ری پبلک پارٹی کی ٹرمپ کے بارے میں گھبراہٹ نئی سطح پر پہنچ گئی

ری پبلک پارٹی کی ٹرمپ کے بارے میں گھبراہٹ نئی سطح پر پہنچ گئی

  



 واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) ری پبلکن پارٹی کی اپنے نامزد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں گھبراہٹ نئی سطح پر پہنچ گئی۔ بدھ کے روز ’’اے بی سی نیوز‘‘ کے اینکر جوناتھن کارل نے یہ بریکنگ نیوز دے کر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی تھی کہ ری پبلکن پارٹی کی نیشنل کمیٹی کے چیئرمین رینس پریبس سمیت ہائی کمان ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی ختم کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے غلط رویے کے باعث پارٹی کے اندر اور باہر پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے جہاں اس کی ’’بدتمیزیوں‘‘ کے خلاف احتجاج کا مسلسل چرچا ہو رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کی بددلی اور اس کے اندر خلفشار کا قصہ اب ’’اے بی سی نیوز‘‘ کے علاوہ امریکی میڈیا کے دوسرے ارکان تک پھیل گیا ہے۔ صدارتی نامزدگیوں کا مرحلہ طے ہونے کے بعد ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن دونوں پارٹیوں میں اس وقت اپنے داخلی نظام کے ذریعے جسے پرائمری انتخابات کہا جاسکتا ہے کانگریس کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی کل 100 میں سے 34 نشستوں کیلئے اپنے امیدواروں کو فائنل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں ڈیمو کریٹک پارتی فی الحال کافی حد تک اتحاد کے ساتھ چل رہی ہے لیکن ری پبلکن پارٹی میں انتشار اور اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ پارٹی روایت کے مطابق صدارت اور نائب صدارت کے نامزد امیدوار کانگریس اور سینیٹ کے خصوصاً ایسے امیدواروں کی واضح حمایت یا توثیق کرتے ہیں جنہوں نے آگے جاکر سپیکر شپ یا ان ایوانوں میں پارٹی لیڈر جیسے اہم عہدے سنبھالے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت چھپی نہیں ہے کہ پارٹی کے تین اہم لیڈروں کے، جن میں ایوان نمائندگان کے سپیکر پال رائن، سینیٹ کے اکثریتی لیڈر مچ میکانل اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین جان مکین شامل ہیں، ٹرمپ کے ساتھ شدید اختلافات ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی توثیق نہیں کی یا پھر بددلی کے ساتھ دیر سے توثیق کی لیکن اپنے پبلک بیانات میں ٹرمپ پر شدید نکتہ چینی کرتے رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب اس کا بدلہ اس طرح لے رہا ہے کہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے انتخابات کیلئے وہ ان لیڈروں کی توثیق کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ نائب صدارت کے نامزد امیدوار مائیک پنس نے پرزور طریقے سے سپیکر پال رائن کی توثیق کی ہے اور انہیں ایک ’’مضبوط قدامت پسند‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی قومی کنونشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کو پارٹی ہائی کمان نے بہ امر مجبوری قبول کیا ہے جو اصل میں اسے شدید ناپسند کرتی ہے۔ ری پبلکن پارتی کا سب سے مقتدر ادارہ 168 ارکان پر مشتمل نیشنل کمیٹی ہے جس کے چیئرمین رینس پریبس ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی پالیسی اور رویے سے تنگ آکر اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے جب پارٹی کے قانونی ماہرین سے مشورہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ پارٹی قوانین اور ضوابط کے مطابق ٹرمپ کو زبردستی فارغ کرنے کا کوئی فارمولا موجود نہیں ہے اور وہ خود اپنی نامزدگی سے دستبرداری کیلئے کبھی تیار نہیں ہوں گے البتہ اگر وہ رضاکارانہ طور پر اپنی نامزدگی چھوڑ دیں گے تو پارٹی قوانین کے مطابق اس کی جگہ نیا امیدوار لانے کا ایک طریق کار موجود ہے جو اگرچہ پیچیدہ ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کیلئے نئے قومی کنونشن بلانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس سلسلے میں نیشنل کمیٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی میں خلفشار کی یہی صورت برقرار رہی تو اس سے نہ صرف ان کا صدارتی امیدوار ہار سکتا ہے بلکہ 8 نومبر ہی کو ہونے والے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے انتخابات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس وقت 435 ارکان کے ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارتی کے 201 کے مقابلے پر ری پبلکن پارٹی کے 234 ارکان ہیں۔ ان تمام ارکان کی مدت اس سال ختم ہو جائے گی اور 8 نومبر کو تمام نشستوں کا نیا انتخاب ہوگا۔ سینیٹ کی کل 100 نشستیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کی تمام 50 ریاستوں کو اس میں برابر کا حصہ حاصل ہے یعنی ہر ریاست کی دو نشستیں ہیں۔ سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ کچھ مختلف اور پیچیدہ ہے۔ ہر دو سال کے بعد اس کے ایک تہائی ارکان کا نیا چناؤ ہوتا ہے لیکن نومنتخب ارکان کے عہدوں کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ اس وقت ایوان نمائندگان کی طرح سینیٹ میں بھی ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ سو ارکان سینیٹ میں ری پبلکن ارکان کی تعداد 54 ہے، ڈیموکریٹک ارکان 44 اور دو آزاد رکن ہیں۔ اب 8 نومبر کو سینیٹ کے کل 100 ارکان میں سے 64 ارکان برقرار رہیں گے اور ایک تہائی یعنی 34 ارکان بدل جائیں گے یعنی صرف ان کا انتخاب ہوگا جو چھ سال کیلئے چنے جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ فضا برقرار رہی تو ڈیمو کریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن اور ٹم کین کی ٹیم کو نومبر کے صدارتی انتخابات میں جہاں فتح حاصل ہوگی وہاں کانگریس اور سینیٹ کے انتخابات میں اپنے اندرونی خلفشار کے باعث ری پبلکن پارٹی اپنی موجودہ برتری کھو بھی سکتی ہے۔

مزید : صفحہ اول