1320میگاواٹ کے ساہیوال کول پاور پلانٹ پر 60فیصد کام مکمل ، اگلے برس بجلی پیدا کریگا ، شہباز شریف

1320میگاواٹ کے ساہیوال کول پاور پلانٹ پر 60فیصد کام مکمل ، اگلے برس بجلی پیدا ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ساہیوال میں1320میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ کا دورہ کیا اور منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کو اس موقع پر منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں چین کے انجینئرز اور ماہرین نے بریفنگ دی۔چین کے قومی ادارہ توانائی (National Energy Administration) کے نائب منتظم ( Vice Administrator) لی فزوگ (Mr. Li Fanrog) ، چینی قونصل جنرل یوبورن ،چینی وفد کے اراکین اورساہیوال کول پاورپلانٹ پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے بریفنگ سیشن اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال کول پاورپراجیکٹ پر ایک سال میں 60 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 1320 میگاواٹ کا کوئلے سے چلنے والا یہ کارخانہ اگلے سال کے وسط میں بجلی کی پیداوار شروع کردے گا۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ پر گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں کام شروع ہوا اوراب تک منصوبے پر 60فیصد کام مکمل ہوچکاہے اوریہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا منصوبہ ہے ۔چین سمیت دنیا بھر میں اس سائز کے منصوبے عام طورپر چار سے پانچ برس میں مکمل ہوتے ہیں جبکہ چین میں بھی اس سائز کا پاور پلانٹ3سال سے پہلے مکمل نہیں ہوالیکن ساہیوال کول پاور پراجیکٹ 23ماہ میں مکمل ہوگاجو پوری دنیا میں نیاریکارڈ قائم کرے گااور اس منصوبے نے چین کاریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔یہ منصوبہ پاکستان کے غریب عوام کا منصوبہ ہے،یہ منصوبہ ہر محنت کش،مزدور،افسر،جج،جرنیل،پولیس،اساتذہ،ڈاکٹرزاورسب کامنصوبہ ہے۔ بلاشبہ یہ چین کی کمپنیوں اورپنجاب حکومت کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے کہ اس منصوبے کو انتہائی برق رفتاری سے مکمل کیا جارہا ہے ۔منصوبے پر دن رات کام کیا جارہا ہے اورمحنت کا ثمر انشاء اللہ اگلے برس کے وسط میں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے پنجاب کے بارے میں بدنیتی کے ساتھ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ،میں یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ سی پیک کے تحت پورے پاکستان میں بجلی کے منصوبوں کے لئے 36ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے اور اس میں سے 11ارب ڈالرسندھ میں توانائی منصوبوں پر خرچ کیے جارہے ہیں جبکہ پنجاب میں توانائی کے منصوبوں کے لئے ساڑھے چھ ارب ڈالرخرچ ہورہے ہیں،اسی طرح خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے لیکن ہمیں اس پرخوشی ہے کیونکہ پاور پلانٹ کہیں بھی لگے یہ ہمارا اعزاز ہے اورہمارے لئے باعث مسرت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ساہیوال کول پاورپراجیکٹ شروع کیاگیا تو اس کے بارے میں منفی تصویرپیش کی گئی اورکہا گیا کہ یہ منصوبہ 10برس سے پہلے شروع نہیں ہوسکے گا لیکن میں انہیں زیادہ قصور وار نہیں سمجھتا جنہوں نے یہ پراپیگنڈاکیا کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان کی ماضی کی تاریخ یہی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ سے کہیں بڑا ہے ۔نیلم جہلم ہائیڈورمنصوبہ ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کا شکار رہا ہے اوراس طرح ملک کے وسائل کو تباہ کیا گیا۔نیلم جہلم ہائیڈور پراجیکٹ سے 900میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ 1320میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات ہونے والے ڈنمارک کے نئے سفیر اولے تھونکی (Mr. Ole Thonke)نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات ،اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک میں اچھے دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔ پاکستان اور ڈنمارک کو تجارتی، معاشی اور سماجی شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے اور اس مقصد کیلئے دونوں ملکوں کے تجارتی اور صنعتی وفود کے تبادلے تعلقات کے فروغ کیلئے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی ونڈ پاور انرجی کمپنی پنجاب میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں بھی ڈینش کمپنی پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے بہترین ماحول فراہم کیا گیا ہے ۔ ڈینش سرمایہ کار پنجاب میں سرمایہ کاری کی سازگار فضا سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور پنجاب حکومت انہیں اس ضمن میں ہرممکن سہولتیں دے گی۔ ڈنمارک کے سفیر اولے تھونکی نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے درست سمت کام کر رہے ہیں۔ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے مابین تجارتی شعبہ میں تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ تجارتی تعاون کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو مثبت پیغام ملے گا اور بزنس کمیونٹی کے باہمی رابطوں سے دو طرفہ معاشی تعاون بڑھے گا۔ انہو ں نے کہا کہ ڈنمارک کی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبوں پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ دونوں مما لک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔تجارتی وفود کے باہمی تبادلوں سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ ڈنمارک کے سفیر نے پاکستان اور ڈنمارک کے مابین دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ذاتی دلچسپی لینے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...