نادان دوست

نادان دوست

  



عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور اپوزیشن جماعتوں کے کنوینر شیخ رشید احمد اپنے خدشات بیان کررہے تھے اور نجانے مجھے کیوں وہ خدشات ، خدشات سے کہیں زیادہ خواہشات معلوم ہورہے تھے، وہ اپوزیشن کی بائیس جماعتوں کی بات کر رہے تھے جنہوں نے ایک احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے مطابق اسی احتجاجی تحریک میں حکومت کی طرف سے شرارت کی جائے گی اور وہ شرارت حکمرانوں کے گلے پڑجائے گی۔اگست ستمبراور اکتوبرجیسے مہینوں کی فی الوقت اہمیت یہی ہے کہ ان میں پاک فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو سکتا ہے مگر یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج کے سربراہ خود اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے آپشن کو مسترد کر چکے ہیں ، ان کے بہت سارے دوستوں کے مشورے بھی یہی ہیں کہ پاک فوج کا ہرو ہ سربراہ ہیروبنا اورغیر متنازعہ رہا جس نے کسی بھی سیاسی حکومت سے مدت ملازمت میں توسیع قبول نہیں کی ، دوسری طرف تازہ ترین مثال تو جنرل کیانی کی ہے، اپنی مدت ملازمت کے دوران ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوا مگر جیسے ہی توسیعی مدت شروع ہوئی ، سوال در سوال ہونے لگے۔ جنرل راحیل شریف کے پاک فوج کے سربراہ کے طور پر یادگار ترین کارکردگی جہاں کامیاب آپریشن ضرب عضب ہے، جسے انہوں نے ملک کی دو مقبول ترین سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی قیادتوں کی مخالفت کے باوجودنہ صرف شروع کیا بلکہ اسے کامیابی سے ہم کنار بھی کیا، انہوں نے ایک بہادر فوجی کے طور پر جنرل کیانی کے ان خدشات کا بھی سامنا کیاکہ اگر قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیاجاتاہے تو اس کے نتائج شہری علاقوں میں بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ یقینی طور پر سیاسی حکومتوں کوآپریشن ضرب عضب کے سیاسی اور سماجی پہلووں کو کامیاب بنانے کے لئے پاک فوج کے ساتھ ساتھ اپنا کردار زیادہ موثر طریقے سے ادا کرنا ہے۔آپریشن ضرب عضب کے بعد ان کا دوسرا بڑا یادگار اقدام سیاست میں مداخلت نہ کرنا ہے حالانکہ ہمارے بعض سیاستدان امپائر کی انگلی کے نام سے ، ان سے، حکومت کو آوٹ قرار دینے کی بار بار اپیل کر رہے تھے، اس کا ماحول بنا رہے تھے، یہ الگ بات کہ بعد میں انہوں نے قدرت کو امپائر ڈیکلئیر کر دیا حالانکہ جب وہ اپنی پیدا کی ہوئی تحریک کے عروج پر آرمی چیف سے ملنے کے لئے جا رہے تھے تو ان کے چہروں کی لالی اور ہونٹوں پر رقص کرتی مسکراہٹ سب کچھ کھول کھول کر بیان کر رہی تھیں۔

بہرحال، شیخ رشید احمد قرار دے رہے تھے کہ انہیں اس امر سے غرض نہیں کہ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع ملتی ہے یا نہیں مگر دوسرے ہی لمحے ان کاکہنا یہ تھا کہ جب شرارت ہو گی تو حالات خراب ہوں گے، جب حالات خراب ہوں گے تو فوج مداخلت پر مجبور ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت کیوں شرارت کرے گی ، وہ تو چاہے گی کہ اس احتجاجی تحریک میں کسی اور کی طرف سے بھی کوئی شرارت نہ ہو، ماڈل ٹاون میں شرارت ہوئی اور وہ اب تک حکمران جماعت کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ شیخ رشید احمد کاجواب تھا کہ حکومت میں موجود کچھ عاقبت نااندیش اس قسم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ یہ محض ٹامک ٹوئی نہ ہو ،شیخ صاحب کے پاس حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں سے ایسی خبروں دینے والے جاسوس ہوں مگر دو،سوا دو برس پہلے ہونے والے ماڈل ٹاون کے سانحے کے بعد تو پوری دھرنا تحریک میں یہی نظر آیا کہ حکومت کسی شرارت اور کسی براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کر تی رہی۔ شیخ رشید احمد کو یاد ہو گا اور اگر بھول گیا ہو تو وہ شیریں مزاری سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ جب دھرنے کے شرکاء نے شاہراہ دستور سے بلیو ایریا کی طرف سفر شروع کیا تھا تو اس وقت بھی درجنوں لاشوں کے گرنے کی خبر پھیلائی گئی تھی، حکومت اس افواہ کی مسلسل تردید کر رہی تھی مگر شیریں مزاری اور ان کے ساتھ دو سے تین نیوز چینلز مسلسل خبریں اور ٹکر چلا رہے تھے کہ ایک درجن سے زائد لوگوں کو فائرنگ اور شیلنگ وغیرہ کے ذریعے ہلاک کر دیاگیا ہے۔ جب لاشوں کے لئے بے چین سیاسی رہنماوں سے یہ پوچھا جا رہا تھا کہ وہ ڈیڈ باڈیز کہاں ہیں تو جواب دیا جا رہا تھاکہ وہ بھی پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اگلا سوال یہ تھا کہ ہلاک کر دئیے جانے والوں کے نام ہی بتا دئیے جائیں، ان کے روتے پیٹے ورثاکو ہی دکھا دیا جائے تو ایک سے دو لوگوں کی ہلاکتیں ہی سامنے آئی تھیں اور وہ کسی کریک ڈاون سے کہیں زیادہ حادثے کا نتیجہ تھیں۔

پاکستانی سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر میرا سوال ہے کہ کیا اپوزیشن کو اندازہ ہے کہ وہ پانامہ لیکس پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل نہیں کروا سکے گی کہ اس کے پاس ثبوتوں کا کم وبیش وہی عالم ہے جودھاندلی کے مقدمے میں جوڈیشل کمیشن میں تھا۔ وہ جن ٹیکنیکل معاملات کی بنیاد پر وزیراعظم کی نااہلی کے خواب دیکھ رہے ہیں ایسے معاملات پر تو عمران خان صاحب سمیت آدھی سے زیادہ پارلیمنٹ نااہل ہو سکتی ہے۔ میں شروع سے کہتا آ رہا ہوں کہ حکمران خاندان کو بیرون ملک اپنے کاروباروں اور آمدن کے ذرائع کو جائز اور قانونی ثابت کرنا پڑے گا مگر اب اس کھیل کو خود اپوزیشن نے ایک سے زیادہ میدانوں میں کھیلتے ہوئے کنفیوژ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے پیش نظر حقائق کی تلاش اور الزامات کو ثابت کرنے سے کہیں زیادہ حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے اور اسی کوشش میں اصل پریشر بھی ریلیز کرتے چلے جا رہے ہیں، اب انہیں اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے ’’کچھ اور‘‘ درکار ہے اور یہ’’کچھ اور‘‘ وہی ہے جس کا ذکر شیخ رشید احمد نے اپنے خیالات کے ایک تازہ ترین اظہار میں کیا ہے۔ ہمارے بعض سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ زیادہ بول کر زیادہ سیاسی نفع کما سکتے ہیں مگر بعض اوقات یہی کوشش خسارہ بھی دے جاتی ہے۔ مجھے شیخ صاحب کو بتانا ہے کہ اب اگر کوئی ایسا معاملہ ہوا تو آپ کے خدشات کو آپ کی خواہشات کے طور پر پیش کیا جائے گا جس کی کامن سینس اور واقعاتی شہادتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تردید بھی نہیں کی جا سکے گی۔ اگر آپ کے پاس کچھ مصدقہ اطلاعات موجود بھی تھیں تو آپ کو اس وقت کے آنے تک خفیہ ہی رکھنا چاہئے تھا تاکہ آپ حکومت کی حماقت آمیز شرارت کا فائدہ اٹھا سکتے۔ حقیقت ہے آپ اس کے دھرنا تحریک میں بھی منتظر ہی نہیں بلکہ خواہاں رہے ، یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ حکمران جماعت ریاستی طاقت کو استعمال کئے بغیر ہی آپ کے لانگ مارچ کو تتر بتر کر سکتی تھی، آپ کو اگر میری بات سے اتفاق نہ ہو تو آپ عمران خان صاحب کی قیادت میں گوجرانوالہ میں مسلم لیگ نون کی طرف سے مقامی سطح پر کی گئی مزاحمت کو یاد کر سکتے ہیں اور اگریہی حکمت عملی واقعی پارٹی کی سطح پر اختیار کر لی جاتی تو تصادم بڑھ سکتا تھا مگر اسے بھی روک لیا گیا،اپوزیشن کو آخر دم تک ایکسپوز کرنے کی حکمت عملی کامیاب رہی۔

میں نے محترم شیخ رشید احمد کی باتیں سنیں، کبھی مجھے حیرت ہوئی اور کبھی مجھے ہنسی آئی، وہ مجھے اپوزیشن جماعتوں کے نادان دوست کے طور پر نظر آئے، مجھے وینا ملک بھی یاد آئیں جنہوں نے سوناکشی سنہا کی فلم دبنگ میں سلمان خان سے بولے گئے ڈائیلاگ کو شیخ صاحب کے لئے بولا تھا، کہا تھا، شیخ صاحب کی نفرت سے نہیں، محبت سے ڈرلگتا ہے۔وینا ملک کے شیخ صاحب کے لئے بولے گئے ڈائیلاگ کی اپنی ایک ہسٹری ہے جس کا یہاں بیان کر نا غیرضروری ہو گا۔ مجھے بھی یوں ہی لگاکہ فی الوقت سیاسی جماعتوں کو شیخ صاحب کی نفرت کی بجائے محبت سے ڈرنا چاہئے۔ اسی محبت نے تحریک انصاف کوکہاں سے کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے مگر تحریک انصاف کے معاملے میں سارا قصور صرف شیخ صاحب پربھی ڈال دینا انصاف نہیں ہو گا۔ شیخ صاحب تو محبت کرتے ہیں مگر وہ محبت کباڑا کر دیتی ہے، جوبات وینا ملک کو بہت برس پہلے سمجھ آ گئی تھی وہ ہمارے کچھ سیاستدانوں کو اب تک نہیں آرہی۔ کہتے ہیں کہ نادان دوست سے دانا دشمن کہیں بھلا اور بہتر ہوتا ہے، عقل کی یہ بات ایک حکایت سے اخذ کی گئی ہے جس میں ایک شخص کی ایک ریچھ کے ساتھ دوستی تھی، ایک روز وہ شخص اپنے دوست کی موجودگی میں کسی درخت کے سائے میں سویا ہوا تھا کہ ایک مکھی اس کی ناک پر بیٹھنے لگی، ریچھ نے بار بار اسے اڑایا اور مگر وہ بار بار واپس وہاں ہی آ کر بیٹھتی رہی، پھر یوں کہ ریچھ نے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس مکھی کو دے مارا جو دوست کی ناک پر بیٹھی اس کی نیند خراب کر رہی تھی۔

مزید : کالم


loading...