کشمیر :پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون

کشمیر :پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون

  



وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستانی سفیروں سے کہا ہے کہ وہ دُنیا کو باور کرائیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں، تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی سفیروں سے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ نئے عزم کے ساتھ لڑیں اور اِس مسئلے کو اقوام متحدہ کے سامنے پوری شدّو مد کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اہلِ کشمیر کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ آج کشمیر میں آزادی کی نئی لہر اُٹھی ہے ،جو پوری دُنیا دیکھ رہی ہے، دوستانہ تعلقات کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس سے ترقی رُک جائے گی، مسائل کو مزید اُلجھنے سے پہلے حل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی سے کم و بیش نجات پا چکا ہے، اب اسے استحکام اور روشن خیالی کی فضا میں لانا ہے، آج کا پاکستان2013ء سے کہیں زیادہ پُرامن اور خوشحال ہے پاکستان کا مقدمہ دُنیا کے سامنے رکھنا آسان ہو گیا ہے۔ پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار دُنیا کی اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنی اقدار کے ساتھ عالمی تہذیبی اقدار کا خیال رکھنا ہے، بہتر سفارت کاری سے پاکستان روشن، محفوظ اور مستحکم ہو گا۔

پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا ایسا پُرامن حل چاہتا ہے،جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ کشمیریوں کے ساتھ حقِ خود ارادیت کا وعدہ خود بھارتی قیادت نے کیا تھا، لیکن بعدازاں بھارت اپنے اس وعدے سے رو گردانی کر کے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے لگا، لیکن کشمیریوں نے بھارت کے اِس دعوے کو کبھی تسلیم نہیں کیا،آٹھ لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں تعینات ہے اِس کے باوجود وہاں آزادی کے نعرے گونجتے ہیں، پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں اور کرفیو کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے لاکھوں کشمیری اپنے شہدا کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں، بھارت کشمیریوں کے اس جذبہ آزادی کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزما کر دیکھ چکا ہے اِس کے باوجود اگر کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے قربانیاں پیش کر رہے ہیں تو بھارتی جنگ بازوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ پیلٹ گنوں اور گولیوں کے ذریعے کشمیری عوام کا جذبہ کچلا نہیں جا سکتا۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے اِن حالات و واقعات کے بارے میں دُنیا کے ہر پلیٹ فارم پر آواز اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیر اعظم نے اپنے سفیروں سے کہا ہے کہ دُنیا پر واضح کر دیں کہ کشمیر کے حالات بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے صرفِ نظر کر کے خطے میں امن کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ دُنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کشمیری حقِ خود ارادیت کا جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ کشمیر میں تشدد کی تاریخ گواہ ہے کہ سات دہائیوں سے بھارت کا مسلسل جبر کشمیری عوام کو بھارت کا حامی نہیں بنا سکا اور اِس سلسلے میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔ کشمیری عوام کسی ڈر اور خوف کے بغیر پوری وادی کے چپے چپے میں پاکستانی پرچم لہراتے ہیں اور پاکستان کا یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں، جبکہ بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے، بھارت کو اگر کشمیریوں کے اِن جذبات کی وجہ سے نوشت�ۂ دیوار نظر نہیں آتا تو رائے شماری کا اہتمام کر کے دیکھ لیا جائے، لوگوں کی رائے سامنے آ جائے گی، لیکن بھارتی رہنماؤں کو انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیادوں پر پہلے ہی معلوم ہے کہ رائے شماری کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے، اِس لئے وہ یہ رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور طاقت کے ذریعے عوام کے جذبات کو دبا کر اِس مسئلے کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

دُنیا بھر میں پاکستانی سفیروں کو کشمیر کے حالات کی یہ حقیقی تصویر دکھانی چاہئے، کہ تقریباً ایک ماہ سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، انٹرنیٹ سروس بند ہے، فیس بک بند ہے، موبائل فون سروس بند ہے، اِس کے باوجود احتجاجی جلوس نکل رہے ہیں اور کشمیری عوام گولیوں کی پروا کئے بغیر ان جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں، دُنیا کو یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ بھارت کے ساتھ اس تنازع کو ختم کرنے کے لئے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات پر زور دیا ہے، لیکن بھارت ہمیشہ ان سے اپنا دامن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے۔ اب بھی طویل عرصے سے یہ سلسلہ معطل چلا آ رہا ہے اور مذاکرات کا آغاز نہیں ہو رہا۔ دونوں مُلک ایٹمی قوت بھی ہیں اس لحاظ سے یہ خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور کسی بھی وقت اگر جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، لیکن بھارتی رہنما اس کے نتائج و عواقب سے بے پروا ہو کر نہ صرف کشمیر میں کشمیریوں کی جنگِ آزادی کو دبانے میں مصروف ہیں، بلکہ پاکستان کو بھی دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔

بھارتی وزیر داخلہ سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے اور یہاں کانفرنس کے اجلاس میں انہوں نے ایسی باتیں کر دیں جن کا چودھری نثار علی خان نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو وہ کانفرنس کے آخری سیشن کو چھوڑ کر پروگرام سے پہلے ہی واپس چلے گئے، عالمی کانفرنسوں میں، جن میں دوسرے ملکوں کے لیڈر بھی شریک ہوتے ہیں، اگر بھارت اس طرح کے رویئے کا مظاہرہ کرتا ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ باہمی مذاکرات میں اس کا طرزِ عمل کیا ہوسکتا ہے۔ اِس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بھارت اپنی بات تو کرتا ہے، جواب سننے سے سیخ پا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کا طرزِ عمل چند روز قبل بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنایا تھا جب انہوں نے مظفر آباد میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کے جواب میں ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جو نامناسب تھا، سفارتی آداب کے تحت اِس طرح کی بات انہیں زیب نہیں دیتی تھی، لیکن بھارتی رہنماؤں کی یہی تنک تابی ہے جو مذاکرات کا اوّل تو آغاز ہی نہیں ہونے دیتے اور اگر شروع ہو جائیں تو پھر ایسی ہی شعلہ بار تقریروں کے ذریعے ماحول بگاڑ دیا جاتا ہے اور کوئی نتیجہ خیز بات نہیں ہو پاتی، شاید بھارتی رہنما جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں، لیکن اِس طرح کے رویوں سے معاملات کی اصلاح کی جانب کوئی قدم نہیں اُٹھے گا اور حالات خراب سے خراب تر ہوتے رہیں گے، کشمیر کا مسئلہ بہرحال اب حل کرنا ہو گا، زیادہ عرصے تک اس سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔

مزید : اداریہ


loading...