نیشنل پار کنٹرول سنٹر نے لوڈ مینجمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا

نیشنل پار کنٹرول سنٹر نے لوڈ مینجمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا

  



لاہور(کامرس رپورٹر) ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے خطرہ کے پیش نظر نیشنل پاور کنٹرول سنٹر نے لوڈ مینجمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیاہے ۔ نیشنل پاور کنٹرول سنٹرز نے اپنے ریجنل سنٹرز کے ذریعے براہ راست گرڈ کے لئے بجلی کی بندش کا سلسلہ شروع کر دیا جس سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ ہو گیا ۔ براہ راست گرڈ کے لئے بجلی کی بندش کے باعث وی ائی پیز فیڈرز کے لئے بھی لوڈ مینجمنٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ براہ راست لوڈ مینجمنٹ کے باعث چار چار گھنٹے مسلسل لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے شدید حبس میں بدترین لوڈ شیڈنگ سے لوگ بلبلا اٹھے ۔ بیشتر علاقوں میں پانی کا بھی بحران پیدا ہو گیا ۔بجلی کی پیداوار میں کمی کے باعث شارٹ فال بڑھ کر ساڑھے آٹھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے جس کے باعث مجموعی پیداوار اور شارٹ فال کا فرق انتہائی کم رہ گیا ہے جس کے باعث ملک میں بڑے بریک ڈاؤن کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث نیشنل پاور کنٹرول نے لوڈ مینجمنٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیاہے ۔ گزشتہ روز شہروں میں تیرہ سے چودہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی ڈیمانڈ 21070 میگاواٹ جبکہ پیداوار 12730 میگاواٹ رہی طلب و رسد میں 8370 میگاواٹ کا فرق رہا۔لیسکو پاور ڈسپیچ سینٹر کے افسران کی لوڈ مینجمنٹ میں ناکامی ہونے کی وجہ سے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر براہ راست گرڈ سٹیشنز کو بند کر کے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی کے لئے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی جانب سے کوٹہ فراہم کیا جاتا ہے تاہم لیسکو ڈحکام کی نااہلی کی وجہ سے لوڈ مینجمنٹ نہیں ہو رہی۔شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ جب کمپنی شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ کرنے میں ناکام ہوتی ہے اور سسٹم پر لوڈ پڑتا ہے تو نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی طرف سے گرڈ سٹیشنز کو بند کر کے لوڈشیڈنگ شروع کر دی جاتی ہے۔لیسکو کے تین سے چار گرڈ سٹیشنز کو بیک وقت بند کر کے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...