حکومتی فنڈنگ کے باجود پی ایچ ایف کی کارکردگی صفر، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

حکومتی فنڈنگ کے باجود پی ایچ ایف کی کارکردگی صفر، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

  



 لاہور(سپورٹس رپورٹر)وفاقی حکومت نے قومی کھیل "ہاکی "کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 48کروڑ روپے سے زائد کی دی گئی گرانٹس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی مالی امداد کے باوجود فیڈریشن انتظامیہ ، کوچز اور سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی نا قص رہی ، ہاکی فیڈریشن کا آڈٹ سنگین بد عنوانی اور بد انتظامی کی واضح نشاندہی کرتا ہے جبکہ فیڈریشن میں پیشہ وری اور احساس ذمہ داری کا فقدان تھا۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرز ادہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق ہاکی کا کھیل ہماری قومی شہرت ہونے سمیت بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کیلئے اعزازات جیتنے میں مرکزی کردار کا حامل ہے لیکن سال2009سے لیکر2014تک ہاکی کے معاملات بہتر نہ ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج سامنے نہ آ سکے جس کی بڑی وجہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ ، کوچز اور سلیکشن کمیٹی کی ناقص کارکردگی ہے، فیڈریشن نہ صرف غیر منظم تھی بلکہ اس میں پیشہ وری اور احساس ذمہ داری کا بھی فقدان تھا جبکہ آڈیٹر جنرل کب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا آڈٹ کیا گیا جس میں سنگین بد انتظامی ، بد عنوانی اور سابق عہداداران کی لا پرواہی کا انکشاف کیا گیا جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے سنجیدگی سے معاملات کا جائزہ لینے ہوئے فیڈریشن کی جوں کی توں صورتحال کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہاکی کی ترقی اور فروغ کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور خصوصی گرانٹس کی مدمیں قوی ہاکی ٹیم کی انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے، ۔ ریاض پیرزادہ نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کو دی گئی مالی گرانٹس کی تفصیلات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا اور بتایا کہ مالی سال 2011-12سے لیکر 2015-16تک فیڈریشن کو سالانہ گرانٹ کی مد میں 1کروڑ17لاکھ 11ہزار160روپے اور خصوصی گرانٹس کی مد میں 1کروڑ87لاکھ روپے دیئے گئے جبکہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کی ہدات کے تحت پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 44کروڑ90لاکھ 93ہزار333روپے کی مالی مدد کی گئی ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...