کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کیخلاف متحدہ کی بھوک ہڑتال کا آغاز

کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کیخلاف متحدہ کی بھوک ہڑتال کا آغاز

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کی غیر قانونی گرفتاریوں ، چھاپوں ، جبری گمشدگیوں ، جھوٹے ، بے بنیاد مقدمات ، سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی اور قائد تحریک کی میڈیا کوریج پر غیر آئینی قدغن کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے جمعرات کو دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال شروع کردی گئی ۔ پہلے روز علامتی بھوک ہڑتال کا آغاز ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اسلم آفریدی ، گلفراز خان خٹک ، ساتھی اسحق ، سید اشرف نور اور اکرام راجپوت نے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں دوپہر 1:00بجے بیٹھ کر کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار ،، رابطہ کمیٹی کے اراکین اسلم آفریدی ، گلفراز خان خٹک ،جاوید کاظمی ، ساتھی اسحاق ، سید اشرف نور ، اکرم راجپوت ، فیض محمد فیضی ، محمد شاہد ،رکن الدین ، محمد ذاکر ، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ، منتخب بلدیاتی نمائندے ، ایم کیوایم کے شعبہ جات کے اراکین ، ایم کیوایم کے شہداء کے لواحقین ، اسیروں و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اور حق پرست منتخب بلدیاتی نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجودہے ۔ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور دیگر شرکاء نے جب بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھ کر علامتی بھوک ہڑتال کا باقاعدہ آغاز کیا تو انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں ایم کیوایم کے تحریکی اور تنظیمی ترانوں کی ریکارڈنگ بجائی جاتی رہی ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’جینے دو جینے دو کراچی کو جینے دو ‘‘’’نامنظور نامنظور رینجرز گردی نامنظور ‘‘’’غیرقانونی چھاپے و گرفتاریاں بند کرو ‘‘’’مہاجر اس وطن عزیز کی ایک اکائی ہیں انہیں جینے کا حق فراہم کرو ‘‘’’ایم کیوایم کے خلاف میڈیا ٹرائل بند کرو ‘‘’’مہاجروں کی نسل کشی بند کرو ‘‘’’ایم کیوایم کے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں اور بلاجواز چھاپوں پر اہل کراچی سراپا احتجاج ہیں ‘‘ اور دیگر مطالبات اور کلمات جلی حروف میں تحریر تھے جبکہ علامتی بھوک ہڑتال کے شرکاء وقفے وقفے سے ’’ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘‘’’غیر قانونی چھاپے و گرفتاریاں بند کی جائیں

مزید : کراچی صفحہ اول