شراب کی سمگلنگ میں ملوث کمپنی سن بانڈ وئیر کیخلاف مقدمہ درج، مالک فرار، لائسنس منسوخی کا نوٹس جاری

شراب کی سمگلنگ میں ملوث کمپنی سن بانڈ وئیر کیخلاف مقدمہ درج، مالک فرار، ...

  



لاہور( سپیشل رپورٹر) وزیر خزانہ اسحق ڈار کی ہدایت پر غیر ملکی شراب کی سمگلنگ کا دھندہ کرنیوالی کمپنی سن ڈپلومیٹک بانڈ ویئر کیخلاف کلکٹرکسٹمز اسلام آباد نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ غیر قانونی دھندہ کرنیوالی کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے کیلئے شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ مکروہ دھندے کاسرغنہ عامر ملک پاکستان سے فرار ہوگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان نے رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ اشتیاق احمد اور طاہر محمود ترین ایف بی حکام حکام کو دھوکہ دیا کہ ہم غیر مسلم (قادیانی ) ہیں اور غیر مسلموں کے کوٹے سے شراب برآمد کرنے کا لائسنس حاصل کرلیا اور بعد ازاں ایف بی آرکے نچلی سطح کے اہلکاروں کو ساتھ ملا کر ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی پہنچایا ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس نشاندہی کے بعد اس غیر قانونی دھندے کو روکنے اور ملزمان کیخلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا چنانچہ کلکٹرکسٹمز اسلام آباد نے گزشتہ روز ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد کمپنی کو سیل کردیا اور لائسنس کی منسوخی کیلئے شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے البتہ ایف بی آر کے اہلکاروں کی طرف سے بروقت مخبری ہونے پر اس دھندے کا مرکزی سرغنہ عامر ملک پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ناقابل تردید سرکاری دستاویزات کے مطابق سن بانڈڈ ویئر نامی کمپنی غیر ملکی شراب کی سمگلنگ کا دھندہ کئی سالوں سے کررہی تھی اس فرم نے وزارت کامرس کے ایس او آر کا سہارا لے کر اربوں روپے کی قیمتی شراب کی کم قیمت ظاہر کر رہے اسلام آباد ڈرائی پورٹ سے کھیپ کلیئر کر دی ہے۔ یہ فرم پاکستان میں قیمتی شراب ٹیچر، جونی واکر، ریڈ لیبل،ہیج اینڈ بٹلر، مرچنٹ بلنڈ، سکاچ وسکی، ہائی لینڈ کوین، ہائی لینڈ بریز وائٹ میکے، کاٹوز وسکی وغیرہ شراب قیمتی برانڈ درآمد کرنے میں مصروف ہے۔ سن ڈپلومیٹک فرم نے شراب کے ان قیمتی برانڈ کی (12 times)کم قیمت ظاہر کر کے اربوں کی شراب ڈرائی پورٹ سے کلیئر کرانے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس بھاری کرپشن میں کسٹم کے اعلی حکام بھی ملوث ہیں جن کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ وزارت کامرس کی طرف سے دیئے گئے اجازت نامہ کے برعکس فرم نے 11دفعہ زائد کھیپ درآمد کر کے شراب فروخت کر رہی ہے۔ سن ڈپلومیٹک نامی فرم نے وزارت کامرس کے ایس آر او566/2005کا سہارا لیکر شراب درآمد کی تھی ۔ اس قانون کے تحت اگر مقرر ہ مقدار سے زائد درآمد کی جائے تو اس جرم کو سمگلنگ قرار دیا گیا ہے جس کی ایک مجرم ایکٹ کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ذمہ داری کسٹم حکام کی بھی ہے کہ آیا کہ فرم اجازت نامہ کے تحت دی گئی مقدار کے تحت ہی شراب درآمد کر رہی ہے یا مقررہ حد سے زیادہ شراب درآمد کر نے میں مصروف ہے ۔ لیکن کسٹم حکام نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں شراب کی کھپت میں2012ء سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کسٹم کے اپنے ریکارڈ کے مطابق 2007ء میں 1.614 ملین کی شراب درآمد کی تھی جبکہ2013ء میں 22.13ملین روپے کی شراب درآمد کی گئی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق2007ء میں وسکی کی ایک لیٹر کی قیمت 235ء جبکہ2013ء میں 77182 روپے قیمت ہے۔ ریکارڈ کے مطابق کسٹم حکام نے سن ڈپلومیٹک کو ایک لیٹر وسکی کی قیمت100روپے قرار دے کر اربوں روپے کی ملین بوتلیں کلیئر کر دی تھی ۔ جس سے قومی خزانہ کو بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق سن ڈپلومیٹک کمپنی کی اپنی قیمتوں کی لسٹ کے مطابق وسکی کی قیمت ایک لیٹر18ڈالر بتائی گئی ہے اب تک تحقیقات کے نتیجہ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سن ڈپلومیٹک نے شراب کی سمگلنگ کے ذریعے قومی خزانہ کو 400ملین روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...