چین نے سی پیک کیلئے ہمارے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا ، نواز شریف

چین نے سی پیک کیلئے ہمارے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا ، نواز شریف

  



اسلام آباد( اے این این )وزیراعظم نوازشریف نے ترقی اورشفافیت کواپنی حکومت کاطرہ امتیازقراردیتے ہوئے کہاہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کیلئے چین نے ہمارے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا ،غافل لوگ انتشار کی سیاست سے ملک کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں،ہمارا یجنڈا دھرنے اوراحتجاج نہیں ترقی ہے،قوم جانتی ہے کون ملک کوآگے لے جانے کی اور کون انتشار کی سیاست کر رہا ہے؟ عوام کسی بہکاوے میں نہیں آ ئیں گے، بجلی کے منصوبے نہ لگانے پر مشرف اور اس کے ساتھیوں کو پارلیمنٹ کے کٹہرے میں لایا جائے، ہم ملک کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لا رہے ہیں، ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے آج پاکستان کے ڈیفالٹ کا نام و نشان تک نہیں ، اس سال آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔وہ جمعرات کویہاں مسلم لیگ( ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیراعظم نے جہاں اپنے تین سالہ دور میں حکومتی کارکردگی کی تعریف کی وہیں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن)کو دے دیا۔انہوں نے کہاکہ جب چینی صدر شی جن پنگ پاکستان آئے تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ سی پیک منصوبہ چین کی طرف سے آپ کے لیے ایک تحفہ ہے چین اس گھڑی کا منتظر تھا کہ ہماری حکومت قائم ہو اور ہم یہ کام شروع کریں اقتصادی راہداری سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی ہم گوادر کو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ شہر بنادیں گے جس پر لوگ فخر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تھے تو دہشت گردی،خراب معاشی صورتحال اورتوانائی بحران جیسے تین بڑے چیلنجوں کا سامنا تھا الحمد اللہ آج ہم اپنے پاں پرکھڑے ہوگئے ہیں آج پوری دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے، آج کوئی ہمیں ناکام ریاست نہیں کہتا آج پاکستان کے ڈیفالٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے بلکہ دنیا ہمیں ایک ابھرتی ہوئی معیشت کہہ رہی ہے ،پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلندیوں کو چھو چکے ہیں معیشت کی بہتری میں اسحاق ڈارنے بہت محنت کی اور اب ہم خوشی سے رواں سال آئی ایم ایف کے پروگرام کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ملک کو امن کا گہوارا بناناچاہتے ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اس آپریشن نے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے اس سلسلے میں فوج اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013سے پہلے کے حالات کو دیکھنا چاہیے اور یہ بھی کہ ملک میں دہشت گردی شروع کس نے کی اور اس کی کیا وجوہات تھیں؟، ان سب باتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013تک کراچی کی صورتحال انتہائی خراب تھی سرمایہ کارکبھی کراچی آنے سے ڈرتے تھے لیکن آج وہاں کی صورتحال کافی بہتر ہے اور یہ میں نہیں کہتا بلکہ کراچی کے لوگ خود کہتے ہیں آج سرمایہ کاروہاںآرہے ہیں، شہرقائد میں گرین بس وفاقی حکومت جلد مکمل کرے گی، ہم کراچی میں پانی کے بحران پرقابوپانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں انتہا پسندانہ سوچ کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ اپنے دور حکومت کے دوران شروع کیے گئے توانائی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں کی وجہ سے 100 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ یہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ تھر میں نکلنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا اور ہم سب ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرف اور ان کے ساتھیوں کو اسمبلی کے کٹہرے میں بلاکر پوچھا جانا چاہیے کہ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کو بربادی کی طرف کیوں دھکیلا ، ان سے پوچھیں 9سال میں بجلی کے منصوبے کیوں نہیں لگائے؟، ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے ان لوگوں نے لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا اور ہم عوام کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا مقصد صرف اقتدار ہے لیکن ہمارا مقصد اقتدارنہیں بلکہ عوام کی خدمت۔ گلگت بلتستان اور بلدیاتی انتخابات میں بھی عوام نے ہم پر اعتماد کیا جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے ہمیں اپنے کام کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے اور نئے جذبے کے ساتھ لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا ہے۔ غافل لوگ انتشار کی سیاست سے ملک کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں، ہمیں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ دریں اثناء پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ،شرکاء نے وزیراعظم نوازشریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی تحریک ماضی کی طرح ناکام ہو جائے گی ، احتساب کے نام پر وزیر اعظم کو نشانہ نہیں بننے دیں گے ۔ پارلیمانی پارٹی نے آئندہ دو سال کیلئے وزیراعظم کے ترقیاتی ایجنڈے کی توثیق بھی کی ۔اس سے پہلے وزیراعظم جب اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تو مسلم لیگ (ن)کے منتخب ارکان نے ان کاپرتپاک استقبال کیا۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول