پٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس کی وصولی کیخلاف درخواست پر حکومت ایف بی آر اور اوگرا سے جواب طلب

پٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس کی وصولی کیخلاف درخواست پر حکومت ایف بی ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت، ایف بی آر اور اوگرا سے جواب طلب کر لیاہے۔ عدالت نے سیلز ٹیکس کے خلاف پہلی درخواستوں میں جواب داخل نہ کروانے پر وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسا نہ ہوکہ عدالت کو وفاقی حکومت کے خلاف یکطرفہ فیصلہ کرنا پڑے۔یہ درخواست جوڈیشل ایکٹواژم پینل نے دائر کررکھی ہے ۔درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 17روپے اضافی سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے، جبکہ ایچ ایس ڈی تیل پر 35روپے اضافی سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، درخواست گزار نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اضافی سیلز ٹیکس کی وصولی سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منافی ہے، حکومت اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کیلئے عوام کا خون چوس رہی اور ٹیکس پر ٹیکس عائد کئے جا رہے ہیں، درخواست گزار نے استدعا کی کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس وصول کرنے سے روکا جائے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سیلز ٹیکس کی وصولی کے خلاف پہلی درخواستوں میں بھی نوٹسز جاری کر رکھے ہیں لیکن وفاقی حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے نوٹسز کی تعمیل میں جواب داخل نہیں کروا رہی، عدالت نے وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایسا نہ ہوکہ عدالت کو وفاقی حکومت کے خلاف یکطرفہ فیصلہ کرنا پڑے، عدالت نے مزید سماعت 31اگست تک ملتوی کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست پرتفصیلی جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر