الیکشن کمیشن میں ریفرنسوں کی ’’ان کیمرہ‘‘سماعت، وکلاء باہر آکر بتا دیتے ہیں

الیکشن کمیشن میں ریفرنسوں کی ’’ان کیمرہ‘‘سماعت، وکلاء باہر آکر بتا دیتے ...

  



تجزیہ :چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نوازشریف کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے دائر ریفرنسوں کی ابتدائی سماعت شروع ہو گئی۔اگرچہ یہ سماعت بند کمرے میں ہو رہی ہے۔ تاہم وکلاء حضرات کی مہربانی اور توجہ سے میڈیا تک کچھ کارروائی پہنچ جاتی ہے۔یہ تو پہلے ہی سے ظاہر تھا کہ یہ ابتدائی سماعت ہے جس میں کمیشن نے یہ طے کرنا ہے کہ یہ ریفرنس قابل سماعت بھی ہیں یا نہیں۔ اگرچہ دلائل بھی اسی نکتے پر لئے جا رہے ہیں، تاہم وکلاء حضرات میرٹ پر بھی بات کر جاتے ہیں اور اسی سے پتہ چلا ہے کہ سردار لطیف کھوسہ نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے دلائل دیئے جو قریباً میرٹ ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہرحال اس پر ہم بھی اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں کہ اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے گا، بات عدالت عظمیٰ تک جائے گی۔

ریفرنسوں کا حوالہ اس لئے دیا کہ یہاں پیپلزپارٹی قانونی جنگ میں مصروف ہے اور وزیراعظم کی ذات کو پاناما لیکس ہی کے حوالے سے نشانہ بنایا ہوا ہے۔ دوسری طرف قائد حزب اختلاف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق فریقین سے کہہ رہے ہیں کہ پاناما لیکس پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلا لیا جائے اور اس میں ٹی او آر کا فیصلہ کر لیں، متحدہ اپوزیشن کا موقف مختلف ہے اس لئے ابھی کوئی بات نہیں بنی۔ تیسری طرف سندھ میں رینجرز کے اختیارات اور قیام میں توسیع کا مسئلہ متنازعہ ہے۔ سندھ حکومت نے میعاد میں ایک سال اور اختیارات میں نوے روز کی توسیع کر دی لیکن وزارت داخلہ نے یہ سمری مسترد کر دی۔ یوں نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اور تنازعہ موجود ہے۔ حکومت سندھ اختیارات کراچی کی حد تک محدود اور وفاقی حکومت ان کو پورے سندھ پر پھیلانا چاہتی ہے، حکومت سندھ کے مشیر اطلاعات مولانا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ پورے سندھ تک وسعت دینے کا مطلب ہے کہ حکومت انپا وجود نہیں رکھتی۔ جبکہ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ صرف کراچی تک محدود کرنا، آپریشن کی ناکامی کے مترادف ہے۔ یوں یہ محاذ آرائی جاری ہے۔

نظر بظاہر یہ احساس ہوتاہے کہ ایک تو پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ سے بگاڑ نہیں چاہتی، دوسرے اعلیٰ قیادت محاذ آرائی سے بھی بچنا چاہتی ہے اسی لئے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تاہم تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے اعلان کردہ ایجی ٹیشن کی حمائت نہیں کی۔ اطلاع یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد نوازشریف اب بھی میثاق جمہوریت پر ممکن حد تک عمل کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن حکومت میں موجود عقاب نتائج و عواقب سے بے پرواہ محاذ آرائی کو پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی میں موجود عقاب بلاول بھٹو زرداری کا سہارا لے کر محاذ آرائی پر کمربستہ ہیں۔ سرکاری عقابوں کے خیال میں حکومت اور مسلم لیگ (ن) مضبوط اور عوام میں مقبول ہیں، اس لئے کوئی خطرہ نہیں اس لئے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے جبکہ وزیراعظم محمد نوازشریف ٹھنڈے مزاج سے معاملات حل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور چودھری نثار علی خان عقابوں کے سرخیل ہیں دوسری طرف پیپلزپارٹی کے ایوان میں موجود حضرات میثاق جمہوریت کے حوالے سے جمہوریت کی بقاء پر یقین رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ان میں سید خورشید شاہ اول حیثیت رکھتے ہیں جبکہ عبدالرحمان ملک بھی حکومت اور آصف علی زرداری کے درمیان پُل بنے ہوئے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی بھی نرم رو ہیں تاہم سردار لطیف کھوسہ، راجہ پرویز اشرف اور چودھری اعتزاز احسن عقابوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر دو طرف کے عقاب بہرحال جماعتی نظم و ضبط کے بھی پابند ہیں۔ البتہ اپنی سی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں حالات خلط ملط ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم کو خود بڑھ کر اقدام کرنا ہوں گے کہ ان کی بات سنی بھی جائے گی۔ یوں بھی بلی دیکھ کر کبوتر کی آنکھیں بند والے رویے سے گریز ہی بہتر ہے۔ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کا مقصد جمہوریت کے لئے خطرات میں اضافہ ہے۔

ادھر نئے حالات کے دوران حلقہ 125 کے لئے نادرا کی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی گئی۔بادی النظر میں یہ رپورٹ حلقہ 122 کی پہلی رپورٹ سے مماثلت رکھتی ہے جس کی بنا پر دوبارہ الیکشن کی آس لگائی جا رہی ہے۔ یہی حالات حلقہ این اے 154 کے ہیں دونوں حلقوں میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف بالترتیب فریق ہیں اور مماثلت اندیشہ پیدا کرتی ہے کہ یہاں بھی ری الیکشن ممکن ہے اگر حلقہ این اے 122جیسا سماں بندھ گیا تو حکمران جماعت کے لئے ایک صدمہ ہو گا۔

ہم نے ان سطور میں ایک سے زیادہ بار قومی اتفاق رائے کی ضرورت کا احساس دلایا۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری کو بڑھ کر مفاہمت کا اظہار کرنا ہوگا۔

ان کیمرہ سماعت

مزید : تجزیہ


loading...