنیا کے ایک بڑے کتب خانے شکاگو پبلک لائبریری میں ایک اندازے کے مطابق 36ہزار الیکٹرانک کتابیں موجود ہیں۔مقبول عام کتابوں کی فہرست جاری کرنے والے اداروں میں ایک معتبر نام نیویارک ٹائمز اخبار کا ہے۔ یہ ہر ہفتے مقبول کتابوں کی فہرست جاری کرتا ہے اور یہ سلسلہ 1942ء سے جاری ہے۔ ان مقبول کتابوں کی فہرست میں اب الیکٹرانک کتابیں بھی اپنی جگہ بنانے لگی ہیں۔کتاب پڑھنے کا مرحلہ بھی بہت دل چسپ ہوگا۔ ٹچ سکرین کے ذریعے کمپیوٹر کو ہدایات دی جا سکیں گی۔ قاری اپنی آسانی کے لئے متن کی جسامت چھوٹی بڑی کر سکے گا۔ اسی طرح وہ کسی مشکل لفظ کا مطلب بھی ایک کلک کے ذریعے دیکھ سکے گا اور کسی جملے یا صفحے کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ بھی کر سکے گا۔ اسی طرح کتاب اسے اپنا متن خود پڑھ کر بھی سنا سکتی ہے یا قاری کتاب پڑھتے ہوئے کمپیوٹر سے اپنی پسند کی موسیقی بھی سن سکتا ہے۔قاری کتاب پڑھتے ہوئے اپنے نوٹس یا تبصرے بھی وہاں محفوظ کر سکے گا۔ کمپیوٹر قاری کے مطالعہ کا حساب بھی رکھے گا کہ اس نے کس وقت کون سی کتاب پڑھی۔ قاری اپنی پسند کے حصوں کو دوسروں کے لئے نمایاں بھی کر سکے گا۔آپ کی الیکٹرانک کتاب آپ کی پسند اور مطالعہ کے معمول کو دیکھتے ہوئے آپ کو مزید کتابوں کا مشورہ بھی دے گی۔ اس طرح علم دوستی کے لمبے سفر میں وہ آپ کے ساتھ ساتھ رہے گی۔الیکٹرانک کتاب سے بے شمار آسانیاں پیدا ہوں گی۔ آپ کے دوست جاننے والے کسی کتاب پہ کئے گئے آپ کے تبصروں کو بھی دیکھ سکیں گے۔ آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو آپ کی منتخب کتابوں کو پسند کرتے ہیں۔ اس طرح آپ کی کتاب دوستی آپ کے لئے نئے دوستوں کے تعارف کا باعث بھی بنے گی۔

ڈیجیٹل لائبریری کیا ہے:

ڈیجیٹل لائبریری کو ایکٹرانک اور ورچوئل لائبریری بھی کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا کتب خانہ جو چار دیواری سے ماورا ہواور اعداد شمار پر مبنی ہو۔یہ ایک ایسا کتب خانہ ہے جو بہت وسیع ہے اور اس میں اعداد و شمار کا استعمال کیا جاتا ہے مثال کے طور پر کئی لوگ براہ راست آن لائن فہرستوں کی اصلاح کو ورچوئل لائبریری سے مماثل قرار دے سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل لائبریری ان لوگوں کے لئے ایک بڑا ذخیرہ مواد کے علاوہ کچھ نہیں جو انٹر نیٹ ماحول میں کام کرتے ہیں، ایک ایسا ماحول جو معلومات کی تیاری، حفاظت، ترسیل اور ڈیٹا معلومات کو علم کے استعمال کے لئے مکمل بنیاد فراہم کرتا ہے۔ڈیجیٹل لائبریری سے مراد ڈیجیٹائز اشیاء پر مبنی ایک منظم مواد ہوتا ہے جو ٹی سی پی/آئی پی (CP/IP)یا دیگر پرٹوکول کے استعمال سے ایک کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کام میں لایا جاتا ہے۔آپٹیکل سکینر کے ذریعے کتب اور رسائل کو الیکٹرانک فارم میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو مطبوعہ کتب و رسائل کو ایسی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے جس کو کمپیوٹر میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔کراس ریفرنس کو ہائپر ٹیکسٹ لنکس میں تبدیل کیا جاتا ہے جو الیکٹرانک دستاویز کے درمیان خودکار رابطے ہوتے ہیں جو کو صارف بآسانی کلک کر کے ایک دستاویز سے دوسری دستاویز پر جا سکتے ہیں۔بعض کتب خانے از خود الفاظ کے ذریعے فائل کی تلاش کی اجازت دیتے ہیں۔

ڈیجیٹل لائبریری کا ارتقاء

1991ء میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (NSF) اور یونیورسٹی آف نیبرا سکا (University of Nebraska) سینٹر برائے اطلاعات و روابط کار معلومات کی ایک مشترکہ ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں سائنس دانوں نے شرکت کی۔اس ورکشاپ کا عنوان ’’کتابی معلومات کی اصلاح اور فہم کے بارے میں مستقبل کی سمتیں‘‘ تھا۔ اس کی ای رپورٹ دو حصوں میں شائع کی گئی، جس کا پہلا حصہ میں ورکشاپ کا خلاصہ تھا جبکہ دوسرے حصے میں M-Lestایڈورڈ فوکس اورM-Megillنے قومی ایکٹرانک سائنس اور انجینئرنگ ٹیکنالوجی لائبریری کے لئے فنڈز دینے کا تقاضہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک قرطاس ایبض بھی شائع ہوا جس میں موبی الیکٹرانک کتب خانے کے فروغ کے بارے میں کام کیا گیا۔ اسی کی عوض 1993ء میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل لائبریریوں کی تحقیق کے لئے فنڈز دیئے گئے۔1994ء میں ڈیجیٹل لائبریری کی تشکیل کے لئے پہلا قدم اٹھایا گیا۔24ملین ڈالرز کی مدد سے6بڑے تحقیقاتی منصوبہ جات شروع ہوئے۔ ڈیجیٹل لائبریریوں میں مواد کو محفوظ کرنے، معلومات کو ترتیب دینے، اعداد و شمار کی صورت میں اس کی درستگی اور اصلاح نیز کمیونیکشن نیٹ ورک میں کام کیا گیا،جن 6تحقیقاتی اداروں نے اس ابتدائی ڈیجیٹل لائبریری کے پروگرام سے استفادہ کیا ان میں:

1۔میکی گن یونیورسٹی:

(Michigan University)

انہوں نے انفرادی اور اجتماعی قوتوں کو اکٹھا کر کے کام کیا اور ایک اہم کام آرتھ سائنس اور خلائی تحقیق تھا۔

2۔یونیورسٹی آف ایلنز:

ا ن کا ارتقاز توجہ زیادہ تر کتابی مضامین کی بنیاد پر مبنی تھا جس میں کمپیوٹر، سائنس،انجینئرنگ اور طبیعات کے مضامین شامل تھے۔

3۔یونیورسٹی آف کیلوفورنیا:

ان کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی کا فروغ تھا ،جن کے ذریعے تصاویر سیٹلائٹ کے مناظر، نقشہ جات، مکمل کتابی دستاویزات اور ماحولیات کے بارے میں معلومات تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

4۔کارنجی میلن یونیورسٹی:

(Carnegie Milan University)

ان کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح سے ملٹی میڈیا ڈیجیٹل کتب خانے، ویڈیو، آڈیو، تصورات اور کتابی معلومات کو استعمال اور فروغ دیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

مزید : ایڈیشن 2


loading...