کوہ سلیمان کے سیلابی پانی نے مزید 7دیہات ڈبو دئیے، متاثرین سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور

کوہ سلیمان کے سیلابی پانی نے مزید 7دیہات ڈبو دئیے، متاثرین سڑکوں پر پناہ لینے ...

  



مظفر گڑھ، کوٹ ادو، وہاڑی، راجن پور(نمائندگان) وہاڑی، مظفر گڑھ اور راجن پور ضلعی انتظامی افسران کا حفاظتی بندوں کا معائنہ کیا۔ جبکہ کوہ سلیمان کے سیلابی پانی نے مزید 7دیہات ڈبو دیئے۔ متاثرین سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور، علاقہ بچھادھ کا راجن پور سے زمینی رابطہ دوسرے (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

روز بھی منقطع رہا۔ تفصیل کے مطابق، مظفر گڑھ سے سپیشل رپورٹر، سٹی رپورٹر، کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق ڈی سی او شوکت علی نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکمہ جات سیلاب کے سلسلے میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیںیہ بات انہوں نے دریائے چناب کے کنارے فلڈبندوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہی، اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی اور ڈی او ریسکیو 1122 ڈاکٹر ارشاد الحق ان کے ہمراہ تھے ، ڈی سی او نے ریسکیو 1122، محکمہ صحت، محکمہ مال ، محکمہ لائیو سٹاک اور دیگر متعلقہ محکموں کی طرف سے امدادی اور ریلیف کے انتظامات کا جائزہ لیا اور ان پر اطمینان کا اظہار کیا، ڈی سی او نے ہدایت کی کہ سیلاب آنے کی صورت میں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے ، ان کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے ، ریلیف کیمپ کے قیام ، ریلیف کیمپوں میں تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے انتظامات کو مرتب کئے گئے پلان کے مطابق حتمی شکل دی جائے۔ وہاڑی سے بیورو رپورٹ،نا مہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسر علی اکبر بھٹی اور ڈی پی او چودھری محمد سلیم نے ہیڈ اسلام اور اس سے ملحقہ حفاظتی بندوں کاتفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سید آصف حسین شاہ ، ایکسیئن انہار ہیڈ اسلام محمد افضل ، ایکسیئن انہار ویسٹرن بار ، ایس این اے شیخ خرم سلیم ،سول ڈیفنس آفیسر محمد یونس انجم،بھی موجود تھے ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے ممکنہ سیلاب کی صورت میں امدادی کاموں کے لیے پرائیویٹ کشتی مالکان سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ سیلاب آنے کی صورت میں وہ قومی جذبہ کے تحت لوگوں کے انخلاء کے لیے کام کریں۔ انہوں نے ایکسیئن انہار کو ہیڈ اسلام سے ملحقہ غیر قانونی زمیندارہ بند فوری ہٹانے کے لیے کارروائی کی ہدایت کی ایکسیئن ہیڈ اسلام نے بتایا کہ اسلام ہیڈورکس پر تقریبا 3لاکھ کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش ہے تاہم سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریائے ستلج میں پانی کی مقدار نہایت قلیل ہے بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے پر ہی ستلج میں سیلاب کا امکان ہو سکتا ہے فی الحال دریا معمول کے مطابق بہہ رہا ہے ڈاؤن سٹریم پانی کا بہاؤ صرف24سو کیوسک ہے ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے حفاظتی بند کے مختلف مقامات پر ضروری مرمت اور دیکھ بھال کی بھی ہدایت کی ۔راجن پور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر، نامہ نگار کے مطابق ڈی سی او ظہور حسین گجر نے رودکوہی کے سیلابی راستوں کا ٹیم کے ہمراہ دورہ کیا اور کہا کہ اس وقت کاہاسلطان نالہ 7122کیوسک اور چھاچھڑنالہ صفر کیوسک چل رہا ہے اور یہ پانی اپنے قدرتی راستوں سے ہوتا ہوا دریائے سندھ میں جا رہا ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ اپنے معمول کے مطابق نارمل حالت میں چل رہا ہے ۔اگر کہیں نقصان ہو گا تو اس کو سروے کرنے کے بعد ازالہ کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ متوقع سیلاب سے نمٹنے کے لئے الرٹ ہے ۔ڈی سی او نے حاجی پور ،جام پور ،سون واہ اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ڈسٹرکٹ فلڈ کنٹرول روم راؤنڈ دی کلاک الرٹ ہے۔ دریں اثناء کوہ سلیمان کے سیلابی پانی نے مزید دیہات ڈبو دیئے ،متاثرین نے سڑکوں پر پناہ لے لی ،گذشتہ اڑھتالیس گھنٹوں سے بے سروسامانی کے عالم میں موجود ہیں ضلعی انتظا میہ کاایک بھی اہلکار مدد کو نہ آیا متاثرین سیلاب کااحتجاج سیلاب سے علاقہ پچادھ کے کئی دیہات کازمینی رابطہ دوسرے روز بھی راجن پور سے منقطع رہا کئی علاقوں میں سیلاب کے باعث بجلی بھی اڑھتالیس گھنٹوں سے بند ہے جس سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے رودکوہی کاہا سلطان سے آج بھی سات ہزار کیوسک پانی جاری رہا جس نے مزید علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے متاثرین سیلاب کی بڑی تعداد نوشہرہ غربی ،چٹول ،داجل کے مضافات اور چک شہید روڈ پر موجود ہے متاثرین کا کہنا ہے کہ فصلات تو تباہ ہو چکیں سیلاب سے جتنا سامان نکال سکتے تھے نکال لائے اب خشکی پر اپنے معصوم بچوں سمیت بیٹھے ہیں کسی نے تپتی دھوپ سے بچنے کے لئے خیمہ فراہم کیا اور نہ ہی امدادی سامان ،بچے کل سے بھوک سے نڈھال ہیں دوسری جانب ضلعی انتظا میہ سب اچھا ہے کاراگ الاپ رہی ہے۔متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

سیلاب

مزید : ملتان صفحہ آخر