آئی جی نے شہریوں کو ڈاکوؤں سے نمٹنے کا مشورہ دیدیا

آئی جی نے شہریوں کو ڈاکوؤں سے نمٹنے کا مشورہ دیدیا

  



تجزیہ:۔نعیم الدین

کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں پر قابو نہ پایا جاسکا۔ جس کے بعد پولیس کے سربراہ کو مجبوراً شہریوں کو ڈاکوؤں اور رہزنوں کے خلاف لائسنس والا اسلحہ استعمال کرنے کا مشورہ دیدیا۔ شہریوں نے آئی جی کے اس مشورہ کو سراہا ہے۔ لیکن دوسری جانب ماضی کی یہ مثال بھی سامنے آتی ہے کہ جب شہریوں نے ڈاکوؤں اور رہزنوں سے تنگ آکر ان کو پکڑ کر زندہ جلانا شروع کردیا تھا۔ جس کے لیے پولیس نے روک تھام شروع کردی تھی ، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پولیس اور رینجرز دونوں اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کی کوشش تو کرتے رہے ہیں ، مگر ڈاکو باز نہیں آئے اور بعض علاقوں میں وارداتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں دیکھی گئی۔ البتہ رینجرز کے آپریشن کے بعد کچھ بہتری ضرور آئی تھی، مگر تین چار ماہ بعد اُس میں اچانک اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ۔کیونکہ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع نہ کرنے کی صورت میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا۔ شہریوں کا یہ شکوہ بھی سامنے آیا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں وہ ڈاکوؤں کا مقابلہ کیسے کرسکیں گے۔ حالانکہ گذشتہ دنوں ناظم آباد میں پیش آنے والی ایک ڈکیتی کی واردات میں شہری نے ڈاکوؤں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ، جس پر آئی جی سندھ نے اس کی بہادری کو دیکھتے ہوئے 50ہزار روپے نقد اور تعریفی سند دی تھی۔ اس واردات میں استعمال ہونے والا پسٹل ایک خاتون کی ملکیت ہے جو باقاعدہ لائسنس یافتہ تھا ۔ یہ بات پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے کہ سندھ میں کسی خاتون کے پاس لائسنس والا اسلحہ تھا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبے میں کتنی خواتین کے پاس لائسنس والا اسلحہ ہے، اس سے خو اتین میں بھی لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کا رحجان بڑھے گا۔ اصولی طور پر کراچی میں لگائے گئے ویڈیو کیمروں کا دائرہ کار بڑھایا جائے ، اورساتھ ہی اُن کیمروں کی مانیٹرنگ اور مینٹیننس کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس جگہ واردات ہوتی ہے وہاں کے کیمرے ہی کام نہیں کررہے ہوتے ہیں ۔ دوسری جانب شہریوں کا آئی جی سندھ سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ پولیس کے اندر سے کالی بھیڑوں کو نکالا جائے اور ایمانداری سے اسنیپ چیکنگ کی جائے ، کیونکہ اس چکر میں کریمنلز پولیس کو خوش کرکے نکل جاتے ہیں اور پولیس صرف کاغذات دیکھنے پر اکتفا کرتی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...