شام، حلب کی لڑائی میں سرکاری فوج کو بھاری جانی نقصان کا سامنا

شام، حلب کی لڑائی میں سرکاری فوج کو بھاری جانی نقصان کا سامنا

  



دمشق(آن لائن)شام کے شمالی شہر حلب میں جاری لڑائی کے دوران سرکاری فوج کو بھاری جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند ایام کے دوران بشارالاسد کی فوج نے حلب کی لڑائی میں اپنے 9 سینئر افسران سمیت کئی اہلکار کھو دیے ہیں۔ عرب خبررساں کے مطابق شام میں بشار الاسد کے مقربین کے سوشل میڈیا صفحات پر بھی حلب کی لڑائی میں مارے جانے والے فوجیوں کے بارے میں تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ایام میں حلب میں اپوزیشن فورسز کیحملوں میں ہلاک ہونے والے سرکاری فوجیوں میں بریگیڈیئر جنرل، کرنل، میجر، کیپٹن اور فرسٹ لیفٹننٹ کے عہدے کے افسران شامل ہیں۔بشار الاسد کے مقرب سمجھے جانے والے لوگوں کے’‘فیس بک‘ اکاؤنٹس ’جبلہ نیوز نیٹ ورک‘، طرطوس الآن، وسطی ریجن نیوز نیٹ ورک، شہداء افواج شام اور دیگر سوشل میڈیا گروپوں کی جانب سے بتایا گیا کہ حالیہ ایام میں حلب میں کم سے کم 16 سرکاری فوجی افسران اور سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔حلب میں قتل ہونے والے سرکاری فوجیوں میں ساحلی شہربانیاس کے بریگیڈیئر جنرل یاس محسن میا، حمص کیمیجر عمار البوتی، جبلہ کے کیپٹن سامر احمد، وادی القلع کے کیپٹن شادی بدور، حمص کے لیفٹیننٹ یوسف معزالیدن اسماعیل، بانیاس کے فرسٹ لیفٹیننٹ مجد صالح یوسف، الدالیہ کے علی محی الدین سلوم، جبلہ کے فرسٹ لیفٹیننٹ محمد عیسیٰ، جبل دویر کے احمد حبیب علی یزن عبدالحمید بدور، طرطوس کے عبدالکریم عبدالطیف، خضر احمد عبود،حمص کے غسان سلوم، طوطوس کیشریف حسون، احمد عبدالستار الحسن اور حلب کے محمود عثمان شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...