شیراکوٹ ، دیگر تھانوں کی نسبت شرح جرائم زیادہ ، مقدما ت کا اندراج کم

شیراکوٹ ، دیگر تھانوں کی نسبت شرح جرائم زیادہ ، مقدما ت کا اندراج کم

  



 لاہور(وقائع نگار) تھانہ شیراکوٹ جہاں دیگر تھانوں کی نسبت جرائم کی شرح نسبتاً زیادہ ہے وہیں جرائم کے مقابلہ میں مقدمات کے اندراج کا سلسلہ انتہائی کم ہے۔ پولیس ڈاکوؤں اور راہزنوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گئی علاقہ میں پولیس قمار بازی اور شراب فروشی کے اڈوں سے مبینہ منتھلی لینے میں مصروف نظر آتی ہے ، بند روڈ اور فیکٹری روڈ پر ڈکیتی کی وارداتیں جبکہ جعفریہ کالونی اور شاہین آباد سمیت طلعت پارک میں سٹریٹ کرائم اور قمار بازی کے اڈے قائم ہیں جبکہ تھانہ کی حدود میں شاہراؤں بند روڈ اور دیگر سڑکوں پر لوٹ مار سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے ۔تھانے کی حدود میں آبادیوں اور سڑکوں کا سروے کرنے پر تاجر اور مکینوں نے پولیس کے گشت نہ کرنے اور جرائم کم نہ ہونے پر شکایات کے انبار لگا دیئے۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے علاقہ مکینوں احمد، محمد ارشد ،ریاض ،بشیر ،محبوب اوراکمل نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں جرائم کی شرح پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔پولیس حکام کو تھانوں کا کلچر تبدیل کرنا ہوگا تھانے میں ایک عام شہری کی شنوائی نہیں ہوپاتی۔انہوں نے کہا کہ تھانہ شیراکوٹ کی کسی سڑک پر جرم ہوجائے یا کسی شہری کو لوٹ لیا جائے۔ تو پولیس تھانہ ساندہ تھانہ گلشن راوی یا پھر نواں کوٹ تھانے جانے کا مشورہ دے کر ٹال دیتی ہے۔ جس سے مقدمہ درج نہیں ہوتا اور متاثرہ شخص چکر لگانے کے بعد مایوس ہوکر گھر بیٹھ جاتا ہے۔ اس موقع پر شہریوں نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں گزشتہ 8ماہ کے دوران قتل وغارت کے درجن بھر واقعات ہوچکے ہیں ، انویسٹی گیشن پولیس کی گرفت اس حد تک کمزور ہے کہ قتل کے مقدمات کو لٹکادیا جاتا ہے اور نہایت سست روی سے تفتیش کی جاتی ہے جبکہ اشتہاریوں نے اس تھانے کی حدود میں مکینوں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں۔ اس کے علاوہ قمار بازی اور شراب فروشی اور منشیات کے اڈوں کی تعداد میں اضافہ ہونے سے جرائم کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔اس حوالے سے تھانہ شیرا کوٹ میں رابطہ کیا گیا تو پولیس کا موقف تھا کہ منتھلی لینے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔پولیس کے گشت کے نظام اور شہر کے داخلی راستوں اور آبادیوں کے داخلی راستوں پر روزانہ کی بنیاد پر ناکے لگائے جاتے ہیں اس کے علاوہ پولیس نے مقدمات کی تفتیش میں تیزی لانے کے لئے ڈی ایس پی کی ہدایت پر نہایت منظم طریقہ سے عمل درآمد کرنا شروع کر دیا ہے اور کئی مقدمات کے چالان چند دنوں میں ہی عدالتوں میں پیش کر دیئے گئے ہیں البتہ اندھے قتل اور نامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی وارداتوں کی تفتیش میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان میں سے بھی بیشتر مقدمات کی تفتیش مکمل کی جا چکی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...