زندگی کا منفرد اور یاد گار سفر

زندگی کا منفرد اور یاد گار سفر
زندگی کا منفرد اور یاد گار سفر

  



حجازِ مقدس کے سفر کی بار بار خواہش اور حاصل ہو جانے پر شُکر زندگی کا سرمایہ حیات ہے۔ آج کا کالم خود نمائی کے لئے ہر گز نہیں البتہ ایمان کی تازگی اور شکرانے کا اظہار ضرور ہے۔ رب کریم کا شُکر کیوں نہ کیا جائے جس نے میرے جیسے گم نام کم ذات اور بے اوقات کو نام دیا، مقام دیا اور حرمین شریفین میں بار بار حاضری کا موقع فراہم کیا۔ 1992ء میں جب مَیں پنجاب یونیورسٹی میں سال دوم کا طالب علم تھا میرے رب کریم نے پہلی بارمجھے پورا رمضان کریم حرمین شریفین میں گزارنے کا موقع فراہم کیا اور اُسی سال حج کی سعادت بھی دی۔ 24برسوں میں درجنوں بار اللہ نے میرے اور میری فیملی پر کرم کیا،جس کا مَیں دن رات سجدے میں گر کر شُکر کرتا رہوں تو نہیں کر سکتا، بار بار حجازِ مقدس جانے کے باوجود بعض معاملات میں تشنگی باقی تھی، جس کے لئے ہر بار ہاتھ اٹھاتا تھا یااللہ تُو نے توحید پرست خاندان کے گھر پیدا کیا اس میں میرا کوئی کمال نہیں، جس کے صدقے تُو نے یہ دُنیا بنائی، دو جہانوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ کے ہاں حاضری کی توفیق عطا فرما۔ اللہ کے نبی کا بچپن جہاں گزرا وہاں ایک دفعہ لے جا۔ چند سال پہلے بہت ہی قابل احترام بڑے بھائی اور ’’جنگ گروپ‘‘ کے اطہر مسعود کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی ان کی حضرت بی بی آمنہؓ کے ہاں جانے کی تڑپ نے مجھے متاثر کیا۔ اطہر مسعود تمام مشکل مراحل طے کر کے وہاں حاضری دینے میں کامیاب رہے۔ پانچ یا چھ سال پہلے کا یہ واقعہ اطہر مسعود بھائی نے وہاں جانے، وہاں کی روحانیت اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ کے حوالے سے ارشادات سنائے تو وہاں جانے کی تڑپ اور بڑھ گئی، مگر ہر سال کی بار حاضری کے باوجود مقام بدر، حضرت بی بی آمنہؓ، حضرت بی بی حلیمہ سعدیہؓ طائف کی آبادیاں جہاں اللہ کے نبی ؐبکریاں چرایا کرتے تھے، وہاں جانے کا جنون برقرار رہا۔ جولائی 2016ء کا آخری عشرہ میری زندگی کا انمول تحفہ ثابت ہوا میری بیگم نے جو مجھ سے بھی زیادہ دینی لگاؤ کی خوگر ہیں اِن مقدس زیارات سے محرومی کا گلہ کیا جو سو فیصد بجا ہے، مگر نہ تو مجھے اپنی قسمت پر ناز ہے اور نہ مجھے اپنے نیک ہونے پر فخر ہے، مجھ جیسے گنہگار پر اتنا کرم۔ یہ سب میرے ربِ کریم کی عنایت ہے، کیونکہ مَیں نے کبھی کسی کا بُرا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے رب سے مانگا ہے۔

زندگی کا منفرد اور حسین یاد گار سفر بنانے میں اہم کردار ہمارے بابا جی محترم الحاج مشاق چٹھہ صاحب کا ہے اللہ نے اُنہیں جتنا نوازا ہے اتنا بڑا دِل بھی دیا ہے۔ مشتاق چٹھہ صاحب سے ہمارا پاکیزہ رشتہ حرمین شریفین کا ہے۔ بابا جی مشتاق چٹھہ سعودی کمپنی نبراس کے پاکستان میں کرتا دھرتا ہیں چٹھہ گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو ہیں نیلم ٹریول اور کاروانِ عرفات کے مالک ہیں۔ سعودیہ میں دو درجن لگژری بسوں اور کئی ہوٹلوں کے مالک ہونے کے باوجود انتہائی سادہ اور درویش صفت کے مالک ہیں۔ میرے پیارے ناظم شیخ مشتاق فرام فیصل آباد، الحاج جاوید اختر، الحاج علی عمران، الحاج جاوید اقبال شیخ نے جب مکہ سے مدینہ روانگی سے پہلے اپنے امیر سفر محترم بابا جی مشتاق چٹھہ کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کیا ممکن ہے کہ ہم مکہ سے مدینہ کا سفر براستہ بدر کریں اور اگر ممکن ہو تو حضرت بی بی آمنہؓ کے ہاں حاضری ہو جائے۔ بابا جی نے دوستوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے رضا مندی کا اظہار کیا تو سب خوشی سے جھوم اُٹھے۔ بابا جی کو دُعائیں دینے لگے آج ان کی زندگی کی بڑی خواہش پوری ہونے جا رہی تھی۔ حضرت بی بی آمنہؓ کی قبر مبارک پر جانے کی مشکلات سے محترم اطہر مسعود چھ سال پہلے آگاہ کر چکے تھے، میرے سامنے وہ نقشہ موجود تھا۔ محترم چٹھہ صاحب کے ڈرائیور محترم حاجی اشرف صاحب جو عرصہ سے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا فریضہ بطور ڈرائیور انجام دیتے چلے آ رہے ہیں، کئی بار خود حضرت بی بی آمنہؓ، مقام بدر اور دیگر مقامات پر حاضری دے چکے ہیں ان کے لئے یہ علاقے ازبر تھے۔ اشرف صاحب نے چٹھہ صاحب سے رضا مندی لی اور نکل پڑے۔ مکہ سے مدینہ کا سفر ویسے ہی روحانیت کا سفر ہے۔ مکہ مدینہ پرانے روڈ پر نکلے تو بتایا گیا یہ عبداللہ سٹی جو نیا شہر آباد ہو رہا ہے پھر سعودیہ کے مین بجلی گھر اور سمندر کے حوالے سے معلومات حاصل ہوئیں اور پھر مین روڈ سے لنک روڈ پر مڑتے ہی چٹھہ صاحب نے فرمایا اب ہم حضرت بی بی آمنہؓ کے ہاں حاضری دیں گے،ہم آپ کو مین روڈ پر اُتار دیں گے آپ اوپر پہاڑی پر جائیں گے اور تھوڑی دیر بعد ہم وہیں پر آپ کو لے لیں گے ہم رُکیں گے نہیں، کیونکہ بڑی سختی ہے گاڑی والوں کے کاغذات لے لئے جاتے ہیں پھر ان کا خروج کر دیا جاتا ہے پھر ہمیں اتار دیا گیا۔ ہمارے ساتھی جاوید اختر جو ہدیہ نعت پیش کرنے میں بھی منفرد مقام رکھتے ہیں ان کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے اور سب سے پہلے پہاڑی پر چڑھنے لگے۔ جاوید شیخ میرے ساتھ تھے، علی عمران اور شیخ مشتاق بھی ہمسفر تھے۔ پہاڑ پر پہنچے تو پہاڑ کی چوٹی پر ایک نشان بنایا گیا تھا جس پر کچھ تحریر نہ تھا۔ جاوید اختر اور مَیں ساتھیوں سمیت پتھروں پر بیٹھ گئے اور ذہنوں میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشے تازہ کرنے لگے، ابھی ہم یاد تازہ کر ہے تھے ایک گاڑی مین روڈ پر رُکی اور ایک عربی ہاتھ میں کتابیں لئے ہوئے اوپر چڑھ آیا اُس نے آ کے ہمیں بتایا کہ حضرت بی بی آمنہؓ کی قبر کہاں ہے اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، پھر اُس نے سیرت رسولؐ کے گوشے بیان کئے اور ایک ایک کو کتاب پیش کی اور ہر ایک سے سوال کیا۔ آپ کو کون لایا ہے، کس گاڑی سے آئے ہیں ، آپ کا تعلق پاکستان میں کس جماعت سے ہے یہ پوچھنے کے بعد وہاں سے چل دیا۔ قریب ایک بستی آباد کی گئی ہے جس کے ساتھ ایک خوبصورت مسجد موجود ہے، ساتھ ہی بکریوں کا ایک باڑہ بنایا گیا ہے وہاں نماز ادا کی تو اندازہ ہوا کہ چند ماہ میں پہاڑوں کے درمیان بے آباد علاقے میں نئی بستی دراصل حکومت نے اپنے اہلکاروں کے لئے بنائی ہے جو ہر آنے جانے والے کی خبر رکھتے ہیں، ہم نے نماز ادا کی اور اللہ کا شکر ادا کیا اور اور بابا جی کی گاڑی میں مقام بدر کی طرف بڑھ گئے۔ مقام بدر بھی ایک داستانِ عظیم ہے جنگِ بدر کا مقام ایک خوبصورت شہر کی شکل میں موجود ہے۔313صحابہ نے ایک ہزار کا مقابلہ کیسے کیا، صحابہ کے مشورے پر اللہ کے نبیؐ نے کنوئیں کے قریب کیسے پڑاؤ کیا،کنویں سمیت تمام تاریخی مقامات موجود ہیں، تمام مقاماتِ مقدسہ کو دیکھنے، ایمان تازہ کرنے کا موقع میسر آیا پھر بابا جی ہمیں اُس مقام پر لے گئے جہاں مدینہ سے نکلنے کے بعد اللہ کے نبی نے 313 صحابہ کے ساتھ پڑاؤ کیا تھا اور نمکین کنوئیں کو میٹھا کیا تھا۔ اس کنوئیں سے پانی پیا اور پانی کی بوتلوں میں بھرا، رات گئے مدینہ منورہ پہنچے، زندگی کے منفرد اور حسین لمحات ختم نہیں ہوئے۔ مدینہ سے واپس مکہ آئے تو عمرہ کی ادائیگی کے بعد بابا جی نے پوچھا اب کیا پروگرام ہے طائف جانے کی درخواست کی تو اشرف صاحب پھر حاضر تھے، خوبصورت طائف شہر پہنچے جسے دُنیا کی خوبصورت سیر گاہ بنا دیا گیا ہے دُنیا کی سب سے بڑی اور لمبی میلوں پر محیط چیئر لفٹ سے سجا دیا گیا ہے طائف کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی جامعہ مسجد میں نمازِ عصر ادا کی اور پھر دور تک پھیلے پہاڑوں کے درمیان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کرنے والی اماں دائی حلیمہؓ کے گھر پہنچ گئے وہاں بھی عجیب روحانیت دیکھنے کو ملی۔ چار فٹ چوڑے، چھ فٹ لمبے ان کے پتھروں سے بنے گھر میں دو رکعت نوافل ادا کئے تو اچانک بارانِ رحمت شروع ہو گئی۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن کی یادیں لئے ہوئے بارش میں واپس ہوئے تو پہاڑوں پر بکریوں کے ریوڑ موجود تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکریاں چرانے کی سنت کو تازہ کر رہے تھے۔ واپسی پر طائف شہر میں پھر نماز ادا کی اور طائف کی خوبصورت فروٹ منڈی سے استفادہ کیا۔ طائف نے جہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دُکھ دینے میں تاریخ رقم کی وہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی ریکارڈ بنایا ہے اللہ کے نبی کو تکلیفیں پہنچانے والے بعد میں جانثار ساتھی بنے، جس کے بعد اللہ نے طائف کو بے شمار نعمتوں سے نوازا، جس کی بدولت آج بھی پھلوں کا شہر اور ٹھنڈا شہر قرار دیا جاتا ہے۔ رات گئے مکہ واپس آئے تو خوشی سے نہال اظہارِ تشکر کے لئے طواف کی سعادت حاصل کی اور اللہ سے اس عظیم سفر کی قبولیت کی درخواست کی اور حرمین شریفین کے سفر کی بار بار سعادت کی دُعا کی، اللہ ہمارے ہر عمل کو قبول فرمائے اور ایک دوسرے کا بازو بنائے اور ہم سے راضی ہو جائے۔ آمین

مزید : کالم


loading...