قومی ٹیم میں پانچویں باؤلر کی شرکت ناگزیر ہے :توصیف احمد

قومی ٹیم میں پانچویں باؤلر کی شرکت ناگزیر ہے :توصیف احمد

  



کراچی( آن لائن )پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آف اسپنر اور موجودہ سلیکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں پانچویں باؤلرکے نہ ہونے سے دیگر باؤلرز کی کارکردگی بھی متاثرہوئی۔لارڈز میں 20 سال بعد فتح پاکستان کے لیے بڑا اعزاز تھا جہاں بلے بازوں نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور سب کچھ مضبوط نظر آرہا تھا۔مصباح کی قیادت میں پاکستان ٹیم 5 سال بعد اولڈ ٹریفوڑد پہنچی تو انھیں لارڈز کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں یاسر شاہ سمیت دیگر باؤلرز ناکام رہے تھے۔لارڈز میں پاکستان کے کامیاب باؤلراور میچ کے بہترین کھلاڑی یاسر شاہ نے اولڈ ٹریفورڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور باؤلنگ کے کئی بدترین ریکارڈز قائم کئے تھے۔پاکستان ٹیم دونوں میچوں میں اپنے 4 باؤلرز کے ساتھ میدان میں تھی اور پانچویں باؤلر کی کمی شدت سے محسوس کی گئی جس کے لیے اظہرعلی کو آزمایا گیا۔توصیف احمد کا کہنا تھا کہ 'پاکستان نے واضح طورپر ایک اضافی باؤلر کی کمی محسوس کی جو اچھی باؤلنگ کرسکے اور اس کا اثر دیگر باؤلرز کی کارکردگی پر بھی پڑا'۔ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز ایسی نہیں ہیں جہاں دو اسپنرز کو باؤلنگ اٹیک میں شامل کیا جائے اور پاکستان محمد حفیظ جیسے پارٹ ٹائم باؤلرز پر انحصار کررہا ہے۔سابق آف اسپنر نے کہا کہ 'محمد حفیظ بڑے عرصے سے ہمارے پانچویں باؤلر کے طورپر کھیل چکے ہیں لیکن بعد میں ان کے ایکشن کے مسائل کی وجہ سے نقصان ہوا'۔توصیف احمد کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں جو ثقلین مشتاق اور سعید اجمل کے معیار کے ہوں اور اسی ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے کوچز اور سلیکٹرز کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'ثقلین اور سعید اجمل خاص تھے اور وہ اپنے 'دوسرا' اور ورائٹی کے ساتھ ساتھ تیزی ٹرن کی صلاحیت رکھتے تھے اور انھوں نے آتے ہی دنیا میں اپنی ٹرن اور ورائٹی کے ذریعے شہرت حاصل کی'۔پاکستان کی بہترین آف اسپنرز کے متبادل کے تلاش میں تاحال ناکامی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں عظیم باؤلرز کے کیریر کے آخر میں ایکشن کو خراب قرار دیا گیا جو نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں ایک رکاوٹ ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی