لودھراں‘ شاہدہ ڈلیوری کیس‘ گیلے وال کی جٹ گدارہ برادری سراپا احتجاج بن گئی

لودھراں‘ شاہدہ ڈلیوری کیس‘ گیلے وال کی جٹ گدارہ برادری سراپا احتجاج بن گئی

  



لودھر اں (بیورونیوز)شاہدہ بی بی ڈلیوری قتل کیس سکینڈل گیلے وال کی جٹ گدارہ برادری سراپا احتجاج بن گئی زمینداروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیل کردی گئی تفصیل (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

کے مطابق 31سالہ شاہدہ بی بی جس کی موت رشید سرجیکل ہسپتال میں دوران ڈلیوری ڈاکٹروں ، ڈاکٹر رشید یزدانی ، ڈاکٹر شہناز رشید یزدانی ، انتھیزیا سپیشلسٹ ڈاکٹر سلیم اور اعجاز باجوہ ماشکی جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا ہے حالانکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال لودھراں میں بطور ماشکی ملازم ہے کی لاپرواہی اور آکسیجن نہ دئیے جانے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ جیسے ہی مرحومہ کے سسرال اور میکے کو اس موت کے بارے میں حقائق سامنے آگئے تو مرحومہ کا خاندان جن کا تعلق جٹ گدارہ برادری سے ہے وہ برادری سراپا احتجاج بن گئی اور برادری کی میٹنگ کے دوران انہوں نے فیصلہ کیا کہ محکمہ ہیلتھ کے ارباب اختیار اور ڈی پی او لودھراں سے ملاقات کرکے شاہدہ بی بی کی ناگہانی موت کے بارے میں معلومات بتائی جائیں اور ڈی پی او سے اپیل کی جائے کہ مرتکب افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے ملوث نااہل ڈاکٹروں سمیت دیگر عملہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی جائے گی اس کے لیے جٹ گدارہ برادری کا معززین پر مشتمل وفد مرحومہ کے شوہر ابوبکر اور رشتہ دار محمد سلیم سمیت دیگر افراد ڈی پی او سے اگلے دو روز میں ملاقات کرکے حقائق بتائیں گے جبکہ ابوبکر کی درخواست پر تھانہ سٹی کے ایس ایچ او نے ڈی ایس پی لیگ کے پاس لیگل رائے کے لیے درخواست روانہ کردی ہے رشید سرجیکل ہسپتال میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں مزید انکشافات بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق انجمن تاجران گیلے وال کے صدر حاجی حبیب احمد اپنی بہو زچگی کی تکلیف کے باعث رشید سرجیکل ہسپتال لائے تو ڈاکٹر شہناز رشید یزدانی سمیت دیگر عملہ نے کہا کہ تیس ہزار روپے جمع کرا دیں خاتون کا بڑا آپریشن کیا جائے گا ۔ بحث مباحثہ کے بعد بارہ ہزار روپے طے ہوگئے جب ڈاکٹر شہنا ز رشید اپنے کمرے سے باہر نکلی تو ڈلیوری نارمل ہوگئی اور بچہ خیریت سے پیدا ہوگیا لیکن ہسپتال والوں نے پھر بھی لڑ جھگڑ کر ہزاروں روپے لے کر مریضہ کو گھر جانے دیا شاہدہ بی بی کے ورثاء کسی بھی قیمت پر راضی نامہ پر ر اضی نہیں ہونا چاہتے جس کی وجہ سے ان لوگوں نے پریس کلب لاہور میں پریس کانفرنس اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے کا پروگرام بنا چکے ہیں او ر اگلے 48گھنٹوں میں لاہور ہونگے جب کہ اسی دوران متاثرین شاہدہ بی بی چیف منسٹر ہاؤس 8کلب کے سامنے اور پنجاب ہیلتھ کلےئر کمیشن کے سامنے بھی احتجاج مظاہرہ کریں گے اور مرحومہ شاہدہ بی بی کے شوہر اور معصوم بچے چیف جسٹس آف پنجاب ہائی کورٹ لاہور کے دفتر کے سامنے بھی احتجاج کریں گے اور علامتی بھوک دھرنا بھی دیں گے اس کے لیے شاہدہ بی بی کے ورثا کی بڑی تعداد لاہور روانہ ہوچکی ہے مرحومہ کے شوہر ابوبکر اور دیگر ورثاء نے کہا ہے کہ ہم حصول انصاف تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ڈی ایچ او ڈاکٹر وسیم نے کہا ہے کہ انکوائری کے لیے فریقین کو طلب کریں گے اور جو بھی اس سے بے ضابطگی میں ملوث پایا گیا اسے سزا ملے گی ۔

ڈلیوری کیس

مزید : ملتان صفحہ آخر