پاکستان کی بقاء اور سلامتی ہمارا قومی ایجنڈا اور بنیادی نقطہ نظر ہے: گورنر پنجاب

پاکستان کی بقاء اور سلامتی ہمارا قومی ایجنڈا اور بنیادی نقطہ نظر ہے: گورنر ...

  



لاہور( نمائندہ خصوصی) گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی ہمارا قومی ایجنڈا اور بنیادی نقطہ نظرہے، ارباب اقتدار، اپوزیشن اور علم و دانش کے وارثوں کی پہلی ترجیح صرف اور صرف مستحکم پاکستان ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں بلا شبہ اختلافات اس کا حسن ہوتے ہیں لیکن قوم اورملک کے مفاد کو ہمیں سیاست کی بھنیٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ تاریخ کی حقیقتوں اور اس کے اسباق سے آشنائی نئی نسل کا حق ہے جو ہم نے ان کو دینا ہے، الطاف حسن قریشی کی یہ کتاب بلاشبہ آنے والی نسل کے لیے بیش بہا معلومات کا خزانہ ثابت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس لاہور میں معروف صحافی تجزیہ نگار اور دانشور الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا ‘‘ کی تقریب پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی اور سعید آسی نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں صوبائی وزیر ذکیہ شاہ نواز ، صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، علم وادب ، قانون اور صحافت سے وابستہ شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔گورنر پنجاب نے کہا کہ ادیب اور قلم کار ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے عوام کی ذہنی آبیاری اور شعور کے نئے دریچے کھولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ہر سطح پر تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ میں آج ایک ایسی کتاب کی تقریب رونمائی میں موجود ہوں جو اپنے اندر تاریخ کا ایک بیش بہا خزانہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا نوجوان نسل جو اپنے ماضی سے کٹی ہوئی ہے اس کے لیے یہ کتاب تاریخ کا ایک جیتا جاگتا باب ہے ۔یہ محض انٹرویو ز ہی نہیں بلکہ یہ وہ ادوار ہیں جن کے مطالعہ اور مشاہدہ کی آج کی نسل کو اشد ضرورت ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں اس کتاب کا نام ’’شخصیتیں کیا کیا ‘‘ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسن قریشی نے گزشتہ نصف صدی یزائد ہماری ایک نہیں بلکہ تین نسلوں کی ذہنی آیاری کی ہے۔وہ ایک بے باک صحافی‘ تجزیہ کار اور انٹرویو نگار کی حیثیت سے اور سول اور فوجی اداروں میں بیک وقت بڑے مقبول ہیں۔شعبہ صحافت میں ان کی خدمات شاندار اور لازوال ہیں۔ وہ باتوں ہی باتوں میں تاریخ کے راز ہائے سر بستہ معلوم کرنے اور دقیق مسائل پر مکالمے کو تخلیقی اور عام فہم انداز میں آگے بڑھانے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحافی حضرات حقائق تک پہنچنے کے لیے کیسی کیسی جدوجہداور صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اس کا اندازہ اس کتاب کے مطالعے سے بخوبی ہوتا ہے ،اُن کا سلاسل و زنداں کے مراحل سے گزرنا مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خاں اور آغا شورش کاشمیری کی عظیم الشان قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی تجزیہ نگار، مدیر اور دانشور الطاف حسن قریشی نے اپنے ابتدائی کلمات میں نظریہ پاکستان اور بقائے پاکستان کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں قومی اور بین الاقوامی شخصیات کے انٹرویوز ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز ہیں جس کا مطالعہ نئی نسل کے لئے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ سے آگاہی کے لئے ارباب اقدار اور علم و دانش کے وارثوں کو اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ فرائض ادا کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میری پوری صحافتی زندگی کا نقطہ نظر حق کی آواز کو بلند کرنا اور سچائی کی آبیاری کرنا ہے۔ ر روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ فخر ہے کہ میں نے الطاف حسن قریشی جیسی عظیم شخصیت کے زیر سایہ میدان صحافت میں قدم رکھا ۔ ان کی شخصیت اور ان کی صحافت کے میدان میں قربانیاں اور کاوشیں نہ صرف تاریخ صحافت کا سنہرا باب ہیں بلکہ اس حوالے سے پاکستان میں کوئی اخبار نویس ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان کی تحریروں نے صحافت ،سیاست اور سماج کو بڑی خوش اسلوبی سے متاثر کیا جو قاری کے دل و دماغ میں حکومت کرتی نظر آتی ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹراور کالم نگار سعید آسی نے اپنے تفصیلی مقالے میں اس بات کا اعتراف کیا کہ الطاف حسن قریشی میدان صحافت کے وہ شہسوار ہیں جس کے ثانی کم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے قلم و قرطاس کی آبرو کے لیے بے پناہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور حق و سچ کے پرچم کو قلم کے زور پر اٹھائے رکھا۔اس موقع پر نامور قانون دان ایس ایم ظفر ،پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران، مشہور صحافی اور تجزیہ نگار سجاد میر،معروف کالم نگار صغرا صدف اور ایقان حسن قریشی نے بھی اپنے خطاب میں الطاف حسن قریشی کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

گورنر پنجاب

مزید : صفحہ آخر


loading...