جدید ٹیکنالوجی کے باوجود فرسودہ نظام رائج ‘ دھکے مقدر ہیں ‘ پنشنرز

جدید ٹیکنالوجی کے باوجود فرسودہ نظام رائج ‘ دھکے مقدر ہیں ‘ پنشنرز

  



ملتان(جنرل رپورٹر)ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو سمیٹ دیا ‘ یورپ ہو یا عرب ممالک ہر جگہ سے رقم منگوانا منٹوں میں ممکن ہوگیا ہے لیکن پاکستان میں آج بھی پنشنر ز کے لئے انگریزوں والا فرسودہ نظام رائج ہے مہینے بعد چند ہزار لینے کے لئے گھنٹوں لائنوں میں لگنا پڑتا ہے اس بارے ’’پاکستان ‘‘سروے (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

میں گفتگو کرتے ہوئے جی پی او میں پنشن لینے کے لئے آنے والے ریٹائر سرکاری ملازم 65سالہ محمد صدیق کہنا تھا کہ ساری عمرسرکارکی خدمت کی ‘بڑھاپے میں آکر خدمت کا صلہ دھکوں میں مل رہا ہے ‘میری ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کے باعث چلنا تو دوربیٹھنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے لیکن پنشن کے لئے ہر ماہ جی پی او آکر گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے ‘بچوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ موٹرسائیکل پر لے آئیں اس لئے رکشہ کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے حساس ادارے کے سابق ملازم عبداللہ کاکہنا تھا کہ میں دھکے کھانے کے ڈرکی وجہ سے 3‘3ماہ بعد پنشن لینے آتا ہوں کیونکہ اتنی سکت نہیں کہ گھنٹوں انتظار کرسکوں خاتون شاہدہ بی بی کا کہناتھا کہ میرا خاوند محکمہ انہار میں ملازم تھا جو وفات پاچکا ہے بچوں کو پالنے کے لئے پنشن سہارا ہے لیکن یہاں آنے کے لئے 3کلومیٹر کا سفر پیدل کرکے آتی ہوں کیونکہ7ہزار پنشن میں سے اگر رکشہ کا کرایہ لگالوں تو بچوں کو روٹی کہاں سے کھلاؤں گی پنشنرز اللہ ڈتہ‘ رفیق‘ زاہد‘ شبیر‘ نواز‘ حفیظ ودیگر نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ پنشنرز کے اکاؤنٹ کھول کر انہیں اے ٹی ایم کارڈز بنا کردےئے جائیں جہاں بغیر کٹوتی انہیں پنشن مل سکے اور ہر ماہ دھکے کھانے سے نجات حاصل ہو۔

پنشنرز

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...