سرکاری سکول کی منظوری کے بعد شوہ تحصیل منتقلی پر جواب طلب

سرکاری سکول کی منظوری کے بعد شوہ تحصیل منتقلی پر جواب طلب

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کی جسٹس مسر ت ہلالی اور جسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے میرعلی وزیرستان کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری سکول کی منظوری کے بعد شوہ تحصیل منتقلی کے خلاف دائررٹ پرمتعلقہ حکام سے جواب مانگ لیافاضل بنچ نے غلام محی الدین ملک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرمختیاراحمد کی رٹ کی سماعت کی تو اس موقع پرانہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں میں تعلیم عام کرنے کے لئے ماڈل سکول پراجیکٹ کاآغاز کیااورمیرعلی کے لئے سکول کی منظوری دی گئی تاہم اب دوبارہ ایک اشتہار میں مذکورہ سکول میرعلی کی بجائے شوہ منتقل کردیاگیاہے حالانکہ اس حوالے سے متعلقہ عمائدین نے متعلقہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا کو اس خدشے سے آگاہ کیاتھا مگرمتعلقہ حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ سکول میرعلی ہی میں قائم ہوگا مگریہ خدشہ درست ثابت ہوا اورسکول کو میرعلی کی بجائے شوہ کے مقام پرمنتقل کردیاگیاہے اس دوران فاضل بنچ نے ریمارکس میں کہاکہ آیاہائی کورٹ کے پاس فاٹاسے متعلق امورکی سماعت کااختیارہے جس پردرخواست گذار کے وکیل نے کہاکہ یہ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اورایسے امورکی ہائی کورٹ کو سماعت کااختیار حاصل ہے جس پر متعلقہ حکام سے جوا ب مانگ لیاگیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...