انجمن مزارعین کے دو رہنماؤں اور دو ستوں کی نظربندیوں کیخلاف درخواستوں پر ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات سے جواب طلب

انجمن مزارعین کے دو رہنماؤں اور دو ستوں کی نظربندیوں کیخلاف درخواستوں پر ہوم ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے انجمن مزارعین کے دو رہنماؤں اور ان کے دو ستوں کی نظربندیوں کے خلاف درخواستوں پر ہوم سیکرٹری پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات سے 11اگست تک جواب طلب کر لیاہے، عدالت نے مزارعین کے رہنما مہر عبدالستار پر جیل میں غیرانسانی تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے بھی رپورٹ طلب کی ہے۔جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے انجمن مزارعین کے رہنما مہر عبدالستار ، فاروق طاہر اور ان دو دوستوں حافظ حسین رضا اور عبداللہ طاہر کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے سردار اکبر ڈوگر اور عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹس نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ نے درخواست گزاروں کو غیرقانونی طورپر نظربند کر رکھا ہے، ہائیکورٹ نے عبداللہ طاہر کی نظربندی کالعدم کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیا مگر دو دن بعد پرانے الزامات پر عبداللہ طاہر کی نظربندی کے دوبارہ احکامات جاری کر دیئے گئے ، وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ تمام درخواست گزاروں پر غیرانسانی سلوک کی جا رہا ہے، مزراعین کے رہنماء مہر عبدالستار کو ساہیوال جیل میں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کو اوکاڑہ جیل میں قید کیا گیا ہے ، مہر عبدالستار کے چہرے کو کپڑے سے مسلسل ڈھانپ کر رکھا جا تا ہے جبکہ اسے جیل میں بیڑیاں بھی لگائی گئی ہیں، انہوں نے بتایاکہ مزارعین کے رہنماپر غیرانسانی تشدد کے علاوہ کسی کو اس سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی، عدالت نے مزارعین کے رہنماء پر غیرانسانی تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات کو ہدایت کی اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ،عدالت نے درخواست گزاروں کی نظربندیوں پر بھی ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات سے 11 اگست تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...