ضرب عضب اور سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی :ناصر خان درانی

ضرب عضب اور سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ...

  



پشاور( کرائمز رپورٹر)نسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان درانی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہاہے۔ اس صوبے کے عوام نے بڑی صعوبتیں برداشت کیں اور ترقیاتی کام بُری طرح متاثر ہوئے۔ پولیس ،فوج اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اس صوبے کے باسیوں نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف بے شمار لازوال قربانیاں پیش کی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے آج نشتر ہال پشاور میں یوم شہدا پولیس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سال 2002سے لیکر اب تک 1278پولیس افسروں و جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ 2475جوان زخمی ہوئے ۔ ضروری آوزار اور آلات کی کمی اور محدود وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس نے حیران کن جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے 1035واقعات کو ناکام بنایا۔ اور خیبر پختونخوا پولیس کی ان لازوال قربانیوں کی بدولت عام لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب اور بندوبستی علاقوں میں پولیس کی مسلسل سخت کوششوں اور سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کی بدولت دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ۔ تاہم افغانستا ن کے ساتھ مشترکہ طویل اور غیر محفوظ سرحد کی بدولت یہاں پولیسنگ بڑی مشکل ہوگئی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں دہشت گردی کے حملوں اور سیکورٹی کی خراب صورتحال کا اثر براہ راست اس صوبے پر پڑ رہاہے۔ ایسی صورتحال میں پولیس کو پروفیشنل اور جہوری طریقے سے اور زیادہ متحرک اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیارکرناضروری ہوگا تاکہ وہ ان چیلنجوں سے بہتر انداز میں نبردآزما ہو سکے۔موجودہ صوبائی حکومت نے سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر اپنے تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر ان حالات سے نمٹنے کے لیے مستقبل کے ویژن کے مطابق ایک لائحہ عمل آپنایا۔ اُنہوں نے کہا کہ حال ہی میں نافذ کردہ پولیس آرڈیننس سے اختیارات اور احتساب کا ایک نیا نظام متعارف ہوگیاہے۔ اس نئے نظام کے تحت خیبر پختونخوا پولیس کو بیوروکریسی سے آزاد ہو کر خود مختار بنا دیا گیا ہے۔ اور جمہوری طریقے سے عوامی ادارے اس کی نگرانی کرے گا۔ اب پولیس سیاسی طور پر غیر جانبدار اور آپریشنل معاملات میں خود مختار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت محکمہ کے اندر احتساب کے لیے مختلف فورمزیعنی پرونشل پبلک سیفٹی کمیشن، ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن پولیس کی کارکردگی اور غلط کاموں کی نشاندہی کے لیے قائم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح اس نئے نظام کے تحت عوامی خدمت کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات جیسا کہ پولیس اسسٹنس لائنز (Police Assistance Lines)، پولیس ایکسز سروس(Police Acess Service) ، تنازعات کے حل کے لیے بنائے گئے کونسلوں (DRCs)کوادارہ جاتی درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات جیسا کہ بم ڈسپوزل یونٹ (BDU) کینائن یونٹ اور سپیشلائزڈ سکولز جیسا کہ سکول آف انوسٹی گیشن، سکول آف ٹیکٹس، سکول آف انٹیلی جنس، سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائیوٹ منیجمنٹ، سکول آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سکول آف ایکسپلوزیو ہینڈلنگ کو ایک قانونی تحفظ فراہم کرکے مستقبل میں پولیس کی کارکردگی اور بہتر کرے گی۔اس قانون کے تحت محکمہ کے اندر اور بھی شفافیت آئے گی۔ اور بھرتی بذریعہ این ٹی ایس، ترقی/ پروموشن بذریعہ پبلک سروس کمیشن اور محکمے کی خریداری عوامی اشتراک کے ذریعے کیجائیگی۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ یہ صوبے میں اچھی حکمرانی کی تاریخ کے حوالے سے بڑی تبدیلی کی مثال بنے گی۔ اب خیبر پختونخوا کی پولیس حکومتِ وقت کی مسلح گروپ کی بجائے ہر ایک کی پولیس ہوگی اور عوام کے خادم کے طور پرفرائض سرانجام دے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام پُرانی خامیاں/خرابیاں راتوں رات تبدیل نہیں کئے جاتے لیکن یہ قانون صحیح سمت کی طرف ایک اچھا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب یعنی حکومت، عوام اور پولیس ملکر مطلوبہ مقاصد کو ایک پروفیشنل طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ عوام کا تحفظ اور اس کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرناخیبر پختونخوا پولیس کا طرہ امتیاز ہے ۔ خیبر پختونخوا پولیس نے وہ سب کچھ کرکے دکھایا جسکی مثال نہیں ملتی اور وہ اپنے مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو اپنی شہداء پر فخر ہے۔ اور یہ فورس عزت کاعلم / جھنڈا ہمیشہ اونچا رکھے گا۔ ہم کبھی بھی فرائض کے دوران انکی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہم انکی خاندانوں کی ہر ممکن بہتر دیکھ بھال کرسکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...