چودھری نثار نے سارک کانفرنس میں جدوجہد آزادی اور دہشتگردی کا فرق واضح کر دیا

چودھری نثار نے سارک کانفرنس میں جدوجہد آزادی اور دہشتگردی کا فرق واضح کر دیا

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  ہمارے ایک دوست نئے نئے امریکہ گئے تو ظاہر ہے امریکی معاشرت کے آداب نشست و برخاست سے واقف نہ تھے۔ شروع شروع میں ایک گیس سٹیشن پر ملازمت ملی، تو وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کئے اپنے کام میں مست رہتے۔ گاہک کی گاڑی میں پٹرول ڈالا یا خودکار پمپ پر ایڈجسٹمنٹ کی، پیسے وصول کئے اور اپنے کام میں لگ گئے۔ ایک خاتون نے جو اس پمپ کی باقاعدہ گاہک تھی، مالک سے یہ شکایت کی کہ فلاں سیلز مین پیسے وصول کرکے نہ تو ’’تھینک یو‘‘ کہتا ہے اور نہ چہرے پر ’’سمائل‘‘ ہی لاتا ہے۔ مالک نے بلا کر سیلز مین کو سمجھا دیا کہ ہر وقت چہرے پر سنجیدگی طاری مت رکھا کرو گاہکوں کے ساتھ مسکرایا بھی کرو، اتفاق سے انہی دنوں امریکہ میں نائن الیون ہوگیا۔ ایک گاہک نے پمپ سے پٹرول ڈلوایا اور جاتے ہوئے نائن الیون کی دہشت گردی کے حوالے سے کوئی ایسی بات کردی جو ہمارے اس دوست کو سمجھ تو نہ آئی لیکن اسے مالک کا کہا یاد تھا جس نے اسے کبھی کبھی مسکرانے کیلئے کہا تھا سو اس نصیحت کو یاد کرکے وہ تھوڑا سا مسکرا دیئے، نائن الیون کے ذکر پر امریکی کو یہ ہنسی زہر لگی اور اس نے پولیس کو فون کردیا کہ فلاں پمپ پر ایک سیلز مین ایسا ہے جس کا کردار مجھے مشتبہ لگتا ہے۔ اس کے جاتے ہی پولیس آئی اور ہمارے اس دوست کو تفتیش کیلئے ساتھ لے گئی۔ تفتیش میں وہ معصوم نظر آئے تو دوران تفتیش پوچھا کہ تم ’’نائن الیون‘‘ کے تذکرے پر مسکرائے کیوں تھے تو انہوں نے خاتون کی شکایت کی کہانی اور اپنے مالک کی نصیحت کا تذکرہ کردیا اور کہا کہ انہوں نے سمجھے بغیر زبردستی مسکرانے کی کوشش کی تھی۔ پولیس سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی اور تھوڑی دیر میں خود ہی اسے گیس سٹیشن پر چھوڑ گئی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اس تجزیئے کے شروع میں اس واقعے کے بیان کی کیا تُک ہے تو عرض یہ ہے کہ یہ واقعہ ہمیں چودھری نثار علی خان کی سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تقریر پر بھارتی میڈیا کے تبصروں سے یاد آیا۔ ہوا یوں کہ بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے سارک کانفرنس میں جو تقریر کی تو ممبئی دہشت گردی اور پٹھان کوٹ حملے کا تذکرہ لے بیٹھے۔ چودھری نثار علی خان اس پر کہاں چپ رہنے والے تھے، ان کو تو یہاں ان کے سیاسی مخالفین عقاب کے نام سے یاد کرتے ہیں اور چودھری اعتزاز احسن تو ان سے خصوصی اظہار محبت کرتے رہتے ہیں جو اپنے پاکستانی مخالفین کے نزدیک عقاب ہو، وہ بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کے اس حصے کو آسانی سے کیسے ہضم کرسکتا تھا جبکہ بھارت نے آج تک ممبئی دہشت گردی کے سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت پاکستان کے حوالے نہیں کئے۔ پٹھان کوٹ کے بارے میں تو خود بھارتی مان چکے ہیں کہ اس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں۔ چودھری نثار نے جب اس کا جواب دیا تو راج ناتھ سنگھ کانفرنس ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ بھارتی میڈیا نے اس حوالے سے چودھری نثار علی خان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پہلے تو کہا کہ راج ناتھ کی تقریر ٹی وی چینلوں سے نشر نہیں کی گئی جبکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر سربراہ اجلاسوں کی تقریر براہ راست نشر ہوتی ہے۔ وزراء کے اجلاس میں کی جانے والی تقریریں براہ راست نشر نہیں ہوتیں۔ پھر جب بھارتی میڈیا کے لال بجھکڑوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بھی تقریر براہ راست نشر نہیں ہوئی تو یہ کہنا شروع ہوگئے کہ چودھری نثار علی خان نے تو راج ناتھ سے مصافحہ ہی بڑی مشکل سے کیا تھا اس میں کوئی گرمجوشی سرے سے نہیں تھی اور ایسا کرتے وقت ان کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ بھی نہیں تھی، جبکہ چودھری نثار علی کے تروتازہ چہرے پر تو مسکراہٹ ہر وقت رہتی ہے۔ راج ناتھ کی آمد سے پہلے بھارتی دفتر خارجہ نے خاص طور پر یہ کہا تھا کہ وہ کانفرنس کی سائیڈ لائن پر پاکستانی وزیر داخلہ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ اگر یہ ملاقات طے نہیں ہوئی تھی تو چودھری نثار علی کون سے ایسی ملاقاتوں کیلئے مرے جا رہے تھے۔ سارک کے اجلاس میں چودھری نثار علی خان نے اپنی لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ کر اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وحشت کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ جدوجہد آزادی اور دہشت گردی میں فرق ہے اور کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں پر تشدد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے نام لئے بغیر کشمیر میں بھارتی مظالم کو دہشت گردی قرار دیا۔ چودھری نثار نے بعدازاں پریس کانفرنس بھی کردی جس میں راج ناتھ کو کھری کھری سنا دیں۔ سارک کانفرنس میں تین اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہو رہا تھا جن میں دہشت گردی کے علاوہ انسانی سمگلنگ بھی شامل ہے۔ سارک کے دوسرے رکن ممالک نیپال اور سری لنکا سے لڑکیوں کو اغوا کرکے بھارت پہنچایا جاتا ہے۔ راج ناتھ کو خدشہ تھا کہ اس حوالے سے بھارت کے کردار کو ہدف تنقید بنایا جائے گا، اس لئے انہوں نے چودھری نثار کے خطاب کو بہانہ بناکر کانفرنس سے کھسک جانے ہی میں عافیت سمجھی۔ بنگلہ دیش بھی سارک کانفرنس کا رکن ہے لیکن کانفرنس میں اس کی نمائندگی نہیں تھی۔ راج ناتھ جس طرح کانفرنس کے آخری سیشن کو چھوڑ کر رخصت ہوئے اس نے سارک تنظیم کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

جدوجہد آزادی اور دہشت گردی

مزید : تجزیہ


loading...