چپ امپلا ن ٹیشن: ٹیکنالوجی سے انسانی ذہن پر کنٹرول(2)

چپ امپلا ن ٹیشن: ٹیکنالوجی سے انسانی ذہن پر کنٹرول(2)
چپ امپلا ن ٹیشن: ٹیکنالوجی سے انسانی ذہن پر کنٹرول(2)

  



یہ غالباً1995ء کے موسم گرما کی بات ہے جب امریکی اخبار’’وال سٹریٹ جزل‘‘ کے آئی ٹی ایڈیشن میں حاشیے کے اندر ایک باکس میں انسانی دماغ کی تصویر کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکی ویٹرنز (Veterans)کے تحقیقی ادارے میں آئی ٹی کے میدان میں ایک تاریخی اہم پیش رفت ہوئی ہے، ڈاکٹروں نے ایسے معذور افراد کو کمپیوٹر چپ لگا کرچلتا پھرتا کردیا، جن کے جسم کا نچلا حصہ اوپر والے حصے سے اعصابی تعلق ختم ہوجانے کی وجہ سے بے حس اور ناکارہ ہوگیا تھا اور وہ نقل و حرکت کے لئے ویل چیئر کے محتاج ہو کر رہ گئے تھے۔ اس سے قبل سائنسدانوں کو یہ معلوم تھا کہ انسانی دماغ کے کروڑوں خلیوں میں الیکٹرو میگ نیٹک لہریں اسی طرح انفرمیشن جمع کرنے اور بوقت ضرورت اسے پراسس کرنے کا کام کرتی ہیں جس طرح کمپیوٹر کی چپس میں کرتی ہیں۔ یہ بھی معلوم تھا کہ جسم کا جو حصہ گوشت پوست اور ہڈیاں صحیح سالم موجود ہونے کے باوجود بے حس ہوجائے اور کام کرنا چھوڑ جائے اس کا اعصابی نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جسم کا نچلا حصہ ناکارہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس حصے سے دماغ کا اعصابی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور اس حصے کی تکلیف کی کوئی اطلاع ذہن تک پہنچ نہیں پاتی اور نہ ہی ذہن سے جاری ہونے والا کوئی فیصلہ یا حکم اس حصے تک پہنچتا ہے۔

ماہرین عرصہ سے اس بات پر غور کررہے تھے کہ کس طرح کمپیوٹر چپ کے ذریعے سے انسانی جسم کے بالائی حصے کے اعصاب کو نچلے حصے تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ بالآخراس تحقیقی ادارے کے سائنسدان اس مقصد میں کامیاب رہے اور انہوں نے چپ کی مدد سے معذور افراد کو چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا۔ ’’وال سٹریٹ جزل‘‘ کے رپورٹر نے اس واقعہ کو آئی ٹی شعبے میں تحقیق کی اہم ترین پیش رفت قرار دیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اس کے بعد اب ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت سے معجزے رونما ہوں گے۔ گردن کے نچلے حصے میں جو انسانی اعصاب کا مرکز ہے ایک چپ لگا کر انسانی حافظے میں اضافہ کیا جاسکے گا، گردن میں لگی چپ کی الڑا وائیلٹ لہروں کو اپنی سوچ ہی سے متحرک کرکے کمپیوٹر آن آف کرسکے گا۔ اس طرح وہ اپنے جسم میں لگنے والی چپ کی مدد سے بہت سے کام کرسکے گا۔ اس رپورٹر نے آئی ٹی کے میدان میں تحقیق کرنے والے تین بڑے اداروں کے سائنسدانوں سے ایسے امکانات پر بات چیت کی۔ ایک ادارے کی طرف سے اسے بتایا گیا کہ اس نے ان مقاصد کے لئے اپنی تحقیق پہلے ہی تقریبا مکمل کررکھی ہے، ایک دوسرے ادارے کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ بالکل ممکن ہے لیکن اس کام میں ابھی پانچ سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

ایک تیسرے ادارے نے رپورٹر کو بتایا کہ یہ ممکن تو ہے لیکن اتنا آسان کام نہیں اس کے لئے کم از کم د س سال کا عرصہ درکار ہے۔ اب اس واقعہ کو اکیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے، رپورٹر نے ماہرسائنسدانوں سے انسانی جسم میں چپ امپلان ٹیشن کے ذریعے جس طرح کے کام کئے جانے کے امکانات کے متعلق سوال کئے تھے، دو عشروں سے زائد وقت گذرنے کے بعد دنیا اب تک اس سے بہت آگے پہنچ چکی ہے۔ گردن کے نچلے حصے میں لگائی جانے والی چپ انسانی سوچ اور ذہن کو کنٹرول کرکے انسان کوریموٹ کنٹرول کے ذریعے ا سی طرح کنٹرول کر رہی ہے جس طرح کہ انسان ایک روبوٹ کو کنڑول کرتا ہے یا بغیر پائیلٹ والے ڈرون طیاروں کو کنڑول کرتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی ایسی پیش رفت کو امریکی حکومت اور میڈیا کی طرف سے اکثر و بیشتر زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا ۔ سب سے پہلے یہی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسی نئی ٹیکنالوجی کے دفاعی مقاصد اور مخالفوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے امکانات سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔

اسی عمومی رویہ کے مطابق امریکی حکومت الاسکا کے تحقیقی ادارہ ہارپ کی تحقیق کے متعلق کھل کرسامنے نہیں آرہی اور اسی پالیسی کے تحت چپ امپلان ٹیشن کے میدان میں ہونے والی تحقیق کے میڈیکل استعما ل سے کہیں زیادہ امریکہ نے اس کے فوجی استعمال پر توجہ دی ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیمیں منظم کرکے ان کے ذریعے چپ لگے انسانوں کو کنٹرول کیا گیا ہے اور انسانوں کو روبوٹ بنانے کے متعدد موثر طریقے آزمالئے گئے ہیں۔ قارئین! اس حقیقت سے خود امریکی ایڈمنسٹریشن بھی انکار نہیں کرتی کہ مختلف اختراعات و ایجادات کی خبریں جس وقت میڈیا کے سامنے آتی ہیں اس وقت تک امریکی محکمہ دفاع اس میدان کی تحقیق میں ان ایجادات و اختراعات سے کم از کم دس سال آگے ہوتا ہے۔ یعنی جس آئس برگ کے محض ٹپس ہمیں نظر آ نا شروع ہوتی ہیں، زیر آب ان کی بے پناہ وسعت کے وجود کا ہم اندازہ نہیں کررہے ہوتے۔ امریکہ ہی نہیں دنیا کے تمام اہم ممالک دفاعی مقاصد کے لئے تحقیق کو سب سے بڑھ کر توجہ دیتے ہیں اور دفاعی مقاصد کے لئے جو بھی ممنوعہ یا غیر ممنوعہ اسلحہ اور ٹیکنالوجی حاصل کرتے ہیں اسے ہر ممکن طریقے سے خفیہ رکھنے یا کم از کم دشمن کو اس کی حقیقت کے متعلق کنفیوژ کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

قارئین! ترقی یافتہ ممالک کے کئی اداروں کی طرف سے اپنے ملازمین کے جسم میں چپ لگانے کی شرط عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ آپ اس آنے والے وقت کا تصور کریں جب ہر طرف چپ لگے انسان نظر آئیں گے، ان سے کچھ کو خود پر مکمل اختیار ہوگالیکن اکثریت کے زیادہ معاملات پر دوسرے کنٹرول کر رہے ہوں گے۔ دفاعی یا اپنے کنٹرول اور تسلط کے مقاصد کے لئے حکومتیں انسانی ذہن پر کنٹرول کی کون کونسی ٹیکنالوجی پر کس حد تک کام کرچکی ہیں، اس کا اندازہ ہم ذیل میں دی گئی خبروں سے کرسکتے ہیں جو گذشتہ کچھ عرصہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں سامنے آتی رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے کلیمسن یونیورسٹی کو سولہ لاکھ ڈالر کی رقم اس مقصد کے لئے دی ہے کہ وہ انسانی دماغ کے اندر لگائی جانے کے قابل ایک مائیکرو چپ تیار کرے۔ یہ چپ ایک خاص قسم کی جیل Gel استعمال کرکے انسانی دماغ میں لگائی جائے گی۔ براؤن یونیورسٹی ایک معذور خاتون کو لگائے گئے بازو اور ٹانگوں کو اس کے ذہن کی لہروں سے چلانے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ برکلے یونیورسٹی کے سائنسدان انسانی ذہن میں لگائی جانے والی چپ کے کامیابی سے کام کرنے کے لئے اہم تحقیق کر رہے ہیں، ان کی تجویز یہ ہے کہ اگر دماغ پر وائرلیس سینسرز کا سپرے کردیا جائے تو اس سے دماغ کو کسی طرح کی انفیکشن کا خطرہ ختم ہوجائے گا۔

ان سائنسدانوں نے دماغ کے اندر آواز کی لہروں کو الیکٹریکل سگنلز اور پھر الیکٹریکل سگنلز کو آواز کی لہروں میں بدلنے کا نظام دریافت کرلیا ہے۔ برطانیہ کے ایک سکاٹش نائٹ کلب نے اپنے گاہکوں کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ رات گئے رقم اٹھائے پھرنے کے بجائے اپنے بازو میں چاول کے ایک دانے کے برابر چپ لگوا لیں۔ اس چپ ہی سے کلب میں داخلے کے لئے ان کی شناخت بھی ہوگی اور یہ چپ کلب میں بل کی ادائیگی کے لئے کریڈٹ کارڈ کا کام بھی دے گا۔ اسی طرح سپین میں بارسیلونا کے ایک ساحلی کلب میں ایک سو پچیس یورو کی رقم ادا کرکے انسان اپنے جسم میں Verychipلگوا سکتا ہے۔ جب چپ لگے افراد کلب میں داخلے کے لئے دروازے کے سکینر کے سامنے سے گذرتے ہیں تو ان کے جسم میں لگی چپ متحرک ہوجاتی ہے اور ان کی شناخت ہوجاتی ہے۔ جسم میں لگی ایسی چپ میڈیکل مقاصد کے لئے انسان کی ذاتی میڈیکل ہسٹری کا تمام ڈیٹا بھی خود میں محفوظ رکھتی ہے اور اس میں فنانشل انفرمیشن بھی محفوظ کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ صرف آئس برگ کے سطح آب سے اوپر نظر آنے والے معمولی حصوں کی باتیں ہیں۔

مزید : کالم


loading...