جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا

جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا
 جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا

  



پاکستان میں جس کا جو جی چاہے کرسکتا ہے، خاص طور پر جسے تھوڑا بہت سرکاری اختیار بھی حاصل ہے، اس کی تو پانچوں گھی میں ہیں، وہ اپنے ہر عمل کو گھما پھرا کر قانونی اور جائز بنانے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ آئین نے تو ہر کام کے لئے علیحدہ ادارے بنائے ہیں، جن کا اپنا اپنا اختیار ہے، مگر ہمارے ارباب اختیار آئین کی طرف کب دیکھتے ہیں، وہ تو اپنی کرسی کو ہی آئین سمجھتے ہیں اور جو دل میں آتا ہے کرگزرتے ہیں۔ یہ سوچے اور سمجھے بغیر کہ ان کے اس نادر شاہی اعلان سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔۔۔ ایسی ہی ایک تازہ ترین غیر قانونی بقراطی آئی جی سندھ کی طرف سے سامنے آئی ہے، جنہوں نے ایک ڈاکو مارنے پر نہ صرف مارنے والے شہری کو پچاس ہزار روپے انعام دیا، بلکہ یہ اعلان بھی کردیا کہ حفاظت خود اختیاری میں لائسنسی اسلحہ رکھنے والے یہ اقدام بخوبی کرسکتے ہیں، انہیں انعام کا حقدار سمجھا جائے گا۔ باوی النظر میں یہ اقدام بہت عوام دوست نظر آتا ہے، کیونکہ پُر امن لوگوں کو حفاظت خود اختیاری کے تحت ڈاکو مارنے کا باقاعدہ اجازت نامہ مل گیا ہے، مگر ہمارے مخصوص حالات میں کیا ایسا کوئی اعلان ،کوئی اختیار اور کوئی انعام بہتری کا باعث بن سکتا ہے؟ کیا اس سے قانون کی حکمرانی بڑھے گی ؟۔۔۔البتہ لاقانونیت ضرور بڑھ جائے گی۔

پچھلے چند برسوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ پولیس اپنے ہر فرض کو عوام کے کاندھوں پر ڈال رہی ہے۔ پولیس کا کام شہریوں اور اداروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے، مگر اب یہ کام تو وہ نہیں کرتی، البتہ دکان پر گارڈ نہ رکھنے پر دکاندار کے خلاف مقدمہ درج کرلیتی ہے۔ سکولوں، ہسپتالوں، بینکوں، جیولری کی دکانوں، بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور دفاتر کی حفاظت سے پولیس نے ہاتھ اُٹھا لیا ہے اور بڑی مہارت کے ساتھ ایسے قانون پاس کرالئے ہیں کہ جو مدعی تھے، وہ ملزم بن گئے ہیں اور جنہیں قصور وار ہونا چاہیے تھا، وہ منصفبن کر عوام پر نزلہ گرا رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جھوٹ اس قدر زیادہ ہے کہ سچ تلاش کرنے میں عمر خضر بھی کم پڑ جاتی ہے، وہاں لوگوں کو لائسنسی اسلحے کے ذریعے بندے مارنے کا اختیار دینا لاقانونیت کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ جس معاشرے میں لوگ گھر کے ایک فرد کے جرم پر پورے گھرانے کے افراد کو ملزم نامزد کردیتے ہوں، وہاں لوگوں کوخود فیصلہ کرنے کا اختیار دے دینا خطرے سے خالی نہیں۔ ابھی تو معاشرے کی جعلی پولیس مقابلوں سے جان نہیں چھوٹی، جن میں پولیس گرفتار شدہ ملزموں کو رات کے اندھیرے میں مار دیتی ہے اور اسے پولیس مقابلے کا رنگ دے کر انعام و اکرام بھی پاتی ہے۔ اب اگر کسی کو ڈاکو قرار دے کر مارنے کا اختیار عوام کے ہاتھ میں بھی آجاتا ہے تو وہ لوگ جو کبھی غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں، کبھی پرانی دشمنی کا قرض چکاتے ہیں، مخالفین کو چن چن کر قتل کرتے ہیں، ان کے لئے تو بڑی آسانی ہو جائے گی کہ وہ راہ چلتے ڈکیتی کا ڈرامہ رچائیں اور بندہ ماردیں، اس کے بعد صوبے کے آئی جی کو ملیں، جو میڈیاکے سامنے انہیں ہیرو بنا کر پیش کریں اور انعام سے بھی نوازیں۔ واہ واہ کیا آئیڈیل معاشرہ تشکیل دیا جارہا ہے۔

آئی جی سندھ نے صرف ایک شرط رکھی ہے کہ ’’ڈاکو‘‘ مارنے والا اسلحہ لائسنسی ہونا چاہیے۔ خود سندھ میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت بد امنی کیس کے دوران یہ اعدادو شمار پیش کئے گئے تھے کہ لاکھوں ایسے لائسنس جاری کئے گئے، جن میں مروجہ قواعدوضوابط کا خیال ہی نہیں رکھا گیا۔ خود وزارتِ داخلہ یہ تسلیم کر چکی ہے کہ پچھلے ادوار میں ہزاروں ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس بھی بلا تحقیق اور بلا استحقاق جاری ہوئے ۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز نے سینکڑوں لائسنس اپنے اور حواریوں کے لئے حاصل کئے ہیں، جن میں اشتہاریوں اور جرائم پیشہ افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ جہاں لائسنس جاری کرنے کا یہ معیار ہو اور وہاں آئی جی سندھ لائسنس یافتہ اسلحہ سے بندے مارنے کا از خود لائسنس بھی جاری کردیں، وہاں تصور کیا جاسکتا ہے کہ نتائج کس قدر بھیانک نکلیں گے؟ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے، ایک بات سنتے آئے ہیں کہ کسی شہری کو قانون اپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ جملہ اس وقت تک کار گر تھا، جب تک پولیس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا، جو اس کا آئینی حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اب پولیس اس حق سے دستبردار ہو رہی ہے، اب اس کا قول ہی یہ بن چکا ہے۔۔۔ جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا۔۔۔ پہلے ہی ہم اس شرمناک رویے کا شکارہیں کہ لوگ کسی جیب کترے، کسی ڈاکو یا کسی جرائم پیشہ کو پکڑ کر خود ہی انصاف کرنے لگتے ہیں اور اسے زندہ جلاتے ہیں یاپھر مار مار کے مار ہی ڈالتے ہیں۔ یہ جنگل کا قانون تو ہو سکتا ہے، مہذب معاشرے کا نہیں۔

آئی جی صاحب غالباً یہ بھول گئے کہ حفاظت خود اختیاری کا فیصلہ بھی عدالت میں ثابت کرنا پڑتا ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی شخص اس دعوے کے ساتھ بندے مار دے کہ اس نے مجھ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل ہو جاتے ہیں۔ سڑکوں پر سائیکلیں ٹکرانے سے بھی امن وامان کی سنجیدہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونا معمول کی بات ہے۔ ایسے میں اگر کوئی جیب سے لائسنسی اسلحہ نکال کر فریق مخالف کومار دیتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مجھ پر حملہ کیا تھا، اس لئے میں نے اسے قتل کر دیا ہے تو کیا اسے بھی انعام کا حقدار سمجھا جائے گا؟ اس وقت زور تو اس بات پر دینا چاہیے کہ کوئی شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے، ڈاکوؤں کا مقابلہ وہ شہری تو کرلیں گے جن کے پاس لائسنسی اسلحہ ہے، لیکن وہ لوگ کہاں جائیں گے، جنہوں نے ساری زندگی کسی ہتھیار کو چھو کر نہیں دیکھا۔ معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہے، جو لائسنس یافتہ یا بغیر لائسنس اسلحہ رکھتے ہیں۔ کیا ایسے اقدامات سے ان میں عدم تحفظ نہیں بڑھے گا اور وہ اس خوف میں مبتلا نہیں ہو جائیں گے کہ ان کے پاس تو اسلحہ ہی نہیں، وہ ڈاکوؤں کے مقابلے میں اپنی حفاظت کیسے کریں گے؟ کیونکہ پولیس نے تو اب ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔

جو لوگ ذمہ دار مناصب پر بیٹھے ہیں، انہیں ہر اعلان سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس کے نتائج و عواقب پر غورو خوض کے بعد اسے عملی جامہ پہنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بنائے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ وہ عوام کو اجتماعی تحفظ کے نظام کا احساس دلائیں، اگر ہر شخص نے اپنی حفاظت انفرادی طور پر ہی کرنی ہے تو پھر انارکی کے سوا ملک میں کیاباقی رہ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی مداخلت، عدم تربیت، مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کی بھرتی اور کرپشن کی وجہ سے پولیس کے اندر جو خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں، انہیں ختم کر نے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں ،تب شاید کسی آئی جی کو یہ اعلان نہ کرنا پڑے کہ عوام حفاظت خود اختیاری کے تحت ڈاکو ماریں اور انعام حاصل کریں۔

مزید : کالم


loading...