ملاکنڈ ڈویژن کی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے پیکج کا اعلان کیا جائے :مشتاق احمد خان

ملاکنڈ ڈویژن کی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے پیکج کا اعلان کیا جائے :مشتاق احمد ...

  



بونیر (ڈسٹرکٹ رپورٹر )جماعت اسلامی پاکستان کے صوبائی وزیر مشتاق احمد خان نے کہاہے کہ ملاکنڈ ڈویژن ملک کا پسماندہ ترین ڈویژن ہے ۔یہ ملک کے دوسرے ڈویژن و اضلاع سے ترقی میں 70 سال پیچھے ہیں ۔مملکت خداد اد پاکستان 1947 میں وجود میں آیاہے ۔جبکہ ملاکنڈ ڈویژن 1969 میں پاکستان کا حصہ بنا ۔مرکزی حکومت ملاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی قسم کے ٹیکسوں کی مہم جوئی کرنے کرنے کی بجائے یہاں کے عوام کی حالت زار بدلنے کے لئے پانچ سو ارب روپے کی خصوصی پیکج دے ۔تاکہ دہشت گردی ،بے روز گاری اور غربت کے مارے ڈویژن کے عوام اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے ۔کرپشن ،اقربا ء پروری کے خاتمہ ،میرٹ کی بالا دستی ،صوبہ کے عوام کو انصاف پر مبنی معاشرہ کے قیام کے حصول کے لئے پی ۔ٹی ۔آئی کا ساتھ دیاہے اور پچھلے تین سالوں جماعت اسلامی اور پی ۔ٹی ۔آئی کی مشترکہ حکومت نے کافی اہداف حاصل کی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز مدرسہ اسلامیہ تعلیم القران کوگا میں عظمت قران کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے خصوصی گفتگوں میں کیا ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی آمیر غلام مصطفی ایڈوکیٹ ۔ضلع ناظم ڈاکٹر عبید اللہ ۔سابق سپیکر بخت جہان خان ۔سابق ضلعی آمیر محمد خنیف ۔زون 79 کے آمیر محمد حلیم باچا ۔مدرسہ اسلامیہ تعلیم القران کے مہتمم زین الابرار ،زون 77 کے آمیر بہرام زیب خان ،ضلعی جنرل سیکرٹری شاہ روم باچا ،ضلعی زکوات چیئر مین عبدالغفار بھی موجود تھے ۔صوبائی آمیر نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام ،سیاسی جماعتوں کے قائیدین ،تاجر برادری ،میڈیا کے نمائندوں اور سماجی تنظیموں نے کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف متحد ہوکر مشترکہ جدو جہد کے نتیجے میں مرکزی حکومت کو کسٹم ایکٹ واپس لینے پر مجبور کیا ،جو ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی فتح ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی قسم کی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہوگی ۔اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پہلے سے مصیبت میں مبتلا ملاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں لوگوں کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیں ،انہوں نے کہا پچھلے تین سالوں سے وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو انکا جائیز و قانونی حق نہیں دے رہی ہے ۔وفاق کے ذمے صوبہ خیبر پختون خواہ کے اربوں روپے واجب الادا رقوم سے دو ارب روپیہ دی ہے ۔مرکزی حکومت کی اس ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے صوبائی حکومت مالی مشکلات سے کا شکار ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اپنی ائینی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے صوبہ کا واجب الادا اربوں روپے کی ادائیگی کو یقینی بنائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر