تنازعہ کشمیر کا قابل عمل حل

تنازعہ کشمیر کا قابل عمل حل
 تنازعہ کشمیر کا قابل عمل حل

  



اتوار کے روز لاہور پریس کلب نے’’کشمیر کی تحریک آزادی اور میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید تھے ،جبکہ مقررین میں لاہور پریس کلب کے صدر شہباز میاں، عارف نظامی، سجاد میر، امتیاز عالم اور سلمان غنی تھے۔ زیادہ تر مقررین نے اس حقیقت سے اتفاق کیا کہ پاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ مقررین نے اس حقیقت سے بھی اتفاق کیاکہ اس وقت سوشل میڈیا عوام کی شمولیت کے باعث ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اخبارات پر کریک ڈاؤن کے علاوہ فیس بک بھی بند کردی ہے۔ مقررین نے امریکہ، اقوام متحدہ اور مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی پر کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف منافقانہ پالیسی اختیار کرنے پر سخت تنقید کی۔ مقررین نے حکومت، کشمیر کمیٹی اور کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی کشمیر کے معاملے میں بروقت سخت موقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر پر ٹھوس موقف اختیار کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ حالیہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سڑکوں کی حالت انتہائی نا گفتہ ہے، چنانچہ وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر میں موٹروے بنانے کا اعلان کیا ہے، لیکن ملک کی ترقی کے دشمن میٹروبس میٹروٹرین اور ترقی کے دیگر منصوبوں پر تنقید کررہے ہیں ۔ کشمیر کے مسئلہ پر جتنے سنیئر صحافیوں اور اینکرز حضرات نے بات کی تو انہوں نے یا تو کشمیر میں ہونے والے ظلم پر بات کی یا کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک دونوں ممالک پانچ جنگیں لڑ چکے ہیں، لیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ کشمیر کا مسئلہ اسی طرح اپنی جگہ موجود ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری نفسیاتی مریض بن چکے ہیں کیونکہ جب بھی گھر کا دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں سامنے بھارتی فوجی کھڑے نظر آتے ہیں، چنانچہ کشمیریوں کی پہلی خواہش یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے شہری علاقوں سے بھارتی فوج کا فوری انخلا عمل میں لایا جائے۔

کشمیریوں کی دوسری خواہش یہ ہے کہ شیخ عبد اللہ نہرو معاہدے کے مطابق کشمیر کو فوری طور پر داخلی خود مختاری دی جائے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کے پاس مقبوضہ کشمیر کے خارجہ امور دفاع رہنا تھا اور باقی تمام معاملات کشمیر کی منتخب حکومت نے چلانا تھے۔ یہی وہ دو نکات ہیں جن پر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے بھارت سے مذاکرات کئے تھے جنرل مشرف کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے مطابق ان دو نکات پر پاکستان اور بھارت کا سمجھوتہ ہونے کے قریب تھا ۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام کے درمیان آزادانہ آمدورفت کا طریق کار بھی طے کر لیاگیاتھا کہ جنرل مشرف کو الیکشن کروا کر اقتدار چھوڑنا پڑا۔ متذکرہ سیمینار میں کسی دانشور صحافی نے اس مسئلے کے مرحلہ وار حل کی کوششوں پر زور نہیں دیا۔ صرف حکومت کو کشمیر کے مسئلہ پر سخت موقف اختیار نہ کرنے کے طعنے دیئے اور وہی مطالبات دہرا ئے جو ہمارے بعض علماء اور ہر دور حکومت کے مخالفین دہراتے ہیں، اس مسئلے کے حل کے لئے ضرور ی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی پر امن احتجاجی تحریک جاری رکھیں تاکہ بھارتی حکومت پر پڑنے والے دباؤ میں کمی واقع نہ ہواور حکومت پاکستان اور پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کو بھی سفارتی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر کے مسئلے کے مرحلہ وار حل کے لئے عالمی دباؤ کو بڑھا یا جاسکے، ہمارے علمائے دین جو مسلم امہ کا نام لیتے نہیں تھکتے وہ او آئی سی کے مسلم ممالک سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ او آئی سی بطور تنظیم بھارت پر دباو ڈالے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرے اور کشمیر کے مظلوم عوام پر ریاستی ظلم و تشدد فوری بند کرے۔یہ منافقانہ رویہ بھی قابل غور ہے کہ جب بعض مسلم ممالک کے درمیان آپس میں کشیدگی پیدا ہو جائے تو ہمارے علماء اور مذہبی جماعتیں اپنی اپنی پسند کے مسلم ملک کی حمایت میں گلا پھاڑنا شروع کردیتی ہیں لیکن جب کافر ممالک مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتے ہیں تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ بہر حال پریس کلب میں قومی موضوعات پرسیمینار کرانے کی روایت بہت اچھی ہے جو لاہور پریس کلب کی نئی باڈی نے کلب کے صدر شہباز میاں کی قیادت میں شروع کی ہے، کلب کو چاہیے کہ معاشی اور معاشرتی مسائل پر بھی سیمینار کا انعقاد کرے۔

مزید : کالم