مجھ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ،بچوں پر جھوٹے مقدمات درج ہوئے ،کسی نے ایک نہ سنی :عذرا آفریدی

مجھ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ،بچوں پر جھوٹے مقدمات درج ہوئے ،کسی نے ایک نہ سنی ...

  



لاہورپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی پریس کانفرنس میں شکایت کے لئے آنے والی اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر صوابی میڈم عذرا آفریدی نے کہا ہے کہ میرٹ کا بول بالا کرنے اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں مجھ پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ الحفیظ و لامان ۔میرے خلاف بے جا الزامات کے تحت انکوائریاں کروائی گئیں ، میری تنخواہ روک دی گئی ، معطل کرنے کی کوشش کی گئی اور معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ میرے کمسن اور معصوم بچوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کیا گیا ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا اور ہم سب کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ۔گزشتہ روز روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عذرا آفریدی کا کہنا تھا کہ میرا تعلق علی پور سے ہے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 2011ء میں مینجمنٹ کیڈر میں گریڈ 16پر اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی میرے ماتحت 76گرلز سکولز تھے مجھے شکایات ملیں کہ ان میں سے اکثر بند پڑے ہیں کئی ایک تو مویشی کے باڑے کی شکل اختیار کئے ہوئے تھے جبکہ اکثر بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہے ہیں دور دراز علاقوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد اساتذہ سکول آنے کی زحمت نہیں کرتے تھے جبکہ طالبات اور ان کے والدین تعلیم نہ ہونے کے باعث سخت پریشان تھے میں نے ان اداروں کا وزٹ کیا اور وہاں متعلقہ عملے سے پوچھ گچھ کے بعد رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوائیں کوئی شنوائی نہیں ہوئی یہ تو اپنی جگہ لیکن اوپر سے نیچے تک سارا عملہ میرے خلاف ہو گیا کلرک سے سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر تک ہر ایک نے میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا ایس ڈی ای او نے اس قدر شرمناک کردار ادا کیا کہ بیان سے باہر ہے مجھے ایک کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھی دیا گیا ۔2013ء میں پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد میرے خلاف انتقام کا شکنجہ مزید کس دیا گیا اور مجھ سے اعلیٰ حکام نے زبردستی ایک کاغذ پر دستخط کروائے کہ میں ضلع صوابی جانا چاہتی ہوں پھر وہاں بھجوا کر مزید سختیاں کی گئیں مجھے کام کرنے سے روکا گیا اور کلرکوں کے آفس میں بیٹھنے پر مجبور کیا گیا اب کئی ماہ سے میری تنخواہ بند ہے ۔میڈم عذرا آفریدی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، گورنر خیبرپختونخوا اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے کمیشن مقرر کر کے شفاف انکوائری کروائی جائیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...