اختیارات واپس لیکر محکمہ لیبر کو ناکارہ بنادیا گیا، شکایات بڑھ گئیں

اختیارات واپس لیکر محکمہ لیبر کو ناکارہ بنادیا گیا، شکایات بڑھ گئیں

  



لاہور(خبرنگار) ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ (ویٹ اینڈ میئرز) اور چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کے اختیارات واپس لینے پر محکمہ لیبر ایک قسم کا ادھورا ہو کر رہ گیا ہے۔ محکمہ لیبر کو کم سے کم اُجرت کے قانون اور فیکٹریوں کی انسپکشن تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے جس سے پٹرول پمپوں اور مارکیٹوں سمیت بازاروں میں ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کا عمل رُک کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح ویٹ اینڈ میئرز (ناپ تول) کے پیمانوں کی چیکنگ کے کام میں تعطل پیدا ہونے پر ٹارگٹ پورا نہیں ہو سکا ہے جس پر اعلیٰ حکام سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کے بعد اب چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کے اختیارات محکمہ لیبر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنروں کو دینے پر محکمہ لیبر ایک قسم کا ادھورا ہو کر رہ گیا ہے اور محکمہ لیبر کے افسران دفاتر میں محض حاضریاں لگا کر گپ شپ کے بعد دفاتر کے اوقات ختم ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ محکمہ لیبر کے ذرائع کے مطابق محکمہ لیبر سے پہلے ویٹ اینڈ میئرز (ناپ تول) کے اختیارات واپس لیے گئے جو کہ محکمہ انڈسٹریز کو دئیے گئے جس سے مارکیٹوں، بازاروں اور پٹرول پمپوں پر ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کا کام ایک قسم کا رُک کر رہ گیا ہے اور پٹرول پمپوں پر ناپ تول کے پیمانوں میں گڑ بڑ کر کے لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مارکیٹوں اور بازاروں میں ناپ تول کے پیمانوں میں گڑ بڑ کی شکایات نے پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، اس میں ناپ تول کے پیمانوں پر کنٹرول تو الگ بات ویٹ اینڈ میئرز کے لئے دیا گیا ٹاسک بھی پورا نہیں کیا جا سکا ہے۔ اب محکمہ لیبر سے چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کے اختیارات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق چائلڈ لیبر کے خلاف محکمہ لیبر کی بجائے کمشنروں، ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کو اختیارات دے دئیے گئے ہیں جس میں کمشنروں اور ی سی اوز کی نگرانی میں اسسٹنٹ کمشنرز چائلڈ لیبر کے خلاف چھاپے ماریں گے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر ایکٹ کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب چائلڈ لیبر ایکٹ کی جگہ چائلڈ لیبر آرڈیننس 2016ء کے تحت کارروائی ہو گی جس میں محکمہ لیبر ایک قسم کا ناکارہ اور ادھورا ہو کر رہ گیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ لیبر کے بعض افسروں کا کہنا ہے کہ ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کے اختیارات واپس لینے سے ٹاسک اور ٹارگٹ پورا نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کے اختیارات واپس لینے سے محکمہ لیبر ایک قسم کا ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے۔ محکمہ لیبر کی سالوں سے ناپ تول اور چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اس پر وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینا چاہیے جبکہ ضلعی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر میں محکمہ لیبر کی ٹیمیں بھی ساتھ ہوں گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...